پاکستانی خواتین باہمت اور پُر عزم ہیں

پاکستانی خواتین باہمت اور پُر عزم ہیں

دل میں راحت کی ایک لہر دوڑتی ہے جب پاکستانی خواتین کا نام ان کارہائے زندگی میں نمایاں و ممتاز دکھائی دیتا ہے جن کے لئے ہمت ،جرأت اور دلیری درکار ہوتی ہے اور جو عموماً مردوں کے ہاتھوں انجام پاتے ہیں۔ حال ہی میں عساکر پاکستان کی 22خاتون افسروں نے پیراٹروپنگ کے مظاہرے میں شاندار کامیابی حاصل کی اور اپنی صنف کا نام روشن کیا ہے۔ فخر کا احساس ہوتا ہے ایسی خبروں سے آگاہی پا کر۔ ہماری عورتیں اگرچہ ایک ترقی پذیر ملک سے تعلق رکھتی ہیں تاہم ان کی کارکردگی ترقی یافتہ ممالک کی خواتین سے کسی طور کم نہیں ہے۔ ہماری خواتین نے علم و ادب، تحقیق، طبق، انجینئرنگ، سائنس، مہم جوئی اور عسکری میدان میں خوب نام پیدا کیا ہے۔ ہماری قابل اور ہنر مند خواتین ملکی عزت و وقار کا جھنڈا اس طرح لہراتی ہیں کہ پوری دنیا کی نگاہیں پاکستان پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ ثمینہ خیال بیگ ایک ایسی ہی پر عزم خاتون ہے جن نے 2013ء میں ، 23سال کی عمر میں ، دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ پر پاکستان کا جھنڈا لہرایا تھا۔ اس پر اعتماد اور دلیر خاتون کے بارے میں ہم آج مزید جانکاری کرتے ہیں۔

پاکستان کی ثمینہ خیال بیگ (پیدائش 19ستمبر 1990ء) بلند چوٹیاں سر کرنے والی کوہ پیما ہے۔ وہ پہلی مسلم اور پاکستانی خاتون ہے جس نے 23برس کی عمر میں ایورسٹ کی چوٹی سر کی ہے۔ ثمینہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پہلی پاکستانی اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون ہے جس نے دنیا کی سات بڑی چوٹیاں سر کی ہیں۔

گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ کے گاؤں شمشال سے تعلق رکھنے والی ثمینہ بیگ نے پندرہ برس کی عمر میں اپنے بڑے بھائی مرزا علی بیگ سے کوہ پیمائی کی تربیت حاصل کرنا شروع کی تھی۔ آرٹس کی اس طالب علم نے چار سال کی عمر ہی میں پہاڑوں پر چڑھنا شروع کر دیا تھا۔ ثمینہ بیگ نہ صرف پہاڑی گائیڈ رہی ہے بلکہ اس کی سرکردگی میں ہندوکش اور قراقرم کی کئی مہمیں کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہیں۔

یہ جرّی خاتون2009ء سے ایک پیشہ ور کوہ پیما ہے۔

19مئی 2013ء کو ثمینہ بیگ نے ایورسٹ کی چوٹی پر جب قدم رکھا تو وہ پہلی پاکستانی خاتون اور تیسرا پاکستانی فرد تھی جسے یہ اعزاز حاصل ہوا تھا۔ دو بھارتی جڑوا بہنیں تاشی اور ننگشی ملک بھی ثمینہ کے ہمراہ اس مہم میں شریک تھیں۔ تینوں خاتون کوہ پیماؤں نے پاکستان اور بھارت کے جھنڈے چوٹی پر نصب کئے اور باہمی امن کے لئے دعا کی تھی۔ ایورسٹ پر چڑھنے سے قبل ایک انٹرویو میں ثمینہ نے کہا کہ وہ اس مہم سے خواتین کا نام روشن کرنا چاہتی ہے۔ ایورسٹ کی اس مہم میں ثمینہ کا بھائی مرزا علی بیگ بھی اس کے ہمراہ تھا لیکن وہ چوٹی سے 248میٹر پیچھے ہی رک گیا تھا۔ اس نے ثمینہ کو تنہا آگے بڑھنے کی ہدایت کی تاکہ پاکستانی خواتین کی ہمت و قوت کی ایک روشن مثال قائم کی جاسکے۔ ثمینہ بیگ اور اس کی ٹیم نے یکم اپریل کو مہم کا آغاز کیا تھا اور 48دنوں کی پر مشقت چڑھائی کے بعد وہ چوٹی پر پہنچی تھی۔ جس روز انہوں نے ایورسٹ کی چوٹی پر قدم رکھے، اس روز ایورسٹ کے اولین کوہ پیماؤں ایڈمنڈ ہلری اور شرپاتن سنگ کی کامیابی کی 60ویں سالگرہ تھی۔ ثمینہ بیگ کی کامیابی پر صدر پاکستان نے مبارکباد کا فوری پیغام ارسال کیا تھا۔

’’میرے خیال میں یہ ایک ایسی مہم ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ ثمینہ کہتی ہے۔ ’’میرے بھائی اور میں نے کوہ پیمائی کا سلسلہ اس لئے شروع کیا تھا کہ ہم کسی بھی مہم جوئی میں مرد اور عورت میں برابری ثابت کرسکیں۔ اپنے بھائی کی مدد کے بغیر ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچنا اس لئے بھی ضروری تھی کہ میں عورتوں کے مجاز ہونے کا عملی نمونہ پیش کرسکوں۔ اللہ پاک کا شکر ہے کہ میں دونوں ہی ارادوں میں کامیاب رہی‘‘۔

ثمینہ نے کہا ’’ ایورسٹ کی چوٹی پر میں نے جونہی قدم رکھا، میں نے رب العزت کا شکر ادا کیا کہ جس نے مجھے ہمت ، قوت اور حوصلہ عطا کیا تھا۔ میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے‘‘۔

ثمینہ کہتی ہے۔ ’’ ایورسٹ کی چوٹی پر پاکستان کا جھنڈا لہرانا ایک ناقابلِ یقین حقیقت دکھائی دیتا ہے۔ ایک خواب سا معلوم ہوتا ہے۔ اس مہم میں جو ہمت میں نے دکھائی اس کی انفرادی حیثیت نہیں تھی بلکہ میں تمام پاکستانی خواتین کی نمائندگی کررہی تھی‘‘۔

ثمینہ کے بھائی مرزا علی بیگ کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی بہن کو جرأت اور ہمت کا سبق دیا تاکہ وہ دنیا پر صابت کرئے کہ پاکستانی خواتین کسی بات کو کرنے کا عزم کرلیں تو دنیا کی بلند اور پر کٹھن چوٹیاں بھی ان کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتیں۔

بلاشبہ یہ بات صحیح اور سچی ہے۔ صحافت کے میدان میں مجھے 27برس ہو رہے ہیں۔ میرا تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ ہماری خواتین میں زبردست ذہنی، علمی اور عملی تبدیلیاں رو نما ہوئی ہیں۔ آج پاکستانی خاتون پر اعتماد ہے اور ملکی ترقی میں اپنا کردار بہ احسن و خوبی سر انجام دے رہی ہے۔ فوج، فضائیہ اور بحریہ کی 22خواتین نے پیراٹروپنگ میں جس ہمت و جرات کا مظاہرہ کیا ہے وہ میری رائے کی تصدیق کرتا ہے۔ میں اپنی خواتین سے بے حد پر امید ہوں کہ وہ نہ صرف قوم اور ملک کی بہتری اور بہبود کے لئے بڑھ چڑھ کر کام کریں گی بلکہ نئی نسل کی تعمیر اس نہج پر کریں گی جس نہج کی طرف اشارہ علامہ اقبالؒ اور قائد اعظم ؒ نے کیا تھا۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...