پابندی کے باجود ، ہوٹلوں ورکشاپوں اور دکانوں پر بچوں سے مزدوری لینے کا سلسلہ جاری

پابندی کے باجود ، ہوٹلوں ورکشاپوں اور دکانوں پر بچوں سے مزدوری لینے کا سلسلہ ...

 لاہور( لیاقت کھرل،تصاویر ذیشان منیر) ضلعی حکومت اور محکمہ لیبر کی چشم پوشی، لاہور میں ہوٹلوں، ریسٹورنٹوں اور موٹر سا ئیکلوں کی مرمت وپنکچر سمیت دیگر دکانوں پر بڑے پیمانے پر چائلڈ لیبر کا انکشاف، چائلڈ لیبر ایکٹ 1991 کو فرسودہ قرار دینے اور نئے چائلڈ لیبر ایکٹ 2016ء کا نفاذ ہونے کے باوجود تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ روزنامہ پاکستان کے سروے میں گارڈن ٹاؤن، برکت مارکیٹ، ٹاؤن شپ، گرین ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن ، چونگی امر سدھو، ماڈل ٹاؤن کچہری کی کینٹینوں سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں ہوٹلوں، ریسٹورنٹوں اور موٹر سائیکلوں کی مرمت و پنکچر لگانے والی دکانوں پر سرعام بچوں سے مزدوری لی جا رہی تھی۔ اس موقع پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ محکمہ لیبر نے نئے چائلڈ لیبر کے نفاذ کے بعد بھٹوں پر چائلڈ لیبر کے خلاف کارروائی کی تاہم ہوٹلوں ، ریسٹورنٹوں اور دکانوں پر بچوں سے مزدوری لینے کے خلاف ایک بھی چھاپہ نہیں مارا۔ اس موقع پر موٹر سائیکلوں کو پنکچر لگانے والی دکانوں کے مالکان بابر اور اسلم کا کہنا تھا کہ وہ بھی چھوٹی عمر میں موٹر سائیکل پنکچر کی دکانوں پر کام سیکھنے آئے اور اب درجنوں بچوں کو تربیت دے چکے ہیں۔ محکمہ لیبر چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے چھاپے تو مارتا ہے لیکن غریب بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے آج تک کچھ نہیں کیا گیا جبکہ مصطفےٰ آباد اور گڑھی شاہو سمیت باغبانپورہ ،جی ٹی روڈ پر مچھلی فروش اور موٹر سائیکلوں کی دکانوں پر سرعام چائلڈ لیبرایکٹ کی خلاف ورزی پائی گئی ۔دکانوں پر مزدوری کرنے والے نوعمر بچوں کا کہنا تھا کہ ان کے والدین انہیں تعلیم نہیں دلوا سکتے جس کی وجہ سے مجبوراً مزدوری کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر لیبر لاہور چودھری نصراللہ کا کہنا تھا کہ ہوٹلوں، ریسٹورنٹوں اور دکانوں پر چائلڈ لیبر کی سخت ممانعت ہے۔ چائلڈ لیبر ایکٹ 2016ء کے تحت ہوٹلوں، ریسٹورنٹوں اور دکانوں پر چائلڈ لیبر لینے پر 6 ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس میں بھٹوں پر چائلڈ لیبر کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی ہے۔ اب ہوٹلوں ، ریسٹورنٹس اور دکانوں پر چائلڈ لیبر کے خلاف کارروائی کی جائے گی جس میں رواں ماہ 10 ٹیمیں چھاپے ماریں گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1