4159سائل پسِ پُشت

4159سائل پسِ پُشت

بجلی نا پید، گیس ناپید اور اب پٹرول بھی ناپید۔ دودھ خالص نہیں ‘گوشت خریدنے میں شکوک و شبہات ‘ادویات میں ملاوٹ ‘سٹنٹ بھی نقلی دل کے مریضوں سے بھی دھوکہ۔ کیا ہم پھر سے پتھر کے دور میں جا رہے ہیں؟ سال نو کا سورج اپنی آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوا مگر ہمارے ملک میں سیاہ بختیوں کے سائے گہرے ہوتے دکھائی دینے لگے۔زندگی کا پہیہ جام ہو کر رہ گیاہے کوئی کرے تو کیا کرے ۔ فریادی کس کے پاس جائیں؟واہ جی واہ کیا گڈ گورننس ہے۔ وہی جھوٹے وعدے، جھوٹی تسلیاں۔۔۔ ’’ بجلی گیس اور پٹرول کے بحران پر جلد قابو پا لیا جائے گا‘‘۔ آج دن تک کسی بھی بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ ہمارے حکمران صاحبان جو اپنے آپ کو منتخب نمائندے کہتے ہیں۔ انہیں عوام کے دکھوں اور تکالیف کا احساس تک نہیں۔اورنج لائن ٹرین منصوبہ پر ساری توجہ مرکوز ہے تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل پسِ پشت ڈالے جا رہے ہیں۔جناح ہسپتال میں جگہ نہ ملنے کے باعث ایک غریب بوڑھی عورت ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر اللہ کو پیاری ہو گئی۔ہسپتالوں میں بستروں کا مناسب انتظام نہ ہونا انتظامیہ کی نا اہلی ہے۔

حالیہ دہشت گردی کی نئی لہر نے پوری قوم کو خوف و ہراس کی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔سب کی توجہ دیگر مسائل سے ہٹ کر دہشت گردوں کے خاتمے پر مرکوز ہو گئی ہے۔ایسا ہونا فطری امر ہے ایسا ہونا بھی چاہئے مگر اس کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل کے حل اور انکے خاتمے کی حتمی کوششیں بھی جاری رہنی چاہئیں ۔ ہمارے حکمرانِ اعلیٰ تو ہمہ جہت عوام کا خون نچوڑتے رہتے ہیں ۔پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر کے ستم رسیدہ عوام کے چہروں پر پھیلی ہلکی پھلکی مسکراہٹ بھی چھین لی جاتی ہے۔وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے حوصلے کو بھی داددینی چاہیے۔جو ایسی بھیانک خبریں سناتے ہوئے ذرا بھی نہیں گھبراتے۔دہشت گردی کی ہولناکیوں کے سبب ملک کے دیگر بہت سے مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور ہمارا پیارا وطن ترقی کی راہوں پر گامزن ہوتے ہوئے کچھ دیر کو ٹھٹھک ضرور جاتا ہے۔پاک پروردگار سے دعا ہے کہ وہ دشمنوں کو اپنے ناپاک عزائم میں ناکام بنائے تاکہ ہم من حیث القوم ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکیں۔جہاں تک بد عنوانی کی بات ہے تو اس پر میں صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گی کہ ہر شخص تھوڑی سی دیر کیلئے اپنے نفس کے نہاں خانہ میں جھانک کر دیکھے کیا اسکا نفس بدعنوانی اور کرپشن سے پاک ہے۔اگر ہم اپنے آپ کو ذاتی بنیادوں پر درست کر لیں تو وہ دن دور نہیں جب نیک اور صالح حکمران آ جائیں گے۔ حضرت علیؓ کا فرمان ہے۔جھوٹ بول کر جیت جانے سے بہتر ہے سچ بول کر ہار جاؤ۔ مگر کیسی بے حسی ہے کہ ہم تو مذاق میں بھی جھوٹ بولتے ہیں سنجیدہ لمحات میں بھی جھوٹ بولتے ہیں کبھی خود کو بڑا آدمی ظاہر کرنے کے لئے تو کبھی اپنی اصل حیثیت سے کم تر ظاہر کرنے کے لئے۔کبھی ہم خود کو یوں justify کرتے ہیں کہ مجبوری ہے کبھی کہتے ہیں جھوٹ بولنا ضروری ہے گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہوئے نہ تو ہمارا بدن کانپتا ہے نہ ہی زبان لرزاں ہوتی ہے۔فیس بک اور ٹوئٹر پرتو بے دریغ جھوٹ بولا جاتا ہے۔انجان لوگوں سے مراسم بڑھانے کیلئے نجانے کتنے جتن کئے جاتے ہیں۔ جھوٹ پہ جھوٹ ‘دغا پہ دغا اس پر مضحکہ خیز یہ کہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی فیک اکاوئنٹ پر موجود فیک پرسن سے چیٹنگ کرتے ہیں۔ 99% جاب کیلئے جھوٹیadvertisments پوسٹ کی جاتی ہیں۔ بطورِ خاص خواتین کو ورغلانے کے لئے یہ ذریعہ ابلاغ بے حد موثر ہے۔Job for female کے نام سے جتنی بھی پوسٹس ہوتی ہیں وہ سب کی سب دھوکہ اور فراڈ ہوتی ہیں۔ مجبور لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا ہمارا وطیرہ بن چکا ہے۔بے بس و مجبور خواتین ایسے بے حس درندوں کے ہاتھوں دھوکہ کھانے پر مجبور ہوتی ہیں۔

ہمارے اندر جھوٹ ہمارے باہر جھوٹ ہم سراپا جھوٹ پھر ہم شاکی بھی ہوں کہ فلاں شخص تو بڑا جھوٹا ہے۔حکمران جھوٹے ہیں۔جھوٹے وعدے کرتے ہیں ارے بابا ہم حکمرانوں کی مجبوری کیوں نہیں سمجھتے یہ حقیقت کیوں نہیں تسلیم کر لیتے کہ وہ ہم میں سے ہیں ہمارے جیسے گوشت پوست کے انسان ہیں۔جھوٹ بولنا اُنکی بھی مجبوری ہے ۔انکے لئے ضروری ہے۔

عمران خان صاحب ہمیشہ ایک ہی لکیر پیٹتے ہیں حکمرانِ اعلیٰ جھوٹے ہیں۔اجی کبھی وہ اپنے من میں کیوں نہیں جھانکنے کی جسارت کرتے بتائیں کہ کب کن کن لمحات میں انکو جھوٹ کا سہارا لینا پڑا۔شادی جیسے جائز اور ذاتی مسئلہ پر بھی وہ اس جھوٹ سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے خیر انکی ذاتیات کو زیرِ بحث لانا مقصود ہرگز نہیں۔درحقیقت میں تو محض قوم کے ضمیر کوذرا سا جھنجھوڑنا چاہ رہی تھی۔اگر سمجھا جائے تو بجلی گیس پانی اور پٹرول کے بحران سے بھی بڑا اور خطرناک بحران سچ کا ہے۔کاش ہم سچ بولنا سیکھ جائیں تو باقی برائیاں خود بخود ٹھیک ہو جائیں گی۔پھر ہر قسم کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔دودھ والے اور سبزی فروش سے لیکر افسرانِ بالا تک۔آج کے دور میں کوئی بھی معصوم نہیں ہے ۔اب کسی کو یہ نہیں کہا جا سکتا یہ تو بے چارہ غریب ہے ۔ (وچارا غریب وی عملاں دا پورا ای ہوندا وے) گذشتہ برس میں نے ایک انگریزی میگزین کے ساتھ بطور رپورٹر کام کیا ۔بطور رپورٹر پھل اور سبزی فروشوں کے نرخ سے بھی آگاہی رکھنا پڑی اس دوران ایک پھل فروش کی دکان سے آم کا بھاؤ معلوم کیا تو پھل فروش کہنے لگا ۔باجی! ایک سو چالیس روپے فی کلو کے حساب سے ہیں۔میں نے کہا ریٹ لسٹ دکھاؤ یہ سن کر وہ ششدرگیا نیز کہنے لگا ہم کوئی ریٹ لسٹ نہیں دکھاتے۔اس پر میں نے اپنا آفس کا کارڈ اسے دکھایا تو وہ سٹپٹا سا گیا اور فٹ سے ریٹ لسٹ نکال کر میرے سامنے پیش کر دی جس پر اصل نرخ صرف ستر روپے فی کلو کے حساب سے آم کا ریٹ درج تھا۔لو جی یہ ہے ہماری پبلک ہمارا پسماندہ طبقہ۔یہی وجہ ہے کہ ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کا بھوت بھگائے نہیں بھاگتا۔ مسیحائے عشق ہر ایک سے ہے ذاتی حساب مانگتا۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...