علی گڑھ کالج مانگا کو یونیورسٹی آف انجینئرنگ و ٹیکنالو جی بنانے کا منصوبہ

علی گڑھ کالج مانگا کو یونیورسٹی آف انجینئرنگ و ٹیکنالو جی بنانے کا منصوبہ
 علی گڑھ کالج مانگا کو یونیورسٹی آف انجینئرنگ و ٹیکنالو جی بنانے کا منصوبہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

فستاون سال پہلے علی گڑھ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ اورکچھ مخیر حضرات نے محسوس کیا کہ پاکستان میں ایسے تعلیمی اداروں کی اشد ضرورت ہے، جہاں تعلیم بھی معیاری ہو اور کالج بھی قائم کئے جائیں۔ تعلیم حاصل کرنے والے طلباکے اخراجات بھی کم سے کم ہوں، نیز علی گڑھ کی طرز پر اقامتی سکول اور کالج بھی قائم کئے جائیں اور لڑکیوں کی تعلیم کا بھی اہتمام کیا جائے۔ چنانچہ اس منصوبہ کی 1960ء میں تمام منصوبہ بندی کرلی گئی اور 8 جنوری 1961ء کو مدرستہ العلوم علی گڑھ کے ایک مشہورو مقبول فاضل محبوب عالم صاحب کی رہائش گاہ اپر مال لاہور میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایک ٹرسٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ٹرسٹ کا نام سرسید احمد خاں کے رسالہ تہذیب الاخلاق کے نام پر ’’تہذیب الاخلاق ٹرسٹ‘‘ رکھا گیا، ٹرسٹ کے قواعد و ضوابط بھی تیارکئے گئے اور ٹرسٹ کے عہدیداران اور مجلس عاملہ کے اراکین کا انتخاب بھی عمل میں لایا گیا۔31 جنوری 1961ء کو ٹرسٹ کی رجسٹریشن بھی ہو گئی۔

ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد میں اسلامی تعلیم اور تہذیبی اقدار کا تحفظ اور ترویج، مدرستہ العلوم علی گڑھ کی طرز پر تعلیمی اداروں کا قیام، اجرائے رسائل، کتب خانہ اور لائبریری کا قیام، تعلیمی جلسے منعقد کرنا، مستحق طلباء کے لئے انجمن الفرض قائم کرنا اور تحقیقی کام کے لئے سرسید اکیڈمی کا قیام۔ ٹرسٹ کے زیراہتمام دو تعلیمی ادارے قائم کئے گئے۔ 1965ء میں غالب روڈ گلبرگ میں نیا علی گڑھ سکول/کالج برائے طالبات قائم کیا گیا یہاں پانچویں کلاس تک لڑکے بھی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔

ٹرسٹ نے محسوس کیا کہ موجودہ دور تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبا کو اسلامی وپاکستانی اقدار اور اچھے کردار کاحامل مسلمان بنانے کے لئے ضروری ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طرز پر ایک اقامتی (رہائشی ) سکول وکالج بنایا جائے جو شہر کی تیز رفتار زندگی اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک پُر فضا مقام پر قائم ہو جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی نشوونما، جسمانی اور اخلاقی تربیت کا بھی اہتمام ہو، تاکہ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے بچے جس شعبۂ زندگی میں بھی جائیں اچھے انسان، مخلص پاکستانی اور اسلام سے گہری وابستگی اُن میں نمایاں نظر آتی ہو۔ مزیدبراں ایسا ادارہ قائم کیا جائے جس میں ان طلباء کے لئے تعلیم حاصل کرنے کے یکساں مواقع ہوں جو مہنگے کاروباری تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ان مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے لاہور سے 38 کلومیٹر دور مانگا ملتان روڈ پر 1966ء میں علی گڑھ پبلک سکول قائم کیا گیا‘جہاں اب انٹرمیڈیٹ کی کلاسیں اور کالج بھی بن چکا ہے۔ جہاں بچوں کے لئے ہوسٹل میں رہائش وطعام کا معقول انتظام ہے۔ یہاں پہلی سے ایف ایس سی تک طلباء وطالبات کے لئے علیحدہ علیحدہ کالج ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ دونوں تعلیمی ادارے ترقی کی منازل طے کررہے ہیں۔ مانگا میں کالج کوسرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بنانے کابھی عمل جاری ہے۔ یہ وسیع وعریض سرسبز کالج چار سوکنال یعنی پچاس ایکڑ رقبہ پر محیط ہے، جہاں خوبصورت کرکٹ گراؤنڈ، فٹ بال گراؤنڈ، ہاکی گراؤنڈ اور ان ڈور کھیلوں کا بھی انتظام ہے ۔

سکواڈرن لیڈر (ر) محمد عبدالنعیم خاں دن رات سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے لئے کام کرنیمیں مصروف ہیں۔کالج کے وسیع کیمپس میں کھیلوں کی گراؤنڈ کے علاوہ جامع لائبریری، عالیشان کمپیوٹر لیب، نہایت اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں سے مزین ہوسٹل بھی موجود ہے، جسے بجاطور پر سرسید احمد خاں کے نظریۂ تعلیم وتربیت کا ترجمان کہا جاسکتا ہے۔گزشتہ دنوں شاندار تعلیمی تاریخ اور ریکارڈرکھنے کے حامل اس تعلیمی ادارے کی پچاس سالہ تقریب تقسیم انعامات، یوم والدین کے موقع پر ملک محمد افضل کھوکھر مشیر وزیراعظم مہمان خصوصی تھے۔ تہذیب الاخلاق ٹرسٹ کے چیئرمین محترم غلام علاؤالدین صابری، کالج کے پرنسپل اور سکول کے اسا تذہ کرام ودیگر سٹاف نے ان کااستقبال کیااور انہیں پچاس سالہ تقریبات میں خوش آمدید کہا۔

پڑھائی کے بعد کھیلوں کے پیریڈ شروع ہوتے ہیں جو سکول میں نظام تربیت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ سکول میں جملہ ضروریات سے مزین کھیل کے وسیع وعریض میدان موجودہیں۔ جہاں آرمی اور ائیرفورس کے سابق کوچز کی زیرنگرانی طلبا کو تربیت دی جاتی ہے۔ تمام طلبا کے لئے کھیلوں میں حصہ لینا لازم ہے، جس سے ان میں سپورٹس مین سپرٹ پیدا ہوتی ہے، جو زندگی کی دوڑ میں انہیں آگے بڑھنے میں مدددیتی ہے۔ علی گڑھ سکول وکالج میں قائم ٹریننگ ایریا ایسی جگہ ہے جہاں آرمی، نیوی اور ائیرفورس میں جانے کے خواہش مند طلبا نیم عسکری تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔ علی گڑھ پبلک سکول وکالج میں بورڈنگ یا ہوسٹل میں داخلہ جماعت پہلی سے جماعت گیارھویں تک ہوتا ہے۔ سال میں ایک بار ہی عموماً 23مارچ کو داخلہ ٹیسٹ لیا جاتا ہے، صرف میرٹ پرآنے والے اُمیدوار ہی داخلے کے حق دار ہوتے ہیں۔ اس سال دو مرحلوں میں داخلہ ٹیسٹ کا انتظام کیا گیا۔پہلا داخلہ ٹیسٹ اتوار 26 فروری کو لیا گیا۔ داخلہ ٹیسٹ میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ذہین اور مستحق طلبا وطالبات کے لئے خصوصی وظائف کی سہولت موجود ہے، جس کے تحت ماہوار ایک ہزار روپے تک وظیفہ دیا جاسکتا ہے۔ نیز ہرسال اپنی جماعت میں اول آنے والے طلبا وطالبات بھی دیگر وظائف کے حقدار ہوتے ہیں۔

گزشتہ سال تقریب کے مہمان خصوصی، عالمی شہرت یافتہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں تھے، جنہوں نے سکول وکالج کے بچوں کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں دیکھنے کے بعد کہا تھا کہ کاش میں بچہ ہوتا اور اِس ادارے میں تعلیم حاصل کرتا۔ انہوں نے علی گڑھ سکول وکالج کو شہر کا بہترین تعلیمی ادارہ قرار دیا تھا۔ اس سے پہلے تقریب کے مہمانِ خصوصی برطانیہ کے ایوان بالا کے رکن لارڈ نذیر احمد تھے، جنہوں نے سکول وکالج کے معیار کی بے حد تعریف کی۔ بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ آپ بے حد خوش قسمت ہیں، جنہیں ایسی درس گاہ ملی ہے۔ میں نے ابتدائی تعلیم فیصل آباد کے جس سکول میں حاصل کی تھی، وہاں کرسی میز توکجا، ٹاٹ بھی نہیں تھے،تمام طلبا مٹی کے فرش پر بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ حکومت کو تعلیم کے میدان میں ابھی بہت کام کرنے ہیں۔آج بھی کئی شہروں میں سکولوں کی چھتیں اور دیواریں نہیں ہیں، بچوں کیلئے اچھا تعلیمی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پرائیویٹ سکول اتنے مہنگے ہوچکے ہیں کہ کوئی مڈل کلاس شخص اپنے بچوں کی فیس ادا نہیں کرسکتا۔ پاکستان میں انگلش میڈیم کے نام پر عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے جارہے ہیں، جبکہ کوئی نمایاں پوزیشن لینے والا ان سکولوں سے نہیں نکل سکا۔ حکومت اس سلسلے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں انگلش میڈیم کی نہیں، سرسید ازم سکولوں کی ضرورت ہے، جو اچھے پاکستانی تیار کرسکے۔

مزید : کالم