تعلیم کی بنیادی اکائی تحقیق ہے ، ہم اسے عالمی معیار پر لا رہے ہیں

تعلیم کی بنیادی اکائی تحقیق ہے ، ہم اسے عالمی معیار پر لا رہے ہیں

س: ڈیپارٹمنٹ آف انفارمیشن مینجمنٹ کی ترقی کے لئے آپ کے کیا پلان ہیں؟

ج: پْرجوش بھی ہوں اور پْرامید بھی۔مسائل بھی ہیں اور ان سے نبردآزما ہونے کے لیے منصوبہ بندی بھی چاہتی ہوں۔ شعبہ اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق تحقیقی اور تدریسی میدان میں ترقی کرے اور ہم نصابی سرگرمیوں اور سپورٹس میں اس کی روایتی عظمت بحال رہے۔تحقیق میرا خاص موضوع ہے اور اصل تحقیق ایم فِل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر ہوتی ہے اور میرا خیال ہے کہ ہمارا معیار کسی سے کم نہیں۔ شعبہ میں بہت معیاری کام ہو رہا ہے جو لوگ مجھ سے جونیئر ہیں وہ بھی محنت سے کام کر رہے ہیں اور بہت سا کام ہورہا ہے۔ہماراشعبہ تحقیق میں بہت آگے ہیں اوران کی تحقیق عالمی جرنلز میں شائع ہو رہی ہے۔

مقابلے کی اس فضا ء میں طلباء کوسائنسی خطوط پر لائبریری سائنسز کی جدید اعلیٰ تعلیم کی فراہمی ہماراطر ۂ امتیا ز ہے۔ تعلیم کی بنیا دی اکا ئی تحقیق ہے اور اس تحقیقی ماحول کو پروان چڑ ھا نے کے لیے ہم نے اعلیٰ درجہ کے لائق، قابل اور محنتی اساتذہ کی خدمات حاصل کی ہیں جو تحقیق کے معیار کو بین الاقوامی معیا رکے قر یب لا نے میں کوشاں ہیں۔ میں نے شعبہ کی ترقی کے لئے ایک مر بو ط و جا مع پالیسی اپنا ئی ہے جس میں ریسر چ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے میری کوشش ہے کہ تعلیم وتحقیق کے حوالے سے گرانقدر خدما ت سر انجا م دینے والے ڈیپارٹمنٹ کو مزید اپ گر یڈ کر کے بین الاقومی معیا ر کی یو نیو رسٹیو ں کی صف میں لا کھڑا کروں۔

س:ڈیپارٹمنٹ آف انفارمیشن مینجمنٹ طلبہ و طالبات اور محققین کو کیا سہولیات فراہم کر رہا ہے؟

ج: تحقیق اور معلومات کے وسیع میدان ہمارے سامنے ہیں۔شعبہ کو عالمی شطح پر بہت پذیرائی ملی ہے ۔ ہم معاشرے کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔لائبریری اور کتاب کا روائتی تصور تبدیل ہو چکا ہے اب ریڈر معلومات کے حصول کے لئے کتاب یا لائبریری پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید ذرائع استعمال کرتا ہے ۔ جبکہ ہم حقیقی اور سائبر دنیا میں جی رہے ہیں۔ کمپیوٹرز کے تعارف، انٹرنیٹ، معلومات کی بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل، ورلڈ وائڈ ویب کی ترقی نے دنیا کو گلوبل ویلج بنا دیا ہے۔ دنیا نے جس تیزی سے ترقی کی ہے اس کے لئے ضروری تھا کہ ہم بھی وقت کی رفتار کے ساتھ چلیں۔

یہ بات قابل فخر ہے کہ پنجاب یونیورسٹی لائبریری سائنس کی رسمی تعلیم دینے میں ایشیاء کا پہلا اور دنیا کا تیسرا ادارہ ہے۔ انٹرنیٹ کی ایجاد سے معلومات تک رسائی بہت آسان ہو گئی ہے اور لائبریری و انفارمیشن مینجمنٹ کے مضمون نے بہت اہمیت اختیار کر لی ہے۔ معلومات کے حصول کے منظر نامے میں بہت تبدیلیاں آچکی ہیں اور نئے چیلنجز بھی پیدا ہوئے ہیں کیونکہ معلومات حاصل کرنے والے رویوں میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ ٹیکنالوجی میں جدت کے باعث ڈیٹا سٹوریج میں بھی بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے اور یہ انفارمیشن مینجمنٹ کے لئے ایک چیلنج بھی ہے۔ لائبریریوں کو مقامی ضروریات کے ساتھ ساتھ منسلکہ جہتوں سے بھی آراستہ کرنا ہو گا۔ اس شعبے کو ماحول اور سہولیات کی وجہ سے قومی و بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے اس کے آغاز سے آج تک پاکستان اور بیرون ملک خدمات دینے والے پیشہ ور افراد کی تعدادہزاروں میں ہے۔

لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس پاکستان کا واحد شعبہ ہے جس میں پی ایچ ڈیز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ بین الاقوامی اور قومی جرائد میں تحقیقی مطبوعات کی سب سے زیادہ اشاعت ہمارے ڈیپارٹمنٹ سے ہوتی ہیں۔شعبہ نے 2015ء میں اپنے قیام کا 100 سالہ جشن منایا۔

سرکاری و نجی کاروباری اداروں کی ضروریات کو پورا کرنے اور ان میں مہارت پیدا کرنے کے لئے شعبہ نئے نئے آئیڈیاز متعارف کروارہا ہے۔ ہم اپنے تمام پروگرامز معاشرے کی اُبھرتی ہوئی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ترتیب دیتے ہیں۔ ہمارا وژن ہے ایسے پروفیشنلز تیار کئے جائیں۔جو انسانی، سماجی ، معاشرتی اور اقتصادی ترقی کے عمل کو آگے بڑھائیں۔ انہیں سیکھنے اور تحقیق کے لئے ایک مضبوط پلیٹ فراہم کیا جائے۔ طلبہ کوتعلیمی و تحقیقی سہولیات فراہم کریں تاکہ طلبہ کی سوچ و فکر میں وسعت پیدا ہو اور وہ زیادہ بہتر طور پر پیشہ وارانہ امور سر انجام دے سکیں، اس سے طلبہ کی ٹرینگ ہوتی ہے کہ انہیں کس طرح اپنی پروفیشنل لائف گزارنی ہے۔شعبہ طلبہ کو ان مقاصد کے حصول کے لئے اعلی معیار کی تعلیمی وتحقیق پروگراموں کی پیشکش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ریسرچ کے لئے32 پی سی ایس کے ساتھ فنکشنل انٹرنیٹ لیب، اور تیز رفتار انٹرنیٹ کے ساتھ طلبہ کو سکیننگ اور پرنٹنگ کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ مستقل بنیادوں پر انفارمیشن ایکسپرٹس کے لئے پروفیشنل تربیتی پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

شعبہ تحقیق کے لئے اپنے فیکلٹی ممبرز کے علاوہ دوسرے ڈیپارٹمنٹس کے محققین کے لئے بھی تحقیق کی سہولیات فراہم کرتا ہے اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ میرٹ کی بنیاد پر اور ضرورت مند ،ہونہار اور باصلاحیت طلبہ و طالبات کوظائف بھی دئے جاتے ہیں۔

شعبہ میں تمام تر سہولتوں سے مزین ایک مکمل کشادہ لائبریری موجود ہے جو معلومات کے حوالے سے صارفین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے موثر خدمات فراہم کررہی ہے۔ لائبریری کورس کی کتابوں کے علاوہ، حوالہ جاتی اور جنرل کتب، انسائیکلوپیڈیا، لغات، پرنٹ اور آن لائن روزنامچے، رپورٹیں، theses ، مائیکرو فلمز، مائیکرو فیش micro) fiches) اور سی ڈیز پر مشتمل 8000 عنوانات کا ایک بہترین مجموعہ ہے۔ قابل اور تجربہ کار پیشہ ور عملہ بہترین فراہم کرنے کے لئے مصروف عمل ہے.

عالمی کتاب اور کاپی رائٹ کے دن2010ء کے بعد سے ہر سال منائے جاتے ہیں۔

ہم نے طلبہ وطالبات کو پڑھائی کے لئے پرسکون ماحول فراہم کیا ہے ہے جس میں کوئی مداخلت نہیں کرتا ، اساتذہ،محققین اورطالب علموں کو تمام تر سہولیات مہیا ہیں اور اْنہیں پوری آزادی سے کام کرنے دیا جاتا ہے۔ اسی لئے ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے تعلیمی نتائج بہت اچھے ہیں۔ ہم اپنے وسائل میں رہ کر طالب علموں جو ہم سے بہتر سے بہتر ہو سکتا ہے وہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

س:آپ ملکی و غیر ملکی سطح پر جانی پہچانی علمی شخصیت ہیں۔ آپ کو یہ مقام حاصل کرنے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

ج: زندگی جہدِ مسلسل کا نام ہے۔ کوشش اور عمل کا نام ہے ۔ �آج جس مقام پر ہوں اس کے کے لئے میں نے بہت محنت کی ہے ۔ بحیثیت عورت مجھے مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر میں نے ہمت نہیں ہاری، ہمیشہ چیلنجز کو قبول کیا اور ان کا سامنا بھی کیا، شعبہ انفارمیشن مینجمنٹ کو جدید اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لئے میں نے یہاں ہر کام کو ایک چیلنج کی حیثیت سے قبول کیا ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی چیلنج لیتی رہتی ہوں تو بے جا نہ ہوگا۔ ہر دن نیا مقصد میرے سامنے ہوتا ہے اور اس کے بہت مثبت نتائج سامنے آئے ۔

میں تو اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہوں جس نے مجھے اتنی عزت اور کامیابیوں سے نوازا،جو کچھ میں نے سیکھا ہے، اسے نئی نسل کو منتقل کر رہی ہوں۔

س: ڈیپارٹمنٹ آف انفارمیشن مینجمنٹ میں اب تک کیا ترقیاتی اقدامات کئے گئے ہیں؟

ج:ترقی کا یہ سفر بہت طویل ہے۔ ہماری پہلی ترجیح فیکلٹی کے شعبے کو بہتر بنانا تھا۔ جس میں الحمد اللہ ہم کامیاب رہے۔ پی ایچ ڈی کو پڑھانے والی فیکلٹی میں سب باہر سے پڑھ کر آتے ہیں۔ کوئی ایسا نہیں جو باہر سے پی ایچ ڈی کرکے نہیں آیا۔ ہم بچوں کو ایک قابل فیکلٹی دے رہے ہیں۔ خاص طور پر ہمارے پی ایچ ڈی سسٹم کو اتنا پسند کیا گیا ہے کہ ہماری مثال دی جاتی ہے۔

ہمارا پی ایچ ڈی پروگرام پاکستان کا بہترین پروگرام ہے۔پی ایچ ڈی اور ایم فل پروگرام ہماری پہچان ہیں۔ ہمارے اساتذہ انٹرنیشنل کانفرنسز میں مقالے پڑھنے کے لئے جاتے ہیں جو ہمارے لئے باعثِ فخر ہے۔ شعبہ میں طلبا و طالبات کے لئے ملک بھر سے چن چن کر اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ، یہاں پی ایچ ڈی کے لئے وہی طریقہ کا اختیار کیا گیا ہے جو عالمی سظح کی بہترین یونیورسٹیز میں رائج ہے اور یہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جو کورسز ہم نے آفر کئے ہیں اْن کو پڑھانے اور ریسرچ کا پورا انتظام بھی کیا ہے ، عموماََ کورسز بن تو جاتے ہیں مگر کوئی پڑھنے والا نہیں ہوتا۔ طالبِ علم بھی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ لیکن ہم نے اس طرف خصوصی توجہ دی کی اگر کوئی نیا کورس ڈیزائن ہو گا تو اْ س حوالے سے تمام اقدامات کئے جائیں گے۔

تحقیقی کلچر کو فروغ دینے کے لئے طالب علموں کی تعداد ایم فل اور پی ایچ ڈی میں بڑھائی گئی ہے۔ 10 سے 20 ایم فل اور پی ایچ ڈی کے یہ تعدادلئے 10 سے 15 ہے۔

بطور اْستاد اور محقق میری خواہش تھی کہ قابل اساتذہ اور طلبا و طالبات کے ساتھ مل کر شعبے کی ترقی کے لئے کام کروں۔ میں اس شعبے کو ترقی پسند آؤٹ لْک دینا چاہتی تھی تاکہ نئی نسل جدید دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکے لہٰذاجب ہم نے اس شعبے کو پڑھائے جانے والے لائبریری سائنسز کے نصاب کا جائزہ لیا تو اندازہ ہوا کہ یہ دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے اور ابھی ہمیں بہت سی ایسی ٹیکنالوجیز کی ضرورت ہے جن کو شامل کئے بغیر لائبریری سائنسز پروگرام ادھورا ہے اور جلد مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔ میرے لئے یہ ایک چیلنج تھا لہٰذانصاب میں نت نئے طر یقے متعارف کروائے گئے ہیں۔نصاب میں 2016 سے 2009 کے دوران چار مرتبہ ترمیم کی گئی ہے۔ جنرل کو باقاعد گی سے تحقیقی و معیاری مقالوں کی اشاعت کے لئے ایچ ای سی کی طرف ’’Y‘‘ کیٹگری میں رکھا گیا ہے ۔ اب آن لائن جریدے کے لئے تحقیقی مضامین جمع کرانے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔اب تک ہمارے29ایم فل اور 09 پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کو ایواڈز سے نوازا گیا۔شعبہ مینجمنٹ انفارمیشن ماسٹرانفارمیشن مینجمنٹ، ایم فل انفارمیشن مینجمنٹ اور پی ایچ ڈی انفارمینشن مینجمنٹ کے کورسز آفر کررہا ہے۔

ہماری کوشش ہے کہ ڈیپارٹمنٹ کا پبلکیشن ورک سب سے بہتر ہو اور اس کی ریسرچ پبلیکیشن، انفارمیشن مینجمنٹ کی فیلڈ میں پورے ساؤتھ ایشیا کے اندر وجہ شہرت بنیں۔ہم شعبہ کو صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پورے ایشیا کا سب سے بہترین شعبہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ جب ہمارے طالب علم عملی میدان میں جائیں تو خود پر فخر کریں۔

اس کے علاوہ ریسرچ اینڈ ٹرینگ پر بھر پور فوکس کیا جاتا ہے ۔اس کے لئے ہم نے ریسرچ ایسوسی ایٹس تیار کئے ہیں جو سینئرپروفیسرز کی نگرانی میں کام کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ ہم ٹریننگ بھی دیتے ہیں کیونکہ اس فیلڈ کے اندر پروفیشنل گروتھ کی بہت کمی ہے۔ اس کمی کو ٹرینگ کے ذریعے پورا کے جاتا ہے۔

س: ٹرینگ کی کیا نوعیت ہو گی کچھ وضاحت کریں؟

ج: سیمیناراورورکشاپ کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ جس سے اساتذہ اور طالب علم نہ صرف استفادہ کرتے ہیں بلکہ ان کی تحقیق وتدریس میں بھی بہتری کا عمل نمایاں ہوجاتا ہے اوراس طرح عصری تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کیا جاسکتاہے۔بالخصوص لائبریرینز کو بدلتے زمانے کے ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال اس پردسترس ضروری ہے اسی تناظر میں یہ ورکشاپس بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں جس کے ذریعہ سافٹ ویئر، ویب ڈیزائنگ ،ڈیجیٹلائزیشن اور پروفیشنل ازم وغیرہ کو نئی جہت سے سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا،جو مستقبل کی ضرورت ہیں اگر طالبِ علموں کو ان سے واقفیت نہ ہو تو وہ زمانے کے ساتھ نہیں چل سکیں گے۔ ڈیپارمنٹ ٹر یننگ پر وگرامز ترتیب دینے کے علاوہ یونیورسٹی کی نصابی وتعلیمی سر گر میوں میں ایک نما یا ں حیثیت رکھتاہے۔

س: انفارمیشن مینجمنٹ کے طالبِ علموں کے لئے کیا سکوپ ہیں؟

ج:انفارمیشن مینجمنٹ کے طالب علموں کے لئے کامیابیوں کا ایک وسیع میدان موجود ہے۔ انہیں خود کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے لئے بیشمار ادارے موجود ہیں جہاں وہ اپنی صلاحیتیوں کے جوہر دکھا کر نام پیدا کر سکتے ہیں لیکن اس کے لئے انہیں زیادہ سے زیادہ مہارت حاصل کرنے اور محنت کی ضرورت ہے۔ جسے زیادہ کام آتے ہیں اوہ اپنی جگہ آسانی سے بنالیتا ہے اس لئے طلبا و طالبات کو چاہیے کہ وہ ہر قسم کی مہارت حاصل کرنے کی سعی کریں تاکہ ان کے لئے بہتر امکانات میں اضافہ ہوسکے۔ طلباء میں اس شعبے کی مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے انہیں چاہیے کہ وہ اپنا کورس ختم ہونے کا انتظار کئے بغیر ہی فارغ اوقات میں عملی میدان میں قدم رکھ دیں۔

س:کیاڈیپارٹمنٹ آف انفارمیشن مینجمنٹ کے طلبہ و طالبات کو آسانی سے جوکریاں مل جاتی ہیں؟

ج: ہم نے ایسے تمام پراجیکٹس کو اپنی’’ سکیم آف سٹڈی‘‘ کا حصہ بنایاہے جس سے طالبِ علموں کو علم کے نئے راستے ملیں۔دوسری بڑی بات جو ہم نے اپنے پلان میں رکھی ہوئی ہے کہ ایسے تمام پروگرامز آفر کرتے جن کا گرایجویٹ لڑکا یا لڑکی نوکری کے لئے دھکے نہ کھائے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر جن کورسز کی ڈیمانڈ ہو ،وہی طالبِ علموں کو پڑھائے جائیں۔اور ہمارا مقصد صرف تعلیم دینا ہی نہیں بلکہ طلباو طالبات کو خود اعتماد بھی بنانا ہے ۔ ہمارا پلیسمنٹ سیل اس سلسلے میں طلبِ علموں کی رہنمائی کرتا ہے اور نوکریوں کے حصول کے لئے ان کو تمام تر رہنمائی فراہم کی جاتی ہیں۔ ہمارے گریجویٹس کے لئے ملکی نجی و سرکاری اداروں کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی بے شمار جابز آفرز آتی ہیں اور ہمارے لئے ان کی ڈیمانڈ پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم طلبہ کی مکمل ٹینگ کرتے ہیں تاکہ اکیڈمک منظم و ریسرچ کلچر کو فروغ ملے گا۔

ہم منظم سسٹم کو قاعدوں اور ضابطہ اخلاق کے تابع دیکھنا چاہیے ہیں۔ ملکی ترقی کے لئے ہمیں تعلیم ہی نہیں تعلیم کا معیار بھی پیش نظر رکھنا ہے۔ بوسیدہ وغیر مفید سسٹم سے باہر آنے کیلئے ہمیں اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لانی ہو گی۔طلبہ کی تربیت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ہم انہیں جدید دور کے جدید تقاضوں سے روشناس کرائیں تاکہ ملکی ترقی کا باعث ڈسپلنز کو سمجھ لیں اور ایسے اقدام کریں جس سے ہماری ڈگریاں نسل نو کی پروفیشنل زندگی میں مددگار ثابت ہوں اور عالمی منڈی میں ان کی وقعت بھی بڑھے۔شعبہ تعلیم میں اس وقت تبدیلی کی لہر آ چکی ہے۔ شعبہ تعلیم کے متعلقین میں تکنیکی مہارتوں اور احساس ذمہ داری کا رویہ ابھر رہا ہے ۔

س:ڈیپارٹمنٹ آف انفارمیشن مینجمنٹ میں قومی و بین الاقوامی سطح کے سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کروانے کے حوالے سے آپ کا کیا ویژن ہے؟

ج: قومی و بین الاقوامی سطح کی کانفرنسوں اور سیمینارز منعقد کروانے کا مقصد یہی ہے کہ ہمارے طلبہ و طالبات ، ماہرینِ تعلیم ، لائبریریز سائنسز ایکسپرٹس اور پروفیشنلز مختلف ممالک سے آنے والے طلبہ و طالبات ، ماہرینِ تعلیم ، لائبریریز سائنسز ایکسپرٹس اور پروفیشنلز کے ساتھ ملاقات کریں۔ آپس میں بات چیت ہو گی تو سوچ میں فرق آئے گا۔ ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر جو لائبریری سائنسز کے ادارے ہیں ان سے رابطہ بحال ہوسکے۔ ان رابطوں کو طلبہ و طالبات اور اساتذہ کی بہتری کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہاں سے طلبہ و طالبات پڑھنے کے لئے باہر جائیں۔اس طرح کے رابطوں سے نہ صرف علمی بلکہ سماجی و ثقافتی اعتبار سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔ ہم شعبے کو انٹرنیشنل آؤٹ لک دینا چاہتے ہیں۔

س: آپ اپنے اندر کی لیڈرشپ خوبیوں کو کیسے دیکھتی ہیں ؟

ج:میں نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کروں،اُن کی حوصلہ افزائی کر کے مجھے خوشی ہوتی ہے ۔ میری پوری کوشش ہے کہ ایک ینگ لیڈرشپ تیار کی جائے جو مل کر شعبے کی بہتری کے لئے کام کریں تاکہ جب آپ ادارے سے رخصت ہوں تو بہتر اور قابل لوگ آگے آئیں۔ اس لئے ادارے میں اپنے سٹاف کی ٹرینگ کرنی چاہیے ، انہیں کام کرنے کے مواقع دیں تاکہ اْن کے اندر ایک ٹیم ورک پیدا ہو۔

س : موجودہ حالات میں پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا مستقبل کیا دیکھتی ہیں؟

ج: اعلیٰ تعلیم ہمیشہ صوبوں میں رہی ہے یونیورسٹیاں بھی صوبوں ہی میں بنتی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں اعلیٰ تعلیم کا تعلق صوبوں یا وفاق سے نہیں ہے البتہ تعلیمی پالیسی قومی پالیسی ہونی چاہیے جو ہر جگہ اپلائی ہو۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد پنجاب اور سندھ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن بنائے ہیں، پنجاب کا کمیشن کافی فعال ہے،مستقبل واضح اور روشن نظر آتا ہے اور مایوسی کوئی نہیں ہے۔

س:کیا ڈیپارٹمنٹ آف انفارمیشن مینجمنٹ کی ترقی و کارکردگی سے مطمئن ہیں؟

ج:مطمئن تو بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کام ایسا ہے کہ اس پر کبھی اطمینان نہیں آتا اور نہ ہی آنا چاہیے۔ ا نفارمیشن مینجمنٹ کی نوعیت ایسی ہے کہ جس میں روزانہ نئے نئے ٹرینڈز آ رہے ہیں اور آئی ٹی کا استعمال بھی اس میں بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور آئی ٹی کا نالج آپ دیکھتے ہیں کہ نیا علم پرانے ختم کر دیتا ہے۔ تبدیلی اتنی تیزی سے آ رہی ہے کہ ہم اس تبدیلی کا تعاقب نہیں کر سکتے۔ لہٰذا مطمئن ہونے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ جاری عمل کا نام ہے اور جاری رہے گا۔لیکن کوشش جاری ہے اور بہتر کوشش ہو رہی ہے۔

س: فارغ اوقات میں آپ کے مشاغل کیا ہیں؟

ج: فرصت تو بہت کم ملتی ہے میں اپنے آپ کو مصروف رکھتی ہوں ۔فیملی اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا ہے۔

س: کہا جاتا ہے کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ آپ کے خیال میں کامیاب عورت کے پیچھے کس کا ہاتھ ہوتا ہے؟

س: کامیاب عورت کے پیچھے زمانے کی ٹھوکریں، تلخ تجربات اور بے شمار دکھ ہوتے ہیں جو اسے جینے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے رہتے ہیں۔

س:کوئی پیغام؟

ج: تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قوموں کی تعمیر ترقی خوشحالی اور استحکام کا عمل نظام تعلیم سے مشروط ہے۔حکومتوں کی تبدیلی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مضبوط تعلیمی پالیسیاں بنائیں جانی چاہئیں ہیں اور ان پر عمل کرایا جانا چاہئے۔اگر پاکستان کو ترقی کرنا ہے اپنی نئی نسل کی صلاحیتوں سے ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے تو ہمیں مجموعی تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرنا ہو گا۔ہمارے محققین اور اساتذہ اپنی تحقیقی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے مؤثر منصوبہ بندی کریں۔سائنس اور ٹیکنالوجی کو خصوصی اہمیت دینی ہو گی اگر چہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں تحقیق کا افق بہت وسیع ہے، طلباء کی کردار سازی اور ان میں قائدانہ صلاحیتوں کے نکھار میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل اور ہم نصابی سرگرمیاں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ ہماری کو شش ہے کہ کھیل ،میوزک،ڈرامہ اور تقاریر چند ہنر مند طلباء تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ ڈیپارٹمنٹ کا ہر طالبِ علم کسی نہ کسی سرگرمی میں شامل ہواور اس سے فائدہ اٹھائے۔

***

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...