آپریشن ردالفساد برائے امن

آپریشن ردالفساد برائے امن
 آپریشن ردالفساد برائے امن

کہتے ہیں دلیل اور گولی کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے ہم تو ٹھہرے دلیل والے مگر اب ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم گولی چلانا نہیں جانتے۔ پاک فوج جو کسی زمانے میں سرحدوں پر اپنے فرائض سرانجام دیا کرتی آج ملک کے قریہ قریہ میں دشمن کے خلاف برسرِ پیکار ہے اگر اب بھی ہم اپنی ماضی کی غلطیوں کو سدھار لیں تو بھی یہ ایک بہت اہم اچیومنٹ ہو گی آپریشن ضربِ عضب جو ایک متناسب کامیابی کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا ساتھ ہی ملک پھر سے دھماکوں سے گونج اْٹھا اس بار دشمن نے ہمسایہ ملک کی سرحدوں سے وار کئے اور یقیناً یہ دشمن کی خفیہ پالیسی تھی جو ایک خاص حد تک کامیاب بھی رہی بے شک دشمن اپنے عزائم میں سو فیصد کامیاب نہ ہوا ہو کم از کم ستر فیصد تو کامیاب ہو چکا گویا دشمن کے پاس بارود کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط دماغ بھی ہے جس کو وہ بڑی تندہی اور چالاکی سے استعمال کر رہا ہے بہت سے لوگ آپریشن ردالفساد کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسے مضحکہ خیز بتا رہے ہیں حالانکہ ان ذہین لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ یہ وقت تنقید کا نہیں بلکہ ساتھ دینے کا ہے تنقید کیلئے مستقبل میں کافی وقت پڑا ہے مگر یہ وقت حوصلہ افزائی کا ہے تاکہ ہم پورے اعتماد اور قوی حوصلے کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کر سکیں اب اصولی طور پر دیکھا جائے تو ملٹری کی بنیادی ذمہ داری تو ریاست کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہوتی ہے لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کو برقرار رکھنا پولیس اور بیوروکریسی کا کام ہے اور یہ بنیادی ذمہ داری ریاست کے حل و عقد کی ہے نہ کہ ملٹری کی مگر جب ملٹری قربانی دینے کے عزم سے لیس ہے تو پھر تنقید کی بجائے ان کا حوصلہ کیوں نہ بڑھانا چاہئے پولیس اور بیوروکریسی کی بنیادی ذمہ داریاں ملٹری پر ڈال کر عوام سارا نزلہ ملٹری پر گرانے کی کوشش کرتے ہیں اندرونی امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ملٹری کا کام نہیں ہوتا آپ جدید جمہوری ریاستوں میں سے ایک بھی ایسی ریاست نہیں بتا سکتے جس میں ایک جمہوری حکومت اندرونی خلفشار کو روکنے کیلئے سرحدوں سے ملٹری بلوا کر ملک کے گلی کوچوں میں سپاہیوں کو کھڑا کر دے درحقیقت یہ کام پولیس کا تھا جو ملٹری کر رہی ہے زیادہ سے زیادہ آپ پولیس کے ساتھ رینجرز کی مدد لے سکتے ہیں مگر ریاست کے انتہائی اندرونی معاملات میں براہ راست ملٹری کو ملوث کرنا اس امر کا بین ثبوت ہے کہ ہماری پولیس اور بیوروکریسی ناکام ہو چکی ہے ایک ڈسٹرکٹ میں قانون کی رٹ قائم کرنا اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا ضلعی انتظامیہ کا کام ہے جو اس مقصد کے لئے بنائی جاتی ہے مگر ہم نے ہر جگہ ملٹری کو تعینات کیا ہوا ہے کالج ہو یا سکول ہسپتال ہو یا مسجد بینک ہو یا کچہری ہر جگہ ملٹری نظر آتی ہے پولیس اور بیوروکریسی تو جیسے ہے ہی نہیں۔

آپریشن ردالفساد میں ہمیں ماضی کے برعکس کچھ اصلاحات کرنا ہونگی طاقت دماغ کا مقابلہ نہیں کر سکتی چنانچہ اس بار ہمیں دشمن کے دماغ سے لڑنا ہو گا گلی کوچوں کے نکڑ پر سپاہی تعینات کرکے خوف و ہراس پیدا کرنے سے دشمن کو کوئی فرق نہیں پڑے گا زیادہ دور جانے کی ضرورت ہی نہیں ہمارے درمیان متعدد سفید پوش ایسے موجود ہیں جو دشمن کے مضبوط سہولت کار اور ملکی خلفشار کے حقیقی ذمہ دار ہیں سچ تو یہ ہے کہ سچ کہنااب جرم بن گیا ہے، ہماری سرائیکی کی ایک معروف کہاوت ہے جس کا مفہوم ہے کہ کنویں سے جتنا چاہے پانی نکال لو جب تک کہ کنویں میں مرا ہوا کتا نہیں نکالو گے پانی شفاف نہیں ہو گا آپریشن ردالفساد دراصل مستقل امن کی طرف پہلا قدم ہے بشرطیکہ ہم نے اس بار دشمن کے دماغ کو مات دیدی خدا نے انسان کو شعور کی روشنی سے منور کیا ہے اسی شعور کا خدا کے مجرم غلط استعمال کر رہے ہیں پرامن اسلامی تشخص کا بدترین استحصال ہو رہا ہے وہ اسلام جس نے رومی، سعدی اور جامی جیسی شعور اور محبت و عشق کی روشنی سے ضوفشاں ہستیاں پیدا کیں اسی اسلام کو آج یہ انسانیت کے دشمن ایک مکروہ اور ہولناک تعارف میں بدل رہے ہیں اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کیلئے یہ گنہگار انتہائی معصوم اور جذباتی بچوں کا استعمال کر رہے ہیں وہ بچے یہ نہیں جانتے کہ بے گناہ اور معصوم لوگوں سے انکی زندگیاں چھین کر جنت تو درکنار جہنم میں بھی جگہ نہیں ملے گی جہنم بھی پناہ مانگے گی ایسے ظالموں سے جو معصوم لوگوں کو قتل کرنا روا سمجھ کر معصوم بچوں کی ذہن سازی کرکے انہیں خودکشی جیسی حرام موت مرواتے ہیں پس اپنی جانوں سے بارود باندھ کر پھٹنے والے نونہالوں کے علاوہ ہمیں دہشت گردی کے چلتے پھرتے ان سفید پوش گنہگاروں کو بھی عبرتناک سزا سے دوچار کرنا ہو گا جو اس تمام تر خون ریزی کے حقیقی ذمہ دار ہیں وہ جو حوروں کے بیوپار اور جنت کے ٹھیکیدار ہیں اب انکی خبر لینی ہو گی اور اگر ہم نے ان اصل مجرموں کی خبر نہیں لی تو پھر معاف کیجئے گا کہانی وہی کنویں اور کتے والی ہو گی۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...