منہاج یونیورسٹی میں پہلا مشاعرہ!

منہاج یونیورسٹی میں پہلا مشاعرہ!
 منہاج یونیورسٹی میں پہلا مشاعرہ!

  

مدرسے، سکول، کالج، یونیورسٹیاں علم و ادب و فن کے گہوارے ہوتے ہیں،اِن گہواروں سے مستقبل کے بڑے بڑے نابغہ قلم کار، فنکار، اداکار، گلو کار، صدا کار، شاعر، ادیب، پروفیسر، انجینئر، سیاست دان، غرض ہر شعبۂ حیات کے سکالرز نکلتے ہیں! یہ لوگ شہرت و ناموری حاصل کر کے مُلک و قوم کی عزت و توقیر کا منبع ثابت ہوتے ہیں۔ اِن علمی و تعلیمی اداروں میں ادبی سرگرمیوں، مذاکروں، مباحثوں، مشاعروں کے ذریعے ذہنوں کو اُجالا جاتا ہے۔شیخ الاسلام حضرت علامہ طاہر القادری کی سرپرستی میں منہاج یونیورسٹی اِس وقت عالمی سطح پر جانی پہچانی مانی جاتی ہے اس کے شعبۂ اُردو کے سربراہ ڈاکٹر مختار عزمی]ڈین فیکلٹی آف آرٹس[ ہیں وہ اپنے تخلص عزمیؔ کی نسبت سے ہمہ دم پُرعزم ملتے ہیں۔ انہوں نے چیئرمین شعبہ اُردو کی حیثیت سے اپنے شعبے میں ایک بین الکلیاتی طرحی مشاعرے اور خالص شاعروں کے مشاعرے کا اہتمام کیا۔ 19فروری2017ء کو حضرت علامہ طاہر القادری کی چھیاسٹھویں سالگرہ بھی تھی، اِس مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا۔ پہلے دَور میں مہمانِ خصوصی اور صدرِ محفل حسین محی الدین قادری تھے کہ علامہ طاہر القادری کے پڑھے لکھے ہونہار فرند ہیں۔ دوسرے دَور کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم غوری وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی تھے۔ اُنھوں نے آئندہ ایک عظیم الشان ادبی کانفرنس کے انعقاد کا مژدہ بھی سنایا۔ بین الکلیاتی طرحی انعامی مشاعرے کے لئے فیض کی غزل کا مصرع طرح تھا: روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں

اور نظم کے لئے موضوع تھا ’’انقلاب‘‘۔ پروفیسر ایوب ندیم، پروفیسر آصف علی چٹھہ اور پروفیسر صغیر احمد صغیر نے منصفین کے فرائض انجام دیئے۔ جو نتائج انہوں نے مرتب کئے اُن کے مطابق ندیم ہاشمی، شاہین بھٹی، ذکاء اللہ اثر، شاہانہ کوثر نے بالترتیب اول، دوم، سوم اور حوصلہ افزائی کے انعام حاصل کئے۔ انعامات گلُدستے اور کتابوں کی شکل میں تھے۔غزل میں بالترتیب اول، دوم، سوم اور حوصلہ افزائی کا انعام حاصل کرنے والوں میں ذکاء اللہ اثر، سرفراز احمد فتیانہ، (محمد حسین) شاہین بھٹی اور محمد عابد علی کے نام شامل ہیں۔ ایوارڈ زیادہ تر مہمانِ خصوصی اس خاکسار ناصِر زیدی اور کچھ دوسرے شعراء کے ہاتھوں دلوائے گئے۔ مہمان، مدعو شعرا میں ناصِر زیدی، ایوب ندیم، محترمہ حمیدہ شاہین، صغیر احمد صغیر، حفیظ طاہر، پروفیسر آصف علی چٹھہ، فاروق شہزاد، ڈاکٹر ضیاء الحسن، شاہین بھٹی، لبنیٰ صفدر، ذکاء اللہ اثر خود منتظم اور ناظم مشاعرہ پروفیسر ڈاکٹر مختار عزمی اور منہاج یونیورسٹی کے طلباء و طالبات شامل تھے۔حسد کے مارے ایک دو شاعر میرے ’’چیف گیسٹ‘‘ ہونے اور ’’صدارت‘‘ کے خدشے کے پیشِ نظر تشریف نہیں لائے۔ بہرحال اس موقع پر یونیورسٹی کے سرپرستِ اعلیٰ علامہ طاہر القادری کی چھیاسٹھویں سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے مَیں نے یہ نظم سنائی اور طلباء و طالبات اور اساتذہ اور دیگر سامعین اور کچھ کچھ شاعروں سے بھی داد سمیٹی۔

وہ نظم جو اس خاکسار نے سالگرہ اور ’’فاؤنڈرز ڈے‘‘ کی مناسبت سے علامہ طاہر القادری کے لئے لکھی یُوں تھی:

طاہر القادری کا کیا کہنا

اِن پہ سجتا ہے علم کا گہنا

صاف گوئی شعار ہے اِن کا

جانتے ہیں یہ حرفِ حق کہنا

اِن کو آتا نہیں سیاست کے

مکرو دجل و فریب میں رہنا

علم و عرفان کے سمندر میں،

ڈوب کر جانتے ہیں یہ بہنا

ہیں یہ دراصل سایہ دار شجر

اور ثمر سے جھکا ہُوا ٹہنا

وَصف ہے اِن کا بالیقیں یارو!

دوسروں کے لئے بھی دُکھ سہنا،

ایک بار اَور بھی کہو، ناصِر!

طاہر القادری کا کیا کہنا،

طالب علم شعراء دیگر شعرا و منصفین، مہمانِ خصوصی اور صاحبِ صدارت نے جو کلام سنایا اُس کا نچوڑ کچھ منتخب اشعار کی شکل میں اپنے اس کالم کے خوش ذوق قارئین کے لئے پیش ہے:

ڈاکٹر آصف علی چٹھہ کی نعت کا ایک شعر:

میرے حضورؐ جہاں کو ثبات آپؐ سے ہے

حیات آپؐ سے ہے کائنات آپؐ سے ہے

*****

آنسو چھلک کے برسرِ مژگاں ہوئے تو ہیں

کچھ مرحلے فراق کے آساں ہوئے تو ہیں

برباد ہو گئے ہیں اثرؔ عشق میں تو کیا

اہل جُنوں میں ہم بھی نمایاں ہوئے تو ہیں

ذکاء اللہ اثرؔ

عشق ہے یہ شماریات نہیں

پھینک دو سب حساب پانی میں

پروفیسر ایوب ندیم

پل رہے ہیں سب ہمارے رزق پر

شاہ بھی اور شاہ کی اولاد بھی

ڈاکٹر صغیر احمد صغیر

امن لکھنا نہیں سیکھے جنھیں پڑھ کر بچے

اُن کتابوں پہ کسی کی بھی سُند رہنے دے

حمیدہ شاہین

جہاں تُو ہو چمک اُٹھتی ہے محفل

ترے اندر یہ کیسی روشنی ہے

ڈاکٹر ضیاء الحسن

کہہ تو دیتا ہے، چلے جاؤ، بڑے غُصّے سے وہ

راستے سے ہٹ کے لیکن راستہ دیتا نہیں

حفیظ طاہر

مشاعرے کے اختتام پر ڈاکٹر مختار عزمی نے اپنے کمرے میں موم بتیوں اور موبائل فون کی بیٹریوں سے کام لیتے ہوئے مہمانوں کی ’’خاطر خواہ‘‘ خاطر تواضع کی مگر اندھیرے پھیلا کر ’’لیسکو‘‘ والوں نے چائے، کیک اور دیگر لوازمات کا مزا غارت کر دیا۔ کھٹکا ہی رہا کہ کیک کا ٹکرا منھہ کے بجائے ناک میں نہ چلا جائے۔ اتوار کی وجہ سے یونیورسٹی کا اپنا جنریٹر چلانے والا بھی کوئی نہ تھا، جبکہ تقریب کے لئے کسی کی خصوصی ڈیوٹی ہونی چاہئے تھی۔ منہاج یونیورسٹی میں20مختلف مضامین کے ایم فل، پی ا یچ ڈی سکالرز وافر تعداد میں موجود ہیں، عالمی سطح پر یونیورسٹی کی پہچان اور شناخت کے لئے ایک میگزین بھی ’’صنوبر‘‘ کے نام سے چھپتا ہے جس کے بارے میں سنا ہی ہے، دیکھا نہیں البتہ ڈاکٹر مختار عزمی نے اپنی گراں قدر کتاب ’’پہچان کے زاویے‘‘]تحقیق و تنقید[ پھولوں کے بڑے سے ’ بُوکے‘ کے ساتھ عنایت کی جس کی خوشبو کی مہک ہمراہ لئے ہم گھر پہنچے۔ کسی اعلیٰ سکول کی ایک ٹیچر ورَدہ قریشی بھی خوشگوار باتوں اور مجید امجد کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے گیٹ تک ہمیں الوداع کہنے آئیں۔ ورَدہ کے معنی اُنھوں نے ’’پھول‘‘ بتائے تو یہ شعر احمد فراز کا ہمیں بے ساختہ یاد آیا:

سُنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

اور اپنا یہ مطلع بھی :

پھول صحرا میں کِھلا دے کوئی

مَیں اکیلا ہوں صدا دے کوئی

]ناصِر زیدی[

مزید : کالم