’’ردالفساد‘‘

’’ردالفساد‘‘
 ’’ردالفساد‘‘

ملک بھر میں ’’ردالفساد‘‘ آپریشن جاری ہے۔ یہ آپریشن ایک ایسے فساد کے خلاف ہے جو ہم نے خود اپنے ملک میں پھیلایا اور پھر اسے پروان چڑھایا۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم نے افغان جنگ میں ہمیشہ افغان بھائیوں کا ساتھ دیا اور انہیں ہر حوالے سے احترام دیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے اور انہیں ملک کے مختلف علاقوں میں رہائشیں دی گئیں۔ خود میرے ضلع میانوالی میں افغان کیمپ قائم کیا گیا جہاں ہزاروں مہاجرین موجود تھے۔ ہمارے چند دوست اس افغان کیمپ میں ملازم تھے ، اس وجہ سے ہم اکثر افغان کیمپ جاتے رہتے تھے۔ اس کے علاوہ میانوالی کے عام لوگ بھی اس کیمپ میں آتے جاتے تھے۔ اکثر لوگ افغان مہاجرین کے لئے اپنی استعداد کے مطابق کچھ نہ کچھ لے جاتے تھے اور جذبہ خدمت کے تحت ان کی مدد بھی کرتے تھے۔یہ افغان مہاجرین کچھ عرصے تک تو کیمپ کے اندر موجود رہے ، پھر کچھ عرصے بعد یہ لوگ شہر کی دیگر آبادی میں بھی آنے جانے لگے اور بعض نے مختلف شہروں میں اپنے کاروبار بھی شروع کر دیئے، مگر سرکار کے ساتھ ساتھ عام شہریوں نے بھی ’’جذبہ ایمانی‘‘ کے تحت انہیں ہر جگہ خوشی خوشی قبول کیا۔ کالاباغ کے مقام پر موجود افغان کیمپ اب بھی ہے، اگر آپ اس کے اندر داخل ہوں تو آپ کو ایسا لگے گا کہ آپ افغانستان کے کسی شہر میں داخل ہو گئے ہیں، کیمپ کے اندر انہوں نے اسی طرح کے مکان بنا لئے ہیں، جیسے وہ چھوڑ کر آئے تھے، حالانکہ حکومت کی طرف سے ان کو بڑے بڑے خیمے بھی ملے ہوئے تھے، مگر یہ لوگ یہاں بڑے بڑے گھروں میں آباد ہو گئے۔ اس کیمپ میں چونکہ مختلف قبائل کے لوگ آباد تھے، سو یہ لوگ وہاں کی دشمنیاں یہاں بھی نبھاتے تھے۔ کیمپ کے اندر ہر طرح کا اسلحہ موجود تھا اور مختلف قبائل کے لوگ یہاں بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑتے بھڑتے رہتے تھے۔ کیمپ کے اندر مختلف قبائل کے درمیان فائرنگ بھی ہوتی رہتی تھی اور مقامی پولیس بھی اکثر ناکام ہو جاتی تھی۔ کیمپ میں موجود سرکاری ملازمین کو یرغمال بناکے گوداموں سے مختلف اشیاء وصول کرنا تو ان کا روز کا معمول تھا ایک بار انہوں نے تحصیل عیسیٰ خیل کے ایک اسسٹنٹ کمشنر کو بھی یرغمال بنالیا۔

افغان مہاجرین کی اس طرح کی کارروائیوں سے علاقے میں ان کی دھاک بھی بیٹھ گئی اور بعض لوگ مقامی لوگوں کے ساتھ دوستانے بناتے ہوئے ان کے ’’جرائم‘‘ کے پارٹنر بھی بن گئے۔ بدقسمتی سے سب کچھ ’’سرکار‘‘ کے علم میں تھا ۔ کئی مقامی لوگ اس وقت بھی اس پر نکتہ چینی کرتے تھے ، ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں ایک مہمان کے طور پر کیمپ میں محدود رکھا جائے اور شہر کے دیگر علاقوں میں آزادانہ طورپر گھومنے پھرنے اور کاروبار کرنے کی اجازت نہ دی جائے، مگرحکومت کے ’’جذبہ ایمانی‘‘ کے آگے کسی کی نہ چلی اور یہ لوگ شہروں میں داخل ہو گئے، ایسی ہی صورت حال خیبرپختونخواکے میانوالی کے سرحدی ضلع شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی بھی ہوئی، جہاں یہ لوگ علاقائی سطح پر بہت طاقت ور ہو گئے اور انہوں نے تمام تر وسائل پر قبضہ کر لیا، مالی طور پر بھی بہت آگے نکل گئے، مگر حکومت نے کسی سے نہ پوچھا کہ سرکاری مدد سے زندگی گزارنے والے آخر اچانک کروڑ پتی کیسے بن گئے ہیں؟ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ان میں سے اکثر پاکستانی شہری بن چکے ہیں اور مقامی لوگوں کے ساتھ رشتہ داریاں بنانے کے بعد محفوظ ہو چکے ہیں، مگر اپنے ملک، یعنی افغانستان کے ساتھ بھی جڑے ہوئے ہیں۔ وہاں کے لوگوں کے ساتھ ان کے گہرے رابطے بھی موجود ہیں اور ان کے درمیان آنا جانا لگا رہتا ہے، یہ ’’مہمان نوازی‘‘ بھی کرتے ہیں، اب اصولی طور پر تو حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ افغانستان سے روس کی واپسی کے بعد ان لوگوں کو واپس اپنے ملک بھیج دیتی، مگر ہر حکومت نے اس حوالے سے غفلت برتی اور انہیں کسی بھی سطح پر چیک نہ کیا۔ اس وقت جو صورت حال ہے اس میں یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ سب افغان دہشت گرد ہیں، مگر یہ بات ضرور کہی جا سکتی ہے کہ یہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں اور انہیں پاکستان سے زیادہ اپنا ملک عزیز ہے اور ہونا بھی چاہیے، سو حکومت کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے ان لوگوں کو عزت و احترام کے ساتھ واپس اپنے ملک بھیجے اور انہوں نے جو کچھ یہاں سے کمایا ہے وہ ان کے حوالے کردے، تاکہ یہ لوگ اپنے ملک جاکے آباد ہو جائیں۔’’ردالفساد‘‘ ایک اہم آپریشن ہے، ملک کے عوام اس کی کامیابی کے لئے بہت پُرامید ہیں اور حکومت کے ساتھ ہر طرح کے تعاون کے لئے بھی تیار ہیں، مگر اس آپریشن سے عوام کی خواہش ہے کہ ملک میں موجود تمام ’’فسادی مراکز‘‘ کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور ان علاقوں اور شہروں میں بھی زیادہ کارروائیاں کی جائیں، اگرچہ سوشل میڈیا پر ایسے اشعار بھی پڑھنے کو مل رہے ہیں:

اپنے خلاف آخر کیا وہ جہاد کرتے

’’ام الفساد‘‘ کیسے ’’ردالفساد‘‘ کرتے

ضرب عضب کی کامیابی کے بعد آپریشن ردالفساد کی کامیابی اس ملک کی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔ بے شک ماضی کے کچھ فوجی جرنیلوں کے غلط فیصلوں کے سبب ملک ایک ایسے دوراہے پر آکھڑا ہوا ہے کہ اگراس کینسر کو جسم سے فوری طور پر الگ نہ کیا گیا تو یہ پورے جسم میں بھی پھیل سکتا ہے۔ جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے کارہائے نمایاں کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ان شاء اللہ یہ پاک سرزمین ایک بار پھر جنت نظیر بن جائے گی، لیکن سب سے اہم ترین ضرورت اس بات کی ہے کہ ردالفساد کے بعد ایک اور آپریشن بھی کیا جائے جو دماغوں سے فساد کے کینسر کو نکال پھینکے۔جب تک ہم یہ کام نہیں کریں گے اس وقت تک دہشت گرد سر اٹھاتے رہیں گے اور ملک مکمل طور پر ایک شہر ’’امن آباد‘‘ میں نہیں بدل سکے گا۔ نیشنل ایکشن پلان اگرچہ ضرب عضب اور ردالفساد کا ایک اہم ترین حصہ رہا ہے اور ہے، مگر ضرورت اس سے بھی بہت آگے بڑھنے کی ہے۔ نصاب میں تبدیلی صرف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ہی نہیں، بلکہ مدارس کے نصاب میں تبدیلی سب سے ضروری ہے۔ اسلامی آرٹ کلچر کے فروغ کے لئے اضلاعی سطح پر کام انتہائی ضروری ہے، تاکہ نئی نسل کے اندر محبت، خلوص اور پیار کی روایت مضبوط ہو۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...