کون سی آل پارٹیز کانفرنس اور کون سا استعفیٰ؟

کون سی آل پارٹیز کانفرنس اور کون سا استعفیٰ؟

ان دنوں پاکستان کے تمام ٹی وی چینل سپریم کورٹ میں محفوظ کئے گئے ، پاناماکیس پر رائے زنی میں مصروف ہیں، حالانکہ پیمرا قوانین کے تحت لائسنس حاصل کرنے والے یہ تمام چینل اس امر سے بہ خوبی واقف ہیں کہ کسی بھی عدالت خواہ وہ سول جج کی ہی عدالت کیوں نہ ہو وہاں پر زیر سماعت کسی بھی مقدمہ کے بارے میں براہ راست یا بالواسطہ کسی قسم کی رائے نہیں دے سکتے۔ گھما پھرا کر بھی نہیں، دھمکی آمیز بیانات بھی جرم تصور کئے جاتے ہیں اور جلسوں میں تقریروں کے جوہر دکھانے والے پری مارکہ لیڈروں کو بھی یہ ممانعت ہے کہ وہ رائے دیں۔

آج کل سارا زور اس بات پر ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے کوئی جوڈیشل کمیشن بنایا تو پھر تمام مخالف سیاسی پارٹیاں مل کر اجلاس بلائیں گی اور وزیراعظم سے استعفیٰ طلب کیا جائے گا یعنی سب مل کر عمران خان کا ایجنڈا پورا کرنے میں مصروف ہو جائیں گے۔ آپ اگر پاکستان مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کر کچھ اہم پارٹیو ں کی طرف دیکھیں تو مولانا فضل الرحمان اور اسفند یار ولی سمیت محمود اچکزئی والی پارٹیاں تو اقتدار کے جھنڈے تلے ہی سستا رہی ہیں، جبکہ چند دوسری پارٹیوں کے بارے میں کچھ حال یوں ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان 1990ء کے الیکشن میں ان 9ستاروں میں شامل تھی جو مل کر اسلامی جمہوری اتحاد کے جھنڈے کا حصہ بنی تھیں۔ ان میں ایم کیو ایم ، اے این پی نیشنل پیپلزپارٹی (جتوئی والی) جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام نورانی گروپ، فضل الرحمان گروپ، پاکستان مسلم لیگ (جونیجو گروپ) وغیرہ سیاسی پارٹیاں شامل تھیں۔ ان میں آگے چل کر پاکستان پیپلز پارٹی نے میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت کی دستاویز پر انگوٹھا لگایا اور پھر مزید آگے چل کر 2013ء میں وفاق میں حکومت بنانے کے لئے میاں نواز شریف کی بھرپور مدد کی بلکہ صوبہ پنجاب میں تو وزارتیں بھی حاصل کیں۔ اب آپ ہی ذرا بتائیں کہ جن جن پارٹیوں کے ایم این اے اور ایم پی اے میاں نواز شریف سے ماضی میں بے پناہ فوائد حاصل کرتے رہے( بلکہ متعدد آج بھی حاصل کررہے ہیں) وہ کس منہ سے کسی آل پارٹیز کا نفرنس میں ان سے استعفیٰ جیسی کسی بات کا مطالبہ کریں گے بلکہ کس منہ سے وہ ایسا کرسکیں گے۔ اس کا نہ تو کوئی اخلاقی جواز بنتا ہے اور نہ ہی حالات ایسے ہیں کہ یہ ممکن ہو۔ کیا حاجی اقبال بیگ مرزا کے جیل کے دوست آصف علی زرداری اب نہیں چاہیں گے کہ ان کے دست راست ڈاکٹر عاصم حسین کی مقدمات سے جان، ان کی اپنی جان چلی جانے سے پہلے، چھوٹ جائے۔ (ابھی تو خدا خدا کرکے ڈالر گرل کو ہی دوبئی پہنچنے کا موقع ملا ہے) 2013ء سے اب 2017ء تک بہت سے پلوں کے نیچے سے پانی گزر چکا ہے، لہٰذا اگر کوئی خواب یا خیال میں بھی میاں نواز شریف کے خلاف کوئی اتحاد بنانے کی فکر میں ہے تو وہ یہ بات کیوں بھول رہے ہیں کہ میاں نواز شریف کا متبادل ابھی تک میدان سیاست میں موجود نہیں اور فی الحال میاں نواز شریف خود ہی اپنے متبادل ہیں۔ جہاں جہاں آصف علی زرداری کے دوست اگلے انتخابات کے لئے پورے پورے صفحات پر مشتمل پرنٹ میڈیا کے لئے اشتہارات بنوارہے ہیں۔ وہ یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ سبزہ زار کے پولیس مقابلوں میں مارے جانے والے تمام (33) افراد کے پس ماندگان کو رام کیا جاچکا ہے اور اس مقدمہ میں بھی اب کوئی مطلوب نہیں کیونکہ اس کا فیصلہ بھی کئی برس پہلے سنایا جاچکا ہے۔ رہی ماڈل ٹاؤن معاملے کی بات تو زبانی حد تک آپ جس جس پر بھی ملبہ گرانا چاہیں اس سے ووٹروں کو کوئی غرض نہیں۔ اشتہارات بنانے والوں کے پاس ایسا کوئی قانونی جواز ہی نہیں (ماسوائے بیانات کے) کہ وہ اس ضمن میں پس ماندگان کے خاندانوں کو استعمال کر سکے یا ان کی کوئی تفصیل شائع کرائی جا سکے۔ رہی ایم کیو ایم کی ناراضی، تو اسے ختم کرنے میں ماسوائے خود الطاف حسین کے کسی اور کا ہرگز کوئی ہاتھ نہیں۔

یہی کراچی تھا جہاں شہر کے لوگ مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم کا پہلا نام) کے منظر عام پر آنے سے قبل جماعت اسلامی پاکستان کو ہی اپنا ووٹ دیتے تھے۔ ذرا یادداشت پر زور دیں تو آپ کو پروفیسر غفور کی جماعت اسلامی کی سیاست کراچی میں نمایاں دکھائی دے گی۔ ان کے ہی ایم این اے اور ایم پی اے پارلیمنٹ اور سندھ اسمبلی میں ہمیشہ دکھائی دیتے تھے۔ جب الطاف حسین نے سیاسی پارٹی بنائی تو زیرو سے کام شروع کیا اور شہر پر ہی نہیں بلکہ حیدر آباد اور سکھر تک پہنچے اور اپنا تمام تر نیا اثر ورسوخ قائم کرنے میں الطاف حسین کو 25برس انتظار کرنا پڑا۔ ہر الیکشن میں اس کے پارلیمنٹ میں جانے والے ایم این اے نوجوانوں کی تعداد میں تو اترکے ساتھ اضافہ ہوتا رہا بلکہ ایک زمانہ تو ایسا بھی تھا کہ کراچی بند روڈ پر کفن پوش ایک لاکھ کارکن بھی لاکر ایم کیو ایم نے کراچی پر اپنے قبضہ کو میڈیا کے سامنے منوایا تھا۔ آپ اگر ایم کیو ایم کی 1988ء کے الیکشن سے لے کر 2008-1997-1993-1990 ء اور اب 2013ء کے نتائج سامنے رکھیں تو آپ کو یہ اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح ایم کیو ایم ’’کمال‘‘ کے نکتہ عروج پر پہنچی اور اب ’’ہر کمال را زوال‘‘ کا آغاز ہوا ہے تو ایسا ہرگز نہیں کہ یہ جماعت بالکل نیچے آگرے گی بلکہ زوال میں بھی کئی برس لگیں گے۔

نواز شریف کو ویسے بھی سندھ یا کراچی کی سیاست سے زیادہ دلچسپی نہیں البتہ وہ اسی حد تک نبض شناسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ ان کی پارٹی کو الیکشن کے وقت سب سے زیادہ چندہ یا فنڈز کراچی میں مقیم وہ صنعت کار ہی دیتے ہیں جن کا تعلق پنجاب سے ہے اور جن کی ہزاروں فیکٹریاں ،ملیں اور ڈیفنس میں کوٹھیاں 40 برس سے بھی زیادہ عرصہ سے کراچی میں ہیں اور جو پچھلے 26-25 برس سے ایم کیو ایم کے یرغمال چلے آرہے تھے۔ خداخدا کرکے اب پاک فوج نے انہیں یرغمالی کیفیت سے نکالا ہے۔ کراچی میں ویسے تو پچاس لاکھ سے بھی زیادہ پنجابی رہتے ہیں اور اتنی ہی تعداد میں پٹھان بلوچ اور آزاد کشمیر کے لوگ مقیم ہیں لیکن کے پی کے سے تعلق رکھنے والا کاروباری طبقہ ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں ہے، جبکہ بلوچ تاجر کوئلہ اور ماربل کے کاروبار سے ناطہ جوڑے ہوئے ہیں۔ کارخانے اور صنعتیں صرف پنجابی صنعت کاروں کی ہیں اور ایکسپورٹ جس قدر بھی کراچی سے ہو رہی ہے، وہ بھی پنجاب کے صنعت کار ہی زیادہ کرتے ہیں۔ (جام صادق کے زمانہ میں بعض پنجابی صنعت کاروں نے اپنے کارخانے پنجاب میں شفٹ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس وقت وزیر اعلیٰ سندھ نے قانون بنوا کر اس عرصہ میں اس کی ممانعت کردی دی تھی)۔ بہرحال تمام معاملات میں اگلے الیکشن تک آپ STATUS QUO کی ہی اُمید رکھیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...