پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

پٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ ان چاروں مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ وفاقی حکومت نے کیا ہے۔ وفاقی وزیرخزانہ محمد اسحاق ڈار نے بتایا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر ایک روپیہ 71پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈیزل ایک روپیہ 52پیسے اورمٹی کا تیل 75پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا۔ جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کے نزخوں میں 86پیسے اضافہ ہواہے گزشتہ دو ماہ سے ہر پندرہ دن کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کیا جارہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس مرتبہ قیمتوں میں اضافہ پورے مہینے کے لئے کیا گیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو ماہ قبل اضافے کا فیصلہ ہونے پر عوامی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ مہنگائی بڑھے گی۔ اس پر حکومتی حلقوں کی طرف سے یقین دلایا گیا تھا کہ مہنگائی میں اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ اگرچہ بہت زیادہ نہیں لیکن پچھلے دو ماہ میں مجموعی اضافہ خاصا ہوگیا ہے،خدشہ ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کا رجحان اپنا رنگ لائے گا۔ بعض پھلوں، سبزیوں، دالوں کے علاوہ آٹے کے نرخوں میں معمولی اضافہ تو ہو چکا ہے۔

حکومتی حلقوں نے اگر قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لئے کوئی حکمت عملی تیار کر رکھی ہے تو اس کا عملی ثبوت دیا جائے، قیمتوں کے بڑھنے کا سلسلہ شروع ہو جائے تو پھر اس پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ ہو ا ہے تو حکومت کی طرف سے 3روپے23پیسے فی یونٹ بجلی سستی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے بجلی کے نرخوں میں کمی یقیناًبہت اچھا فیصلہ ہے، توقع ہے کہ اگلے دو تین ماہ میں بجلی مزید سستی ہوگی تاہم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہئے۔ ماضی میں کئی بار یہ تلخ تجربہ ہوچکا ہے کہ بعض سٹاکسٹ اور دکاندار حیلوں بہانوں سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اپریل میں پٹرولیم مصنوعات پھر مہنگی ہوں گی۔ کیونکہ ان دنوں عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...