عوامی تحریک میں حصہ لینے والے500 حریت پسند جیلوں میں بند

عوامی تحریک میں حصہ لینے والے500 حریت پسند جیلوں میں بند

سری نگر(کے پی آئی ) کل جماعتی حریت کانفرنس گ نے انکشاف کیا ہے 2016 کی عوامی تحریک میں حصہ لینے والے500 حریت پسند رہنماور کارکن جیلوں میں ڈال دیے گئے ہیں ایک سو کی رہائی کا عدالتی حکم آچکا ہے مگر رہا نہیں کیا جارہا ہے ترجمان حریت کانفرنس نے آزادی پسندوں کے خلاف جاری کریک ڈاون کو حکومت کی طرف سے حالات کو مخدوش بنانے کی ایک دانستہ کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن سیاسی سرگرمیوں کو ممنوع بناکر رکھنا ایک خطرناک کھیل ہے اور یہ کشمیری نوجوانوں کو سرفروشی کا راستہ اختیار کرنے کی طرف راغب کرنے کا ایک بڑا سبب ثابت ہورہا ہے۔ حریت نے پیپلز لیگ سربراہ غلام محمد خان سوپوری کی صحت ناسازی کے باوجود مسلسل نظربندی، مسلم لیگ کارکن خضر محمد گنائی کے گھر مسلسل چھاپوں اور اہل خانہ کو ہراساں کرنے، بارہ مولہ کے سجاد احمد خان اور بشیر احمد بٹ کو پچھلے ساڑھے 3مہینوں سے مسلسل جے آئی سی میں رکھنے اور بارہ مولہ کے اشفاق احمد شیخ، سہیل احمد شیخ، وسیم احمد فراش، مقصود احمد خان اور آصف احمد ڈار پر لگاتار دوسرا پی ایس اے (PSA)لگانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی پر زور دیا ہے۔ حریت کے مطابق امیرِ حمزہ شاہ، محمد رستم بٹ، عبدالسبحان بٹ، محمد یوسف لون،شیخ محمد یوسف، ماسٹر علی محمد، شکیل احمد یتو، میر حفیظ اللہ، محمد یوسف فلاحی، محمد شعبان ڈار، رئیس احمد میر، عبدالاحد پرہ، محمد رفیق گنائی،مشتاق احمد ہرہ، منظور احمد کلو، شکیل احمد بٹ، بشیر احمد کشمیری، غلام محمد تانترے، عبدالمجید راتھر، غلام محمد لون، حاجی غلام محمد میر، بشیر احمد صوفی، منظور احمد بھگت، حکیم شوکت، اسد اللہ پرے، شاکر احمد میر، شکیل احمد یتو، غلام حسن ملک، حاجی غلام محمد میر، عبدل حمید پرے، جاوید احمد پھلے، نذیر احمد مانتو اور محمد شعبان خان سمیت 5سو سے زائد ایسے حریت رہنما ابھی مختلف جیلوں اور انٹروگیشن سینٹروں میں پابند سلاسل ہیں، جنہیں 2016 کی عوامی تحریک کے دوران میں حراست میں لیا گیا تھا اور جن پر کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA)کا اطلاق کیا گیا تھا۔ 100کے لگ بھگ آزادی پسندوں پر لگایا گیا پی ایس اے (PSA)اگرچہ عدالتِ عالیہ کے ذریعے سے Quashبھی ہوا ہے۔

، البتہ ان پر یا تو دوسری بار پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا ہے، یا ان کے خلاف فرضی کیسوں کے تحت ایف آئی آر (FIR)درج کرائے گئے ہیں اور وہ غیر قانونی طور پر حبس بے جا میں رکھے گئے ہیں۔ حریت بیان میں کہا گیا کہ نوجوانوں کی گرفتاری اور انہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیجنے کا سلسلہ 2017 میں بھی جاری رکھا گیا ہے اور اس حوالے سے ضلع بارہ مولہ میں سب سے زیادہ لوگوں پر پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا ہے اور آج بھی کیا جارہا ہے۔ جے آئی سی بارہ مولہ میں قیدیوں کے ساتھ جس قسم کا سلوک روا رکھا جارہا ہے، وہ رونگھٹے کھڑا کرنے والا ہے اور اس انٹروگیشن سینٹر کو ابوغریب جیل جیسا بنایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اس سلسلے میں ایک تفصیلی ڈاکومنیٹیشن تیار کرکے نہ صرف انسانی حقوق کے لیے سرگرم اداروں کی نوٹس میں لائی جائے گی، بلکہ ان پولیس افسروں کا معاملہ عوامی عدالت کے سامنے بھی رکھا جائے گا۔

مزید : عالمی منظر