یمنی باغیوں نے اقوام متحدہ اہلکاراسٹیفن او برائن کو تعز جانے سے روک دیا

یمنی باغیوں نے اقوام متحدہ اہلکاراسٹیفن او برائن کو تعز جانے سے روک دیا

صنعاء(این این آئی)یمن میں حوثی باغیوں نے مبینہ طور پر اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ اسٹیفن او برائن اور ان کے گاڑیوں کے قافلے کو تعز شہر کے محاصر زدہ علاقوں میں جانے سے روک دیا ۔میڈیارپورٹس کے مطابق حوثی باغیوں اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز نے گذشتہ دو سال سے تعز کا محاصرہ کررکھا جبکہ شہر پر یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کا کنٹرول ہے۔ اسٹیفن او برائن اور ان کا قافلہ پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق تعز جانا اور وہاں کی زمینی صورت حال کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔ جب حوثی ملیشیا کی جانب سے عالمی ادارے کے انسانی امور کے سربراہ کو تعز میں داخل ہونے سے روکنے کی وجہ پوچھی گئی تو یہ بتایا گیا کہ انھوں نے معزز مہمان کے تحفظ کے پیش نظر ایسا کیا ۔لیکن ذرائع کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کو ان کے دورے کا پیشگی علم تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے شہر کے حالات خراب کرنے کے لیے شہر کی جانب گولہ باری اور فائرنگ شروع کردی تھی تا کہ عوامی مزاحمتی فورسز اور صدر منصور ہادی کی حکومت کے تحت فوج بھی ان کی اس اشتعال انگیزی کا جواب دے۔سٹیفن او برائن نے عدن میں سوموار کی شب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی برادری کو جنگ زدہ یمن کے مکینوں کی امداد کے لیے اپنے فنڈز میں اضافہ کرنا چاہیے اور تنازعے کے فریقوں کو متاثرہ افراد تک انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے رسائی دینی چاہیے۔اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ بندر گاہوں تک بھی رسائی دی جائے تاکہ ضروری درآمدات یمن میں داخل ہوسکیں۔

مزید : عالمی منظر