قرآن پاک کا معجزہ۔۔۔۔۔۔ 14سو سال پہلے ڈی این اے کا طریقہ بتایا

قرآن پاک کا معجزہ۔۔۔۔۔۔ 14سو سال پہلے ڈی این اے کا طریقہ بتایا
 قرآن پاک کا معجزہ۔۔۔۔۔۔ 14سو سال پہلے ڈی این اے کا طریقہ بتایا

  

قاہرہ(ڈیلی پاکستان ریسرچ سیل)قرآن حکیم کتاب رشد وہدایت بھی ہے اور حکمت کا خزانہ بھی۔اسکے مطالعہ سے دنیاوی زندگی کے مسائل کو جاننے اور سمجھ کر حکمت سے حل کرنے کا بھی علم پایا جاتا ہے ،ہسپتالوں میں بچوں کی پیدائش اور بسا اوقات بچہ تبدیلی کے دعوؤں پر جھگڑے بھی عام سی بات ہوگئی ہے لیکن قرآن مجید نے اس پیچیدہ صورتحال کا بھی حل چودہ سو سال قبل پیش کردیا ہے جس پر غورو خوض کے بعد غیرمسلم ڈاکٹربھی قرآن مجید کے برحق ہونے کااعتراف کرنے پر مجبور ہوگیا۔ ایک ہی ہسپتال میں بچوں کی ڈلیوری کے دو کیس آتے ہیں، ایک عورت کے بطن سے لڑکا اور دوسری کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی، کوئی واضح شناخت نہ لگانے کی وجہ سے دونوں بچے خلط ملط ہوگئے اور ڈاکٹروں کیلئے بھی شناخت کرنا مشکل ہوگیا کہ کونسا بچہ کس خاتون کا ہے۔ڈی این اے جیسے طویل مرحلے میں پھنسے بغیر ہی ولادت کی نگرانی کرنیوالی ڈاکٹروں کی ٹیم نے ایک مسلمان ڈاکٹر سے مسئلے کے حل کیلئے رجوع کیا اور کہاکہ مسلمان تو دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں ہرطرح کے مسائل کا احاطہ کیاگیا تو اب بتائیں۔مسلمان ڈاکٹر نے جامع الازہر کے بعض شیوخ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہاکہ قرآن مجید کی ایک آیت ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے ’’ مرد کا حصہ دوعورتوں کے برابر ہے‘‘( النساء 11 ) باقی ہم طب کے بارے میں زیادہ نہیں جاتے، آپ خود اپنے شعبے میں اس کا اطلاق کریں۔ اس آیت پر غور کرنے اور گہرائی سے جائزہ لیے جانے پر بالآخر مشکل کا حل مل گیا کہ کونسا بچہ کس ماں کا ہے؟دونوں عورتوں کے دودھ کا ٹیسٹ کیا گیا اور تجزیئے اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ لڑکے کی ماں میں لڑکی کی ماں کے مقابلے میں دوگنا دودھ پایاگیا ، لڑکے کی ماں کے دودھ میں نمکیات اور وٹامنز کی مقدار بھی لڑکی کی ماں کے مقابلے میں دوگنا تھی۔

مزید : صفحہ آخر