19سال بعد‘ملک بھر میں مردم شماری کا آغاز وسط مارچ سے ہو گا

19سال بعد‘ملک بھر میں مردم شماری کا آغاز وسط مارچ سے ہو گا

لاہور(وقائع نگار)پاکستان میں 19 سال بعد مردم شماری کا آغاز رواں سال مارچ کے وسط سے ہو گا جس میں لگ بھگ دو لاکھ فوجی اہلکار تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔یہ فوجی گھروں اور افراد کے شمار کی مہم کے دوران مدد فراہم کریں گے۔حکام کے مطابق مردم شماری اور خانہ شماری کا عمل ایک ساتھ شروع کیا جائے گا اور اس کو دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔مارچ کے وسط میں ہونے والی مردم شماری میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کا شمار بھی کیا جائے گا۔ادارہ مردم شماری نے مارچ 2017 میں ملک بھر میں ہونے والی نئی مردم شماری کے لئے فارم 2 الف کو خارج کر دیا ہے۔ ادارہ مردم شماری نے اس بار صرف دو فارم بھرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تیسرا فارم 2 الف نہیں بھرا جائے گا ۔ جہاں مردم شماری کے بعد لوگوں کے لیے منصوبہ بندی ضروری ہے وہیں آئین پاکستان لوگوں کے اس حق کا دفاع بھی کرتا ہے کہ کوئی بھی شخص مردم شماری سے باہر نہ رہے اور کسی غیر ملکی چاہے وہ بنگالی، افغانی، ایرانی یا کسی دوسرے ملک سے تعلق رکھتا ہو،نادرا کے مطابق بلوچستان کے بلوچ بیلٹ میں 43فیصد بلوچ آبادی کی رجسٹریشن ہوچکی ہے جبکہ 57فیصد کی رجسٹریشن باقی ہے جبکہ پشتون بیلٹ میں 95فیصد رجسٹریشن ہوچکی ہے۔ جب تک 57فیصد بلوچ آبادی کی رجسٹریشن نہیں ہوگی، انہیں مراعات نہیں مل سکتیں۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...