پروفیسرز کی نجی اکیڈمیوں پر توجہ سے سرکاری کالجز میں تدریسی امور متاثر

پروفیسرز کی نجی اکیڈمیوں پر توجہ سے سرکاری کالجز میں تدریسی امور متاثر

لاہور(حافظ عمران انور) پروفیسرز کی پرائیویٹ اکیڈمیوں کی طرف توجہ سے سرکاری کالجز میں تدریسی امور متاثر ہونے لگے ہیں۔طلبہ پریشان ہیں۔صوبائی دارالحکومت لاہور کے 58 سرکاری کالجز میں سے 35 میل اور فی میل کالجز میں ایوننگ کلاسز کا منصوبہ ناکامی کی طرف گامزن ہے۔ ایوننگ کلاسز میں پڑھانے والے بیشتر اساتذہ کالجز میں پڑھانے کی بجائے اپنی پرائیویٹ اکیڈمیوں پر توجہ دینے لگے ہیں۔ سرکاری کالجز میں صبح کی شفٹ میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے کالجز میں دو شفٹوں میں تدریس کا فیصلہ کیا تھا ۔ایوننگ کلاسز میں کامرس،آئی کام اور بی کام کے پرائیویٹ سبجیکٹ سپیشلسٹ اور سرکاری کالجز کے پروفیسرز پر مشتمل فیکلٹی سٹاف کو ایوننگ کلاسز میں پڑھانے کا ٹاسک دیا گیا لیکن ایوننگ کلاسز میں پڑھانے والے اساتذہ کی کلاسز میں عدم حاضری اور اپنی پرائیویٹ اکیڈمیوں کو زیادہ ٹائم دینے کی وجہ سے یہ منصوبہ ناکام ہو رہا ہے ۔ طلبہ کا کہنا ہے کہا کہ کالجز میں اساتذہ کی اکثریت کا کلاسز سے غیر حاضر رہنا معمول بن گیا ہے جس سے ان کا تعلیمی حرج ہو رہا ہے ۔ روزانہ کی بنیادوں پر اساتذہ کی کلاسز میں غیر حاضری کی وجہ سے بھاری فیسیں دے کر پرائیویٹ اکیڈمیوں میں پڑھنے پر مجبور ہیں ۔ ڈائریکٹر کالجز ڈاکٹر ظفر عنایت انجم نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کالجز کی مارننگ اور ایوننگ کلاسز میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لئے کالج پرنسپلز کی سربراہی میں سپیشل مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو روزانہ کی بنیادوں پر کلاسز کا وزٹ کرکے رپورٹ ڈائریکٹوریٹ بھجواتے ہیں ایوننگ کلاسز میں کالج پرنسپلز کو شفٹ ختم ہونے تک کالجز میں موجودرہنے کا پابند کیا گیا ہے۔اگر کسی مضمون کو پڑھانے والا استاد غیر حاضر ہو تو متعلقہ کالج میں موجود سلیکشن بورڈ ان کی جگہ نئے استاد کو تعینات کر دیتا ہے ۔ایوننگ شفٹ میں پڑھانے والے اساتذہ کو عارضی بنیادوں پر پڑھانے کے لئے تعینات کیا جاتا ہے او رانہیں فی پیریڈ کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔ چیک اینڈ بیلنس کا مربوط نظام وضع کیا گیا ہے جس پر سختی سے عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

مزید : صفحہ آخر