قانون ساز غیر قانونی امیگریشن کیخلاف ملکر کام کریں : ٹرمپ

قانون ساز غیر قانونی امیگریشن کیخلاف ملکر کام کریں : ٹرمپ

 واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قانون سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کیخلاف اقدامات، اقتصادی ترقی میں اضافے اور امریکی فوج کی تعمیر نو جیسے معاملات میں ان کیساتھ ملکر کام کریں۔ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے تقریباً چھ ہفتے بعد پہلی مرتبہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ پر مشتمل کانگریس کے دونوں ایوانوں کے ارکان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق قانون سازی کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی۔ منتخب صدر امریکی روایات کے مطابق ہر سال مکمل ہونے پر وفاق کی تازہ صورت سے آگاہی کیلئے کانگریس سے ’’سٹیٹ آف یونین‘‘ خطاب کرتا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اسی انداز میں کانگریس کو بتایا کہ وہ اس سال کیا قانونی اقدامات اٹھانے والے ہیں۔ ان کا لہجہ معمول کی طرح جوشیلا نہیں بلکہ وہ معتدل اور متوازن انداز میں تقریر کر رہے تھے۔ امریکی نائب صدر مائیک پنس جو بلالحاظ عہدہ چیئرمین سینیٹ بھی ہیں اور ایوان نمائندگان کے سپیکر پال رائن اجلاس کی مشترکہ صدارت کرتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے تھے جو سامنے بیٹھے ارکان کے ساتھ بار بار کھڑے ہوکر تالیاں بجا کر اپنی پسندیدگی کا اظہار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک ’’امریکی جذبے کی تجدید نو‘‘ دیکھ رہا ہے اور انہوں نے کانگریس میں اپنے مخالفین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اس میں حصہ لیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ’’چھوٹی سوچ کا وقت گزر گیا ہے، چھوٹی چھوٹی لڑائیاں لڑنے کا دور ماضی کا حصہ بن چکا اور اب ہمیں اپنے دلوں میں موجزن خوابوں میں سب کو شریک کرنے کا حوصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری روح کو متحرک کرنے والی امیدوں کے اظہار کا حوصلہ اور ان امیدوں اور خوابوں کو عمل میں تبدیل کرنے کا اعتماد چاہئے‘‘۔ انہوں نے بار بار ایوان کے دونوں طرف کے ارکان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ’’پہلے امریکہ‘‘ کے ایجنڈے کی حمایت کریں اور امریکیوں کی زندگی بہتر بنانے کے مشترکہ مقصد کیلئے متحد ہوکر کام کریں۔اپنی تقریر کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے ’’سیاہ فاموں کی تاریخ کے مہینے‘‘ یہودیوں کے خلاف منافرت کی کارروائیوں اور کنساس میں نفرت کے مہینہ جرم کا ذکر کیا اور ان الزامات کی تردید کی کہ وہ ملک میں نسل پرستی اور نسلی تعصب کو ہوا دے رہے ہیں۔ اسی شام ڈیمو کریٹک نیشنل کمیٹی نے اپنے حامیوں کے نام ایک ای میل میں قرار دیا تھا کہ ٹرمپ یہودیوں کے خلاف نفرت کے جرائم کا باعث بن رہے ہیں۔ غالباً صدر ٹرمپ کا اشارہ اسی ای میل کی طرف تھا۔صدر ٹرمپ قومی اور بین الاقوامی معاملات میں پہلے ہی جو پالیسی بیانات دے چکے ہیں، انہوں نے اپنی ایک گھنٹے کی تقریر میں کانگریس کو اعتماد میں لینے کیلئے پھر دہرایا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ داعش کو شکست دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور ٹیکس کے نظام میں تبدیلیاں لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ داعش کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے سیارے سے اس نیچ دشمن کو ختم کرنے کیلئے مسلم دنیا سمیت تمام اتحادیوں اور دوستوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے، لیکن ملک کے اندر اور بیرون ملک ان مقاصد کی تکمیل کے لئے ہمیں امریکی معیشت کے انجن کو دوبارہ سٹارت کرنا ہوگا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنیوں کو امریکہ میں کام کرنا زیادہ آسان اور ملک کو چھوڑ کر جانا زیادہ مشکل بنانا ہوگا۔‘‘ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی ٹیم تاریخی ٹیکس اصلاحات تیار کر رہی ہیں جن کے ذریعے ٹیکس کی شرح اتنی کم ہوگی کہ امریکی کمپنیاں ملک کے اندر اور باہر ہر جگہ حریف کمپنیوں کا مقابلہ کرسکیں گی۔ اس کے علاوہ متوسط طبقے کو بھی ٹیکس میں خاصی چھوٹ دی جائے گی۔ انہوں نے ٹیکسوں کے نظام میں موجودہ ابتری کا ذمہ دار سابق صدر اوبامہ کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نو کروڑ چالیس لاکھ امریکی بیروزگار ہیں، چار کروڑ تیس لاکھ سے زائد غربت کا شکار ہیں۔ ہماری مالیاتی بحالی کی صورت حال گزشتہ 65 برس کی خراب ترین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ انتظامیہ نے ملک پر نئے قرضوں کا اتنا بوجھ ڈال دیا تھا جتنا ماضی کے تمام صدور نے مل کر نہیں ڈالا۔ مجموعی قومی قرضہ 106 کھرب ڈالر سے بڑھ کر 200 کھرب ڈالر ہوچکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کو خارجہ پالیسی کے شعبے میں المناک تباہیاں وراثت میں ملی ہیں، جن میں تجارتی خسارہ بھی شامل ہے، جو 800 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ ہیلتھ انشورنس کے معروف منصوبے ’’اوبامہ کیئر‘‘ کو منسوخ کرکے اس کی جگہ نیا منصوبہ لانے اور نئی تعلیمی پالیسی وضع کرنے کی ان کی تجاویز کی حمایت کرے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کو ختم کرنے کے سابقہ اعلان میں تبدیلی پیدا کرتے ہوئے تعلیمی اختیارات ریاستی اور مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے کی نئی تجویز پیش کی۔ صدر ٹرمپ نے اپنی امیگریشن پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ انصاف نے جو اعداد و شمار پیش کئے ہیں، ان کے مطابق دہشت گردی سے متعلق جرائم میں جن افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں، ان میں سے بیشتر کا تعلق غیر ملکی باشندوں سے ہے اور نائن الیون کا سانحہ کرنے والے افراد بھی باہر سے آئے تھے۔

ٹرمپ

مزید : علاقائی