پڑھتا جا شرماتا جا۔۔۔ ! (قسط نمبر 1 )

پڑھتا جا شرماتا جا۔۔۔ ! (قسط نمبر 1 )

افغانستان جیسا ملک جہاں گورننس کا تصور بھی ایک مذاق لگتا ہے جس کا انفراسٹرکچر ایک طویل جنگ کے باعث تباہ ہو چکا ہے ، فوج اور پولیس اور دیگر ادارے ایک بار تباہ ہو گئے پھر امریکہ سمیت نیٹو کے 50 ممالک ملکر بھی اس کے اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں کر پائے ، لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال یہ ہے کہ افغان صدر اپنے محل پر توپیں نصب کر کے سوتے ہیں اور ان کی حکمرانی ان کے محل سے چند میل دور جا کر ختم ہو جاتی ہے آکو یہ جان کر حیرانگی ہوگی کہ افغانستان میں کھانے پینے کی روزہ مرہ کی اشیا میں ملاوٹ نہیں ہوتی دنیا کے بدترین ممالک جہاں پر غربت آسمان سے باتیں کر رہی ہے وہاں پر بھی انسان انسانوں کو زہر نہیں بیچتے ، پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا ، دنیا اسلام میں سے واحد ایٹمی قوت ہے۔ آج آپ صبح سے شام تک عوام کے رویوں اور اعمال کا جائزہ لیں پھر ان کی خواہشات کی فہرست کا جائزہ لیں آپ کو خوف آئیگا کہ ہر شخص چاہتا ہے کہ ان کے حکمران پیغمبرانہ صفات کے مالک ہوں مگر وہ شخص خود تبدیل نہ ہو یعنی ساری دنیا ٹھیک ہو جائے مگر جو یہ خواہش رکھتا ہے وہ خود تبدیل ہونے کیلئے تیار نہیں۔ میرا آج کا کالم ایک ایسی ہی معاشرتی گراوٹ کا احاطہ کریگا جس کا ذکر میں نے آغاز میں کیا ہے کھانا اور پینا ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی پیدائش کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور انسان کے مرنے تک جاری رہتا ہے کمسن بچے سے لیکر 100 سال کے بوڑھے اور بوڑھی تک زندہ رہنے کیلئے خوراک کا استعمال کرتا ہے آپ ایک لمحے کیلئے رکیے اور غور فرمائیے کہ آپ کا والد یا والدہ 80 یا 90 سال کی عمر میں بیمار ہیں اور آپ ان کو دودھ دیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تو دودھ ہے ہی نہیں بلکہ دودھ کے نام پر زہر ہے آپ پر کیا گزرے گی آپ کو اگر یہ پتہ چلے کہ آپ جو دودھ اپنی جان سے عزیز اپنے بچے کو پلا رہے ہیں وہ بھی دودھ نہیں ہے تو آپ کی کیا کیفیت ہوگی اور اگر آپ کو جان بچانے والی ادویات بھی ملاوٹ شدہ ملیں تو آپ کی زندگی کی کیا قیمت رہ جائے گی آپ کی زندگی کا مقصد کیا رہ جائیگا۔ ہماری اخلاقی گراوٹ کی سطح یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ چند روز قبل لاہور میں واقع کینال سے گزر ہوا وہاں ایک شخص صدقے کا گوشت بیچ رہا تھا میں نے صدقے کا گوشت فروخت کرنے والے کو 100 روپے دیئے اس کو کہا کہ اس کے عوض جتنا گوشت آتا ہے اس کو پرندوں کے آگے ڈال دیا جائے اس نے 100 روپے جیب میں ڈالے اور مختلف شاپروں میں موجود گوشت کیکی بوٹیاں بڑی تیزی کے ساتھ پرندوں کے آگے ڈال دیں کچھ پرندے وہاں سے گوشت لیکر اڑ گئے مگر ایک چیل نے گوشت کا ٹکرا پکڑ کر دوبارہ پھینک دیا جو اتفاق سے میرے پاس آ کر گرا مجھے اس پر بہت حیرانگی ہوئی کہ چیل گوشت کو اس طرح پکڑنے کے بعد کیسے پھینک سکتی ہے میں نے جب گوشت کے ٹکڑے کا جائزہ لیا تو میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی میں حیران رہ گیا وہ گوشت نہیں بلکہ کاٹن کے ایک ٹکڑے کو سرخ رنگ کیا گیا تھا میں نے گوشت والے کو اِدھر اُدھر تلاش کیا تو وہاں سے رفو چکر ہو چکا تھا، ہم اخلاقی طور پر اس حد تک گر چکے ہیں اور روزانہ جس جگہ بیٹھتے ہیں وزیر اعظم میاں نواز شریف کی کرپشن پر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں ہم جگہ جگہ چوبیس گھنٹے اخلاقیات کا بھی درس دے رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ کیا قائد اعظم نے اس لئے یہ ملک بنایا تھا کہ یہاں دودھ سے لیکر جان بچانے والی ادویات تک خالص نہ ملیں ، گدھے گھوڑوں سے لیکر سور اور کتے تک گوشت کی خبروں سے کون واقف نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اشیائے خوردو نوش کے مختلف سیمپل لیکر لیبارٹری میں بھجوائے تو جو رپورٹس سامنے آئی ہیں اس کو پڑھ کر آپ کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔ دودھ کی تیاری میں وے پاؤڈر، ڈٹرجنٹ، نباتاتی تیل، سکم ملک پاؤڈر اور مضر صحت نمک تک استعمال کیا جا رہا ہے۔ تھوڑے سے خالص دودھ میں یہ اشیا ڈالیں اور منوں دودھ تیار کر لیں اس کے علاوہ ارب پتی کمپنیاں دودھ کے نام پر قوم کے ساتھ کیا کر رہی ہیں وہ ایک الگ سے داستان ہے ۔ دوسری طرف ڈاکٹرفرما رہے ہیں کہ مصنوعی یا جعلی دودھ سے کینسر ، معدہ ، جگر کی بیماریاں پھیل رہی ہیں ، بچوں کی نشوونما متاثر ہورہی ہے اور کئی پوشیدہ بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ چائے جو پاکستان میں کثرت کے ساتھ پی جاتی ہے اس کو مصنوعی رنگ ، چنے کے چھلکے، استعمال شدہ چائے کی پتی ، بھوسا اور کیمیکل کلر سے چائے کا رنگ دیکر تیار کیا جا رہا ہے اسی طرح شہد کی طبی حوالے سے اور مذہبی اعتبار سے بہت اہمیت ہے مگر انسان نما جانور شہد کی تیاری کیلئے میدہ، سوجی، فائبر ، نکلا ہوا آٹا، گلوکوز اور سیرپ ڈال کر تیارکررہے ہیں۔

میرا مقصد لوگوں کو ڈرانا ہرگز نہیں میرا مقصد صرف انسانیت کے روپ میں یہاں بسنے والے جانوروں کو بے نقاب کرنا ہے جو صرف پیسے کے حصول کیلئے انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں اور اس تحریر کیلئے ان سادہ لوح شہریوں کو شعور دینا ہے کہ وہ خوراک کے نام پر صبح و شام کیا کھا رہے ہیں تحریر کی طوالت مجھے مجبور کر رہی ہے کہ میں اس داستان غم کو ایک سے زیادہ اقساط میں بیان کروں لہٰذا کل دوسرا حصہ نذر قارئین کروں گا۔ (جاری ہے)

عام آدمی

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...