انتہا پسندی ، دہشتگردی منشیات کی سمگلنگ روکنا مشترکہ چیلنج ، سی پیک خطے میں ترقی کا زینہ ہے : ای سی او کانفرنس کا اعلامیہ

انتہا پسندی ، دہشتگردی منشیات کی سمگلنگ روکنا مشترکہ چیلنج ، سی پیک خطے میں ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر۔ ایجنسیاں)اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے 13ویں سربراہ اجلاس کے اختتام پر اعلان اسلام آباد کے نام سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے ۔اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ سی پیک منصوبہ خطے میں ترقی کا زینہ ہے ۔انتہا پسندی، دہشت گردی اورمنشیات کی سمگلنگ روکنا مشترکہ چیلنج ہے ۔ تنظیم میں شامل ممالک خطے کے امن و استحکام، اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لئے پر عزم ہیں، تنازعات اور تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لئے اقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق عمل کیا جائے گا، ای سی او ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو خطے کی ترقی کی بنیاد بنانے کا عزم اظہار کیا گیا۔افغانستان میں امن اور سلامتی کے لئے کی علاقائی اور عالمی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیاگیا،اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد کرتے ہوئے سیاسی آزادیوں کا احترام ، آزادممالک کی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کیا جائے گا اور قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کا فروغ اور تنازعات کے پر امن حل کئے جائیں گے، ہر طرح کی دہشت گردی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے جدت پسندی کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ مکالمہ ، باہمی عزت ، سماجی ہم آہنگی ، پائیداروترقی ، مساوی بنیادوں پر ترقی استحکام اور خوشحالی کے فروغ دینے کی ضرورت پر زوردیا گیا،ای سی او خطے میں مختلف شعبوں بشمول علاقائی سیاحت، عوامی رابطوں ، توانائی اور مواصلات سمیت دیگر شعبوں میں روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، سی او ممالک کے درمیان تجارت کو اگلے تین سے پانچ سال میں دوگنا کرنے کیلئے اقدامات پر اتفاق کیا گیا اور ای سی او تجارتی معاہدے پر عمل درآمد پر اتفاق کیا گیا، ای سی او کی علاقائی توانائی مارکیٹ کے قیام کے حوالے سے امکانات پر غور کیا گیا ، سی پیک کو ایک دورس اقدام کے طور پر خوش آمدید کہا گیا جو خطے کی ترقی میں ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔ اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے 13ویں سربراہ اجلاس میں ای سی او اسلام آباد ڈیکلریشن کی منظوری دی گئی ۔ اجلاس کے بعد دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کئے گئے ڈیکلریشن میں کہا گیا ہے کہ ای سی او رکن ممالک کے سربراہان مملکت اور ریاست نے ای سی او کے 13ویں اجلاس میں علاقائی خوشحالی کیلئے روابط کے تھیم کے تحت شرکت کی ۔ ای سی او اجلاس میں شرکت نے والے رکن ممالک کے سربراہان اور نمائندوں نے ای سی او خطے کی معاشی ترقی ، مشترکہ خوشحالی ، علاقائی وحدت ، امن اور استحکام کے لئے ای سی او کے مقاصد کے حصول کیلئے مضبوط سیاسی عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ رکن ممالک نے اتفاق کیا کہ وہ ای سی او ممبر شپ کی توسیع کی سلور جوبلی منا رہے ہیں جس کی وجہ سے علاقائی تعاون وترقی میں اضافے کیلئے نئے دور اور امکانات کا آغاز کیا ہے ۔ تنظیم کی توسیع اور دائرہ کار کو بڑھانے کیلئے اس کی رکنیت میں دلچسپی ظاہر کرنے والے ممالک اور بطور مبصر شمولیت میں دلچسپی ظاہر کرنے والے ممالک اور تنظیموں کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ رکن ممالک نے اس کا اعادہ کیا کہ وہ اضمیر معاہدے کے مقاصد اور اصولوں پر کاربند رہیں گے اور رکن ممالک کے درمیان ہونے والے سمجھوتوں کو مکمل اہمیت دیں گے ۔ مختلف شعبوں میں جاری تعاون کو بھی ای سی او کے مقاصد کی تکمیل کیلئے اہمیت دیں ۔ اس بات پر اتفاق کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد کرتے ہوئے سیاسی آزادیوں کا احترام ، آزادممالک کی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کیا جائے گا اور قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کا فروغ اور تنازعات کے پر امن حل کئے جائیں گے ۔ رکن ممالک نے اتفاق کیا کہ وہ خطے اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال اور نئی پیش رفت سے پیدا ہونے والے چیلنجز اور مواقعوں کے حوالے سے اپنے موقف شیئر کر رہے ہیں ۔ خطے اور اس کے عوام اجتماعی مفاد کیلئے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مل کر کام کریں اور مل کر مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ مثبت سیاسی ، معاشی ، ثقافتی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت ٹرانس یوریشین روابط بشمول ای سی او ریجن روابط کا خواب حقیقت بنایا جاسکتا ہے ۔ سائبر ، توانائی ، ریل ، سڑکوں اور پورٹس اینڈ شپنگ کو روابط کے حوالے سے وسیع نظریہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ رکن ممالک نے اتفاق کیا کہ وہ عوامی سطح پر روابط کے فروغ کے لئے حوصلہ افزائی کریں گے ۔انہوں نے ای سی او خطے میں روابط کے فروغ کو خوش آمدید کہا جس سے ای سی او کے روابط کے حوالے سے ویژن کو سپورٹ ملے ۔ انہوں نے ای سی او خطے کے درمیان تجارت کے فروغ کیلئے اپنے عزم کا اظہار کیا جس سے خطے میں معاشی تعاون اور خطے کی اہمیت میں اضافہ ہوگا ۔ 2015کے بعد ترقیاتی ایجنڈے کی اہمیت پر زوردیا گیا جس سے ای سی او کے رکن ممالک اپنا مقاصد حاصل کر سکتے ہیں ۔ ہر طرح کی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے جدت پسندی کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا اور مکالمہ ، باہمی عزت ، سماجی ہم آہنگی ، پائیداروترقی ، مساوی بنیادوں پر ترقی استحکام اور خوشحالی کے فروغ دینے کی ضرورت پر زوردیا گیا ۔رکن ممالک نے ای سی او خطے میں افغانستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے قومی ، علاقائی اور عالمی سطح پر افغانستان کی تعمیر نو ، پائیدار ترقی اور امن وسلامتی کے لئے کوششوں کی مکمل سپورٹ کا اعادہ کای گیا ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے حال ہی میں منظور کی گئی’’ پائیدار ترقی کیلئے پانی‘‘پر قرارداد کو خوش آمدید کہا گیا ۔ ای سی او وژن 2025کی منطوری کو خوش آمدید کہا گیا اور رکن ممالک کی جانب سے اس پر عمل درآمد پر عزم کا اظہار کیا گیا ۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ باہمی مفاد کے حوالے سے تنظیم پر اتفاق کیا گیا ۔ ای سی او کے تحت ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے انفراسٹرکچر کی تعمیر، تجارت کے فروغ اور خطے کے توانائی کے موثر استعمال کے حوالے سے طویل المدت ترجیحات پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ ای سی او خطے میں مختلف شعبوں بشمول علاقائی سیاحت، عوامی رابطوں ، توانائی اور مواصلات سمیت دیگر شعبوں میں روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ۔ سی پیک کو ایک دورس اقدام کے طور پر خوش آمدید کہا گیا جو خطے کی ترقی میں ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔ ای سی او ممالک کے درمیان تجارت کو اگلے تین سے پانچ سال میں دوگنا کرنے کیلئے اقدامات پر اتفاق کیا گیا اور ای سی او تجارتی معاہدے پر عمل درآمد پر اتفاق کیا گیا۔ توانائی کے شبعہ میں علاقائی تعاون کو بڑھانے کیلئے توانائی کیلئے انفراسٹرکچر بشمول تیل اور گیس کی پائپ لائنوں کی تعمیر اور ماحول دوست توانائی کے منصوبوں کے فروغ پر اتفاق کیا گیا ۔ ای سی او کی علاقائی توانائی مارکیٹ کے قیام کے حوالے سے امکانات پر غور کیا گیا ۔ ای سی او کے درمیان علاقائی ٹرانزٹ نیٹ ورک کے قیام پر اتفاق کیا گیا جس سے ای سی او خطے کو دوسرے خطوں سے منسلک کیا جا سکے گا ۔ اجلاس میں کوریڈرور کی بنیاد پر حکمت عملی پر عمل درآمد پر تسلی کا اظہار کیا گیا ۔ خطے میں ڈیجیٹل تقسیم کو دور کرنے کیلئے انفارمیشن سٹرکچر کی تعمیر پر زوردیا گیا ۔ منشیات اور دیگر جرائم سے نمٹنے کیلئے اقدامات کرنے پر زوردیا گیا ۔ اجلاس میں پر امن ، خوشحال اور محفوظ افغانستان کیلئے مضبوط خواہش کا اظہار کیا گیا ۔ اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں ای سی او کے13ویں کامیاب اجلاس کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا گیا ۔اعلامیہ میں خطے کی معاشی ترقی، علاقائی روابط اور امن و استحکام کیلئے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ ویژن 2025 کی منظوری دی گئی۔سربراہان مملکت نے جمہوریت کو درپیش خطرات، امتیازی ویزا پالیسی اور معاشی پابندیوں پر اظہار تشویش کیا۔ مقبوضہ علاقوں کی آزادی کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔اقتصادی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق عالمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کرنے، علاقائی سطح پر سیاسی، معاشی، ثقافتی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تجارت اور اقتصادی تعاون کیلئے رکن ممالک کو ریل، سڑکوں اور بندرگاہوں کے ذریعے جوڑنے، سائبر رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تعلیمی و سائنسی اداروں اور عوامی رابطوں کو فروغ دیا جائے گا۔ ویژن 2025 کے تحت ترقیاتی منصوبوں کیلئے ای سی او بینک کو وسعت دینے، ری انشورنس کمپنی کو فعال کرنے، تیل و گیس پائپ لائنز، بجلی کی پیداوار میں سرمایہ کاری ای سی او الیکٹریسٹی مارکیٹ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ سربراہان مملکت نے جمہوریت کو درپیش خطرات، امتیازی ویزا پالیسی اور معاشی پابندیوں پر اظہار تشویش کیا۔ مقبوضہ علاقوں کی آزادی کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔

\ای سی او اعلامیہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے لئے بہتر تعاون کے ذریعے آگے کی جانب پیشرفت کا وقت آگیاہے، پاکستان کا محل وقوع بہترین ہے، ایکو کو ایک طاقتور اقتصادی بلاک بنانے اور ترقی کی جانب پیشرفت کے لئے اسے موثر ادارہ بنانے کے مشترکہ وژن کے حصول کے لئے پاکستان کے پاس بنیادی ڈھانچہ موجود ہے،ممبر ممالک کے درمیان رابطوں کو استوار کرنے اور تجارتی راستوں پر توجہ دینا چاہتے ہیں، ہم البیرونی، فارابی، سعدی، رومی اور اقبال جیسے عظیم لوگوں کے قابل فخر وارث ہیں، جنوبی اور وسطی ایشیا میں سی پیک کو اب توانائی، بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں رابطوں اور تجارت کے فروغ کا بنیادی منصوبہ تسلیم کیا جا رہا ہے، اقتدار سنبھالنے کے بعد پرامن ہمسائیگی کی پالیسی پر عمل کرنا ہمارا مقصد رہا ہے۔مہنگائی کم ہونے سے معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔پرامن ہمسائیگی کی پالیسی پر گامزن ہیں ، جنوبی ایشیا وسائل سے مالا مال ہے ۔ خوشحالی کیلئے ای سی او ممالک کو باہمی روابط کو فروغ دینا ہو گا۔آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے ۔ اقتصادی تعاون تنظیم کے 13 ویں اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ وہ اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ اقتصادی تعاون تنظیم کا وقت اب آ چکا ہے اور یہ بہترین وقت ہے کہ آگے کی جانب پیشرفت کی جائے، علاقائی خوشحالی کے لئے رابطوں کے اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے اس سے زیادہ مناسب وقت پہلے کبھی نہیں آیا۔ اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں تمام 10 رکن ممالک کے8 مملکتی و حکومتی سربراہ موجود ہیں، ان میں پاکستان کے علاوہ ایران، آذربائیجان، ترکی، افغانستان، تاجکستان، قزاخستان، ترکمانستان، کرغیزستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ وزیراعظم محمد نواز شریف جنہیں قبل ازیں اقتصادی تعاون تنظیم کے 13 ویں اجلاس میں چیئرمین منتخب کیا گیا تھا نے کہا کہ پاکستان کا محل وقوع بہترین ہے، ملک میں سیاسی استحکام ہے اور اقتصادی تعاون تنظیم کو ایک طاقتور اقتصادی بلاک بنانے اور ترقی کی جانب پیشرفت کے لئے اسے ایک مؤثر ادارہ بنانے کے مشترکہ وژن کے حصول کے لئے پاکستان کے پاس بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اقتصادی تعاون تنظیم کا 13 واں سربراہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تنظیم کی توسیع کی 25 ویں سالگرہ ہے، یہ اقتصادی تعاون تنظیم کے بنیادی اصولوں اور نظریات کی تجدید کا پرمسرت موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی تعاون تنظیم کا ایجنڈا ہمیشہ عوام پر مرتکز رہا ہے، اس سربراہ کانفرنس میں ہم ممبر ممالک کے درمیان رابطوں کو استوار کرنے اور تجارتی راستوں پر توجہ دینا چاہتے ہیں تاکہ اقتصادی تعاون تنظیم خطے کے عوام ترقی کر سکیں۔ اقتصادی تعاون تنظیم کا خطہ غیر اہم جغرافیائی علاقہ نہیں ، یہ وسیع علاقہ ہے جو دنیا کی آبادی کا چھٹا حصہ ہے ، اس خطے میں اگرچہ لاتعداد مواقع موجود ہیں اور دنیا کی آبادی میں 16 فیصد ایکو ممالک کا ہے تاہم دنیا کی تجارت میں اس کا حصہ محض 2 فیصد ہے، اسی طرح ایکو ممالک کا دنیا کے ساتھ تجارت میں بڑا معمولی حصہ ہے۔ ہم آپس میں رابطوں کو فروغ دے کر ان اعداد و شمار میں اضافہ کر سکتے ہیں، یہ خطہ تاریخ میں کبھی شاہراہ ریشم کے نام سے معروف تھا، یہ تہذیبوں کا مرکز اور تجارت کا راستہ تھا، اس کے ساتھ ساتھ یہ ثقافت اور علم و دانش کی راہداری کے حوالے سے بھی جانا جاتا تھا، وقت آ گیا ہے کہ ہم ایشیاکے اقتصادی اور تجارتی مرکز ہونے کے اپنے تاریخی کردار کو زندہ کریں۔ اس کانفرنس کا ’’علاقائی خوشحالی کے لئے رابطوں کا فروغ‘‘ کا موضوع ہمارے مشترکہ ماضی اور خوشحال مستقبل کے لئے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اقتصادی تعاون تنظیم کو علاقائی تعاون کی مثال بنایا جا سکتا ہے اور ہمارے عوام کی زندگیاں اس کے ذریعے سنور سکتی ہیں، اس تناظر میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ خطے کے کئی ممالک رابطوں کو فروغ دینے کے منصوبوں میں پہلے ہی بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ خطے کے ممالک سینٹرل ایشین ٹرانس یورایشین لینڈ برج کے ذریعے تیزی سے ابھر رہے ہیں، صحراؤں اور پہاڑوں کو عبور کرتی ہوئی تیل اور گیس پائپ لائنیں مارکیٹوں تک پہنچ رہی ہیں اور ریل روڈ نیٹ ورکس رابطوں کو استوار کرنے کے ہمارے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ ہمیں وسیع تر اتحاد کے لئے اپنی انفرادی کوششوں کو اجتماعی عمل میں تبدیل کر کے مزید مقاصد حاصل کرنے چاہئیں۔ وزیراعظم نے یقین ظاہر کیا کہ ای سی او کا وقت حقیقی طور پر آ پہنچا ہے۔ ہمیں بھرپور طریقے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے علاقائی خوشحالی کے لئے رابطوں کے فروغ کے اپنے خواب کو عملی تعبیر دینے کے لئے اس سے زیادہ بہتر موقع پہلے کبھی نہیں آیا۔ 2013ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پرامن ہمسائیگی کی پالیسی پر عمل کرنا ان کی حکومت کا مقصد رہا ہے، ایسا سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے امن برائے ترقی کے ہمارے وژن کی بنیاد ہماری مسلسل کوششیں ہیں تاکہ ہم سب حقیقی معاشی اور ترقی کی اپنی صلاحیت سے استفادہ کر سکیں ، اس مقصد کے حصول کے لئے دیرینہ تنازعات کا پرامن حل اہم کردار ادا کرے گا۔ مشترکہ خوشحالی کے لئے باہمی تعاون کو مضبوط بنانے، تجارت میں اضافہ اور خطے میں ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں رابطوں کے فروغ کی ضرورت ہے جو ہمارے وژن کی بنیاد ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے زیادہ رابطوں کے ذریعے مساوی تعاون کے پاکستان کے تصور سے بہتر شاید کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ یہ بات اطمینان بخش ہے کہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا میں چین پاکستان اقتصادی راہداری اب توانائی، بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں رابطوں اور تجارت کے فروغ کا بنیادی منصوبہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔ صرف توانائی، ٹرانسپورٹ اور تجارت ہی نہیں ہمیں زراعت، ثقافت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی کے وسیع شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے کوششیں کرنی چاہئیں انہیں اپنا ایجنڈا بنانا چاہئے،شاہراہ ریشم ہمیں علم کے فروغ اور مصنوعات کی ترسیل کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ا پاکستان اپنے محل وقوع کی وجہ سے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیاء اور اس کی اقتصادی صلاحیت کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے، پاکستان کی موجودہ معاشی کارکردگی ہمارے وعدوں کے عین مطابق ہے اور پچھلے کچھ سالوں کے دوران عالمی مالیاتی اداروں اور مبصرین نے پاکستان کی معاشی کارکردگی کا اعتراف کیا ہے، گزشتہ سال پاکستان کی سٹاک مارکیٹ جنوبی ایشیاء کی بہترین اور دنیا کی پانچویں بہترین سٹاک مارکیٹ رہی، ہمارے اقتصادی اشاریئے بہتری اور درست سمت میں جا رہے ہیں۔ افراط زر کی شرح کم ہے اور جی ڈی پی کی شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان 20 کروڑ آبادی پر مشتمل صارفین کی منڈی ہے جو کہ بڑھتے ہوئے بڑے متوسط طبقے پر مشتمل ہے اور ہم بہت جلد مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کی مارکیٹوں تک آسان، تیز ترین اور سستے بنیادی ڈھانچہ کی رسائی فراہم کریں گے ۔ ا ای سی او کو ایک طاقتور اقتصادی بلاک اور ترقی کا مرکز بنانے کے حوالے سے ہمارے مشترکہ وژن کے حصول کیلئے پاکستان کا محل وقوع، سیاسی استحکام اور اب بڑھتا ہوا بنیادی ڈھانچہ اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں اپنے ادارہ جاتی طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ہر مرکن ملک کے مفادات اور خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ای سی او کے تجارتی معاہدہ کو فعال بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ممبر ممالک کے درمیان ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچہ کے شعبہ میں بہتر تعاون کے بغیر بامقصد تجارت نہیں ہو سکتی۔ خطے میں مؤثر تجارت، راہداری اور ٹرانسپورٹ کوریڈورز ہمارے عوام کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ثابت ہوں گے۔ سربراہ اجلاس کے دوران اعلان اسلام آباد اور ای سی او وژن 2025ء کی منظوری عصری اقتصادی چیلنجوں سے مل کر نمٹنے کے ای سی او کے ممبر ممالک کے اتفاق رائے اور عزم کی عکاسی کرے گی۔ اعلان اسلام آباد میں تجارت، ٹرانسپورٹ اور توانائی جیسے بنیادی شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے جو خطے میں تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ وژن 2025ء تیز ترین اقتصادی رابطے کے لئے ایک حقیقی اور قابل حصول روڈ میپ فراہم کرتا ہے جو ہمارے عوام کی بہتری کے لئے کام آئے گا۔ ہمیں ای سی او کی وسیع صلاحیتوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے کام کرنا ہوگا ، وقت آگیا ہے کہ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائے اوراپنے خطے کو امن، ترقی و خوشحالی کا مرکز بنائے ۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے خطے کو امن اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، ہم نے اجتماعی طور پر نصف ارب سے زائد کی آبادی کے حامل اپنے خطے میں خوشحالی لانے کے لئے مل جل کر کام کرنے کا عزم کیا ہے۔ اقتصادی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل حلیل ابراہیم اککا کے ساتھ ای سی او سربراہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے پرامن خطے کے لئے انتہاء پسندی، دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف اجتماعی کاوشوں کا بھی عزم کیا ہے۔ یہ خطہ ہمیشہ ثقافتوں اور تصورات کے تبادلوں کے لئے گذر گاہ رہا ہے۔ سربراہ اجلاس میں شریک رہنماؤں نے ای سی او کی گورننگ باڈیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سربراہ اجلاس کے موضوع ’’خطے کی خوشحالی کے لئے رابطہ‘‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے کثیر الجہتی رابطوں کو فروغ دیں۔ اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی یہ اجتماعی سیاسی بصیرت ہے کہ انہوں نے اسلام آباد اعلامیہ کو اتفاق رائے سے منظور کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعلامیہ رکن ممالک کے درمیان اقتصادی لوازمات کو مکمل طور پر استعمال میں لانے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے اور اسی طرح ان کے تاریخی اور ثقافتی رشتوں اور علاقائی سالمیت کیلئے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ مشرق اور مغرب کے درمیان رابطوں کیلئے اس خطہ کی جغرافیائی اہمیت ناگریز ہے۔ اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کا 13 واں سربراہی اجلاس بدھ کو اسلام آباد اعلامیہ کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے سربراہی اجلاس کے اختتام پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقتصادی تعاون تنظیم کے بانی رکن کی حیثیت سے علاقائی اتحاد کے فروغ کے لئے پرعزم ہے۔ ای سی او سربراہی اجلاس سے رکن ممالک کے مابین عوام کی فلاح کے لئے مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت کا موقع ملا ہے۔ اقتصادی تعاون تنظیم کا اگلا سربراہی اجلاس رکن ممالک کے باہمی اتفاق رائے سے منعقد کیا جائے گا اور اس حوالے سے اطلاع اقتصادی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کے ذریعے دی جائے گی۔ وزیر اعظ نے کہا کہ ای سی او کے تجارتی معاہدے کو فعال بنانے کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم نواز شریف نے اقتصادی تعاون کی تنظیم کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے تعاون بڑھانے پر زور دیا تاکہ خطے کو امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنایا جائے۔انہوں نے تجارت توانئی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف لڑنے کیلئے پرعز م ہیں

نواز شریف۔ ایکو

اسلام آباد( ایجنسیاں) اقتصادی تعاون تنظیم(ای سی او) کے سیکرٹری جنرل حلیل ابراہیم نے کہا ہے کہ ای سی او کے فورم کے ذریعے رکن ممالک کی جی ڈی پی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ،عالمی جی ڈی پی میں ای سی او کے خطے کا حصہ 2.63فیصد ہے ،ای سی او نے مختلف شعبوں میں تعاون کے لئے اقدامات میں کامیابیاں حاصل کی ہیں ، خطے میں پائپ لائن کے منصوبے منصوبوں پر کام ہورہا ہے جو کہ مثبت پیشرفت ہے ۔ای سی او کے سیکرٹری جنرل حلیل ابراہیم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے 13ویں سربراہ اجلاس کے انعقاد پر وزیراعظم نوازشریف کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور یقین ہے کہ ای سی او مزید ملکوں کے مابین ترقی کا باعث بنے گی اس اجلاس میں شرکت پر ای سی او رکن ممالک کے سربراہان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ای سی او کی سرگرمیاں بہترین رہی ہیں ، ریل اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تیزی سے کام ہو رہا ہے اور ای سی او نے بھی مختلف شعبوں میں تعاون کے لئے اقدامات میں کامیابیاں حاصل کی ہیں ، ای سی او کے خطے میں پائپ لائن کے منصوبے منصوبوں پر کام ہورہا ہے جو کہ مثبت پیشرفت ہے ۔ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ اقتصادی سرگرمیاں مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہورہی ہے، ای سی او ممالک سے گزرنے والا راستہ مغرب کیلئے مختصر ترین روٹ ہے، روابط کا فروغ ایشیائی ممالک کے مستقبل اورترقی کی ضمانت ہے،مواصلات اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں ایران کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ برادر ملک پاکستان میں ای سی او کے سربراہی اجلاس کا انعقاد خوش آئند ہے ، اجلاس کے انعقاد پر وزیراعظم نوازشریف اور حکومت پاکستان کے شکر گزار ہیں ، اس اجلاس سے تنظیم کے طویل المدتی پروگرام پر عملدرآمد میں مدد ملے گی ، اقتصادی سرگرمیاں مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہورہی ہے، 21ویں صدی ایشیاکی ابھرتی ہوئی معیشت کا دور ہے۔اجلاس سے تنظیم کے طویل المدتی پروگرام پرعملدرآمد میں مدد ملے گی۔ مغرب تک رسائی کیلئے مشرقی مواصلاتی ذرائع موثراورمختصرترین ہیں،ای سی او ممالک میں رابطوں کا فروغ مواصلاتی شعبے میں ترقی کا باعث بنے گا ای سی او ممالک سے گزرنے والا راستہ مغرب کیلئے مختصر ترین روٹ ہے، روابط کا فروغ ایشیائی ممالک کے مستقبل اورترقی کی ضمانت ہے، مستقبل میں مواصلاتی روابط سے یورپ اورایشیا منسلک ہونگے۔ مواصلات کے شعبے میں ایران کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکتاہے اور ای سی اورکن ممالک میں توانائی اور روابط کافروغ انتہائی ضروری ہے۔ ایران اور خطے کے دوسرے ممالک کے مفادات مشترک ہیں ، ای سی او ممالک کو آپس میں شاہراہوں کے ذریعے منسلک کرنا ہوگا اور مواصلاتی رابطوں سے اقتصادی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو گا ۔مواصلات اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں ایران کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ تاجکستان کے صدر امام علی رحمن نے کہا ہے کہ آئندہ نسلوں کو محفوظ مستقبل دینے کے لئے تیز ترین معاشی ترقی ناگزیر ہے، ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے2025ء پر عملدرآمد کرنا ہو گا، افغانستان میں امن وامان پورے خطے کے مفاد میں ہے ،افغانستان سمیت خطے کے دیگر مسائل کے حل کے لئے تاجکستان مکمل تعاون کرنے کو تیار ہے ، وسطی ایشیائی ریاستوں کی تجارتی راہداری کے لئے افغانستان مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اقتصادی تعاون تنظیم جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے ، رکن ممالک کی ترقی تاجکستان کی پالیسی کا حصہ ہے اور ای سی او فورم سے مختلف شعبوں میں تعاون کی نشاندہی ہو گی ، ریلوے اور فضائی رابطوں سے تعاون کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے ، مشترکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سہولیات کی فراہمی پر توجہ دینا ہو گی ۔ شاہراہوں اور سمندر ی راستے کے ذریعے آپس میں روابط کو مربوط بنانا ہوگا ،توانائی کے شعبے میں رکن ملکوں کیساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے لئے کاسا 1000 منصوبے پر کام کررہے ہیں اور خطے ماحول دوست توانائی کے وسائل سے استفادہ کر نے کی ضرورت ہے ۔۔ ترکی کے صدررجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ داعش جیسے چیلنجز سے مل کر نمٹنے کی ضرورت ہے ، مذہبی انتہا پسندی و بدامنی خطے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ہیں،انکے خاتمے کے لئے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہو گا ،خطے کی افرادی قوت و مہارات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ، ایشیائی ممالک کو سب سے زیادہ معاشی ترقی پر توجہ دینا ہو گی ۔ی سی او کے اسلام آباد میں اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف کے مشکور ہیں ،علاقائی ترقی کے منصوبوں میں رکن ملکوں کو شرکت کی دعوت دیتا ہوں اور خطے کی ترقی کے لئے روابط بڑھانا انتہائی ضروری ہے ۔انہوں نے کہاکہ ترکی نے علاقائی ترقی کے لئے مختلف منصوبے شروع کیا ہے اور علاقائی روابط کو فروغ دینے کے لئے ترکی اپنا مؤثر کردار ادا کررہا ہے جبکہ رکن ممالک کی حقیقی ترقی کے لئے توانائی کے شعبے پر توجہ دینا کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ علاقائی روابط کے فروغ کے لئے ترکی اپنا کردار ادا کررہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ خطے کی افرادی قوت اور مہارات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے اور خطے کے ممالک کو سب سے زیادہ معاشی ترقی پر توجہ دینا ہو گی جبکہ خطے کے ممالک کے سیاسی ہم آہنگی ضروری ہے ۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ نگورنوکارا باغ اور اس نوعیت کے دوسرے مسائل کو ملکر حل کرنے کی ضرورت ہے اور عالمی مسائل کے حل میں او آئی سی اور دوسرے فورم بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں داعش اور اس طرح کے دوسرے چیلنجز سے مل کر نمٹنے کی ضرورت ہے اور مذہبی انتہا پسندی اور بدامنی خطے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ہیں ان کے خاتمے کے لئے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہو گا ۔آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا کہ آذربائیجان 2017ء کو اسلامی ملکوں کی یکجہتی کا سال قرار دیتا ہے ،دہشت گردی گھمبیر مسئلہ ہے جس سے اسلامی ممالک متاثر ہورہے ہیں ، ہمیں امن و برداشت کے رویوں کو فروغ دینا ہو گا۔ ازبکستان کے نائب وزیراعظم الغ بیگ روزوکلوف نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار ترقی کے لئے امن ناگزیر ہے ،ہمیں مزاروں ، زیارات اور ثقافت کے ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہو گا، وژن2025ء سے علاقائی تعاون کو فروغ حاصل ہو گا ۔۔افغانستان کے سفیر عمر ذخیل وال نے کہا ہے کہ علاقائی تعاون و روابط کا فروغ افغانستان کی پالیسی کا حصہ ہیں ، غربت اور دوسرے چیلنجز سے مشترکہ حکمت عملی سے ہی نمٹا جاسکتا ہے،ویژن2025ء پر عملدرآمد سے خطے کے تمام عوام پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ہمیں علاقائی روابط کے فروغ کے لئے سرمایہ کاری پر زور دینا ہو گا۔ اجلاس کے انعقاد پر پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کے شکر گزار ہیں اور وزیراعظم نوازشریف کو ای سی او کے چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ افغانستان کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں ویژن2025ء پر عملدرآمد سے خطے کے تمام عوام پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ہمیں علاقائی روابط کے فروغ کے لئے سرمایہ کاری پر زور دینا ہو گا ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ٹاڈا ایچی یاماموٹو نے کہا کہ ای سی او ممالک کو انسداد دہشت گردی کے عالمی ایجنڈے پر توجہ دینا ہو گی ،خطے کے ممالک کا باہمی تعاون اور روابط ترقی کی بنیاد ہے اور رکن ممالک کو باہمی تعاون کے لئے ذرائع مواصلات مؤثر بنانا ہوں گے۔ خطے کے ممالک کا باہمی تعاون اور روابط ترقی کی بنیاد ہے اور رکن ممالک کو باہمی تعاون کے لئے ذرائع مواصلات مؤثر بنانا ہوں گے ۔

مزید : صفحہ اول