تعلیمی اصلاحات پر عمل کر کے ہی غریب اور امیر میں فرق کو مٹا یا جا سکتا ہے: پرویز خٹک

تعلیمی اصلاحات پر عمل کر کے ہی غریب اور امیر میں فرق کو مٹا یا جا سکتا ہے: ...

 پشاور (سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اورمشیر اطلاعات مشتاق احمد غنی نے آج پشاور کے ایک نجی ہوٹل میں منعقد ہ ورکشاپ میں شرکت کی جس کا مقصد اعلیٰ تعلیم تک رسائی اورمعیار کوبہتر بنانے کی تجاویز پرتفصیلی غورتھا ۔اس موقع پر سیکرٹری اعلیٰ تعلیم سید ظفر علی شاہ بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت نے صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے ریکارڈ اقدامات اٹھائے ہیں ۔انہوں نے واضح کیاکہ غریب اورامیرمیں فرق مٹانے کا واحد راستہ تعلیمی اصلاحات کے بغیر ممکن نہیں جس کے لئے موجودہ حکومت نے کئی اقدامات اٹھائے ہیں جس سے صوبے کے دور دراز علاقوں کے عوام کو تعلیم تک رسائی ممکن ہورہی ہے۔ پرویز خٹک نے مزید کہاکہ موجودہ حکومت نے تعلیم کا بجٹ 150 ارب روپے تک بڑھادیا ہے۔ اس موقع پر مشیر اعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی نے واضح کیاکہ ماضی کی حکومتوں نے تعلیم کے شعبے میں محض اعلانات کیے۔جس کوموجودہ حکومت عملی جامہ پہنا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام یونیورسٹیوں کے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں جبکہ موجودہ حکومت کی کاوشوں سے ملک میں پہلی ٹیکنیکل یونیورسٹی قائم کی جارہی ہے۔ مشتاق احمد غنی نے مزید کہاکہ موجودہ حکومت کی کاوشوں سے صوبے بھرمیں 210 کالجز کام کررہی ہیں جبکہ 2012 میں ان کالجز کی تعداد صرف 152 تھی ۔اس کے علاوہ سرکاری کالجز میں طالبعلموں کی تعداد 180351 ہوچکی ہے جبکہ 2012 میں طالبعلموں کی تعداد 130045تھی۔ مزید براں موجودہ حکومت نے صوبے بھر میں 5 نئی یونیورسٹیاں بھی قائم کی ہیں جبکہ صوبے کی یونیورسٹیوں میں تحقیق کے فروغ کے لئے موجودہ حکومت ریسرچ گرانٹ بھی فراہم کررہی ہیں جبکہ اپلائڈ سائنسزکے شعبے میںآسٹریا کی 4 یونیورسٹیوں سے معاہدہے ہوچکے ہیں جس سے خیبرپختونخوامیں طالبعلموں کواپلائڈسائنسز پڑھائی جائیں گی اوران کوآسٹریا کی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں دی جائیں گی۔ اس موقع پر مشتاق احمد غنی نے کہا کہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے کوالٹی سیل بھی قائم کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر مشتاق احمد غنی نے ورکشاپ کے شرکاء سے اپیل بھی کی کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی ترقی کے لئے اصلاحات تجویزکریں اوریقین دہانی کرائی کہ موجودہ حکومت تمام وسائل کو بروئے کارلاتے ہوئے ان تجاویز کوعملی جامہ پہنائے گی۔

پشاور (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی مثالی بنانے کیلئے حکومت مخلصانہ جدو جہد اور عملی اقدامات کررہی ہے تاکہ سرکاری اداروں کی فعالیت اور کارکردگی صحیح معنوں میں عوامی امنگوں اور توقعات کی آئینہ دار ہو۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نوشہرہ میڈیکل کالج کا اگلے ہفتے کے اواخر میں باقاعدہ افتتاح کر دیا جائیگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرکاری میڈیکل کالجوں کیلئے انفراسٹرکچر کا کام مکمل کر دیا گیا ہے اور صوبے میں میڈیکل کالجوں کی دیگر ضروریات و لوازمات بھی ترجیحی بنیادوں پر پوری کی جائیں گی۔وہ آج وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پرفیسر شبیر احمد لہری صدر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے بات چیت کر رہے تھے۔ پی ایم ڈی سی کے ایگزیکٹیو کونسل کے ممبران، پرنسپل نوشہرہ میڈیکل کالج ڈاکٹر طاہر اور دیگر متعلقہ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔اجلاس میں پی ایم ڈی سی کی ٹیم کی جانب سے نوشہرہ میڈیکل کالج کی انسپکشن کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ پی ایم ڈی سی اس کالج کے قیام کی منظوری جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچا سکے۔انہوں نے متعلقہ فورم سے کالج کی منظوری کیلئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں ضروری لوازمات پوری کریں۔ وزیراعلیٰ نے گجو خان میڈیکل کالج میں مستقل بنیادوں پر پرنسپل کی تعیناتی کی بھی ہدایت کی تاکہ کالج کے معاملات بطریق احسن چلائے جا سکیں۔ انہوں نے مذکورہ کالج کی دیگر ضروریات پوری کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ دیر میڈیکل کالج کی باقاعدہ رجسٹریشن کیلئے30مارچ سے قبل کیس تیار کرکے بھیجا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ضروری فیصلے پہلے ہی کر لئے گئے ہیں۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے متعلقہ حکام ترجیحی بنیادوں پر کام کریں تاکہ مستقبل قریب میں اسے چالو کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے پی ایم ڈی سی کے وفدکو یقین دلایا کہ ان کی سفارشات پر حکومت من و عن عمل درآمد یقینی بنائے گی اور تمام فیصلے اتفاق رائے سے کئے جائیں گے۔انہوں نے صحت انصاف کارڈ میں شفافیت لانے کیلئے مختلف تجاویز سے اتفاق کیا۔ یہ غریب عوام کو صحت کی مفت سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔ اس کے ذریعے مستحق خاندان 3لاکھ سے5لاکھ روپے تک مفت علاج کرا سکیں گے۔ ہماری خواہش ہے کہ عوام کا پیسہ ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔صوبے کے نجی شعبے کے پیشہ ورانہ کالجوں میں میرٹ اور شفافیت لانے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے ایک ریگولیٹری نظام وضع کرنے سے اتفاق کیا ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے بڑے ہسپتالوں کو مکمل خود مختاری اور ڈاکٹروں کو پرکشش مراعات دی گئی ہیں جو کہ ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ ہیں تاکہ صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ اب ڈاکٹر اپنی ذمہ داریاں بطرقی احسن نبھا رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں ناپید سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا چکی ہے اور اب عوام سرکاری ہسپتالوں میں موجود سہولیات پر اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے پی ایم ڈی سی کی جانب سے صوبے کا ایک اور دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے اور نجی شعبے کیلئے ایک ریگولیٹری نظام وضع کرنے کیلئے اتفاق رائے سے طریقہ کاروضع کیا جا سکے۔انہوں نے نجی شعبے میں صحت کی سہولیات کی فراہمی اور اداروں کے قیام کیلئے پی ایم ڈی سی کے حکام سے کہا کہ وہ اس کی تفصیلات صوبائی حکومت کو فراہم کریں تاکہ نجی شعبے کو بھی عوامی امنگوں کا آئینہ دار بنایا جا سکے اور عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

مزید : کراچی صفحہ اول