چکوال،طالبہ کی پراسرار ہلاکت،باپ ڈی پی او کے پاس پہنچ گیا

چکوال،طالبہ کی پراسرار ہلاکت،باپ ڈی پی او کے پاس پہنچ گیا

چکوال(ڈسٹرکٹ رپورٹر) گورنمنٹ گرلز ہائی سکول منگوال میں نویں جماعت کی طالبہ کی پراسرار ہلاکت پر بچی کا محنت کش باپ درخواست لیکر ڈپٹی کمشنر چکوال کے پاس پیش ہوگیا۔محمد بشیر ولد محمد یٰسین ساکن راول زیر نے درخواست میں بتایا کہ سائل کی بیٹی سائرہ نورین نویں جماعت کی طالبہ تھی،15فروری کو کلاس ٹیچر عذرا سرفراز نے ہیڈ مسٹریس مہوش کی موجودگی میں اس کی بیٹی پر تشدد کیا جس سے سائرہ نورین بے ہوش ہوگئی۔ بچی کی بے ہوشی پر والدین کو دو گھنٹے تاخیر سے دی گئی۔ ہم نے بچی کو پہلے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال پہنچایا جہاں سے اسے بے ہوشی کی حالت میں راولپنڈی بھیجا گیا جہاں پر بچی نے راولپنڈی ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ لڑکی کے والد محمد بشیر نے اپنی بیٹی کی ہلاکت کا ذمہ دار استانی عذرا اور ہیڈ مسٹریس کو قرار دیتے ہوئے ان کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ محمد بشیر کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر چکوال ، محکمہ تعلیم کے افسران نے موقع پر پہنچ کر جائزہ لیا مگر ابھی تک بچی کی قاتل سکول ٹیچر اور ہیڈ مسٹریس کیخلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ میڈیکل رپورٹ میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ بچی کی ہلاکت دماغی شریان پھٹنے سے ہوئی ہے۔ بچی کے والد محمد بشیر کے مطابق میڈم عذرا نے تشدد کے بعد جب بچی بے ہوش ہوئی تو اس کے اوپر پانی چھڑکا کہ بچی پر جن چڑھ گیا ہے جبکہ بتایا گیا ہے کہ میڈم عذرا نے بچی کو ایک اینٹ پر کھڑا رکھا اور اس کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ محمد بشیر کے مطابق اس کی پھول جیسی معصوم بچی کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا ہے لہٰذا اس ظلم میں ملوث ہیڈ مسٹریس اور استانی کیخلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس کی بیٹی کے قاتلوں کو قرارواقعی سزا دی جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...