پارلیمانی جماعتوں کے فیصلے کے بعد،پیپلزپارٹی کی اے پی سی افادیت کھوبیٹھی

پارلیمانی جماعتوں کے فیصلے کے بعد،پیپلزپارٹی کی اے پی سی افادیت کھوبیٹھی

کراچی (تجزیہ /کامران چوہان )پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت نے 4مارچ کو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس طلب کی ہوئی ہے لیکن پیپلزپارٹی کی مجوزہ اے پی سی اس وقت اپنی افادیت کھوبیٹھی جب اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی حامی بھرلی ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے تمام جماعتوں کی جانب سے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پرآمادگی کے بعدپیپلزپارٹی 4مارچ کوآل پارٹیزکانفرنس منعقدکرکے مقاصد حاصل کرے گی کیونکہ اس کانفرنس کو بلانے کا جو مقصد تھا وہ فوت ہوچکا ہے ۔سیاسی حلقے کا کہنا ہے کہ اندرون خانہ پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں تھی لیکن وہ اس معاملے کو وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی بارگیننگ کے طور پر استعمال کرنا چاہتی تھی جبکہ اے پی سی بلانے کے پیچھے یہ مقصد کارفرما تھا کہ مقتدر حلقوں کو یہ پیغام دیا جائے کہ جو کام حکومت نہ کرسکی اس کیلئے پیپلزپارٹی نے تمام جماعتوں کو راضی کرلیا ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پہلے ہی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار کرچکے ہیں ۔اپوزیشن کی انتہائی اہم جماعت کی عدم شمولیت اور جس معاملے پر یہ کانفرنس بلائی گئی ہے اس کے حل ہونے کے بعد یہ پیپلزپارٹی کی اے پی سی اب بے وقت کی راگنی کے سواکچھ نہیں ہوگی ۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے انتہائی سینئر رہنماؤں نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ تمام پارلیمانی جماعتوں کے فیصلے کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ منسوخ کردے اور فوجی عدالتوں کے قیام کے ایشو کو چھوڑ کرمردم شماری کے حوالے سے کانفرنس کا انعقادکرکے تمام جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے ۔یہ پارٹی رہنما سمجھتے ہیں کہ اس وقت مردم شماری کا شفاف انداز میں ہونا ملک کے لیے اہم ہے ۔آئندہ ہونے والے انتخابات میں مردم شماری کا عمل انتہائی اہم کردار ادا کرے گا ۔خصوصا سندھ کے اندر طاقت کا توازن بگڑ بھی سکتا ہے ۔اس وقت دیہی سندھ کی نشستیں شہری سندھ کے مقابلے میں زیادہ ہیں ۔مردم شماری کے نتیجے میں یہ معاملہ مختلف بھی ہوسکتا ہے ۔ایسی صورت حال میں پیپلزپارٹی کو 2018میں سندھ حکومت سازی کے عمل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔اس لئے پارٹی اس وقت اپنی تمام توجہ سندھ پر مرکوز رکھے اور اندرون سندھ کے علاوہ کراچی میں ایم کیو ایم کی تقسیم سے پیدا ہونے والے خلا کو پرکرنے کے لئے موثر حکمت عملی مرتب کرے تاکہ آئندہ کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہری علاقوں سے بھی نشستوں کا حصول ممکن ہوسکے ۔پیپلزپارٹی کے ایک حلقے کا یہ بھی خیال ہے کہ اس موقع پر آل پارٹیز کانفرنس کو ملتوی کرنا پارٹی کے لیے سبکی کا باعث ہوگا اس لیے ہر صورت اس انعقادممکن بنایا جائے اورتمام سیاسی جماعتوں کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے کوشش کیا جائے۔ ۔یہاں یہ امر انتہائی قابل ذکرہے کہ صدر مملکت نے 6مارچ کو پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے قانون سازی کی جائے گی ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر