خاتون افغانی ڈاکٹر کو شہریت دینے بارے 3 ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کے احکامات

خاتون افغانی ڈاکٹر کو شہریت دینے بارے 3 ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کے احکامات

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ نے پاکستانی ڈاکٹر سے شادی کرنے والی افغان خاتون ڈاکٹرکوشہریت نہ دینے کے خلاف دائررٹ پروفاقی وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ درخواست گذار کی اپیل پرتین ماہ کے اندر فیصلہ کرے بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اکرام اللہ پرمشتمل دورکنی بنچ نے افغان خاتون ڈاکٹرفاطمہ کبری کی رٹ کی سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیاہے کہ انہوں نے تخت بھائی کے رہائشی ڈاکٹرحماد سے چند سال قبل شادی کی کیونکہ دونوں کاپیشہ ایک تھاسٹیزن شپ کے قانون کی دفعہ10(2) کے تحت ا نہوں نے2014ء میں شہریت کی درخواست دی لیکن تاحال اس پرفیصلہ نہیں ہوا جس سے انہیں شدید مشکلات کاسامناہے اوران کے روزمرہ کے امورمتاثرہورہے ہیں اس موقع پراسسٹنٹ اٹارنی جنرل منصورطارق نے عدالت کو بتایا کہ جس قانون کے تحت یہ خاتون شہریت مانگ رہی ہے اس میں واضح طورپرلکھا ہے کہ پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے مرد کو ہی شہریت دی جاسکتی ہے تاہم عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ یہ اپیل گذشتہ تین سالوں سے محکمہ داخلہ کے پاس ہے اس پرفیصلہ کیا جائے اورفاضل بنچ نے تین ماہ کی مہلت دیتے ہوئے درخواست نمٹانے کے احکامات جاری کئے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر