خیبرپختونخوا کی ٹیکسٹائل ملوں سے کاٹن سیس کی وصولی کالعدم قرار دیدی گئی

خیبرپختونخوا کی ٹیکسٹائل ملوں سے کاٹن سیس کی وصولی کالعدم قرار دیدی گئی

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا کی ٹیکسٹائل ملوں سے کاٹن سیس کی وصولی کالعدم قرار دے دی اورقرار دیاہے کہ وزیراعظم یاکابینہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیرکوئی ٹیکس نہیں لگاسکتی عدالت عالیہ کے جسٹس وقاراحمدسیٹھ اور جسٹس غضنفرعلی پرمشتمل دورکنی بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روزقاضی غلام دستگیرایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرآل پاکستان ٹیکسٹائل ملزایسوسی ایشن خیبرپختونخواکی جانب سے دائر6رٹ درخواستوں پر جاری کئے فاضل بنچ نے رٹ درخواستوں کی سماعت شروع کی تو ان کے وکیل نے عدالت کوبتایاکہ کاٹن سیس ایکٹ 1913ء کی شق3کے مطابق کاٹن سیس اس صورت لاگوہوگا جس کاخام مال مقامی ہو اورامپورٹ ہونے والی کاٹن کی گانٹھوں پر یہ سیس لاگونہیں ہوسکتاتاہم جب ملکی پیداوار میں اضافہ ہواورکوئی یہاں سے کاٹن برآمد کرناچاہتا ہوتب یہ لاگوہوسکتاہے اس حوالے سے 1950ء میں کاٹن رولزوضع کئے گئے جس میں اس شق کو خصوصی تحفظ دیاگیاانہوں نے عدالت کو دلائل دئیے کہ2012ء میں وزیراعظم نے 1950ء کے کاٹن سیس رولزمیں ترمیم کرکے درآمد کی گئی کاٹن پربھی 100روپے فی گانٹھ ٹیکس عائد کیامگرسیکشن 3میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی اس بناء اس سیس کی وصولی غیرقانونی ہے انہوں نے مزید دلائل دئیے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حال ہی میں ایک نیافیصلہ دیاہے جس میں یہ قرار دیاگیاہے کہ وزیراعظم ٗ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیرکوئی ٹیکس عائد نہیں کرسکتااوراس کے لئے ضروری ہوگا کہ جوقوانین موجود ہیں اس میں اگرترمیم ضروری ہوتو پارلیمنٹ سے وہ ترامیم منظورکرناہوں گی علاوہ ازیں کاٹن سیس کی آمدن کاٹن کے ریسرچ پرصرف ہوتی ہے جو اٹھارویں ترمیم کے بعد ا یک صوبائی سبجیکٹ بن چکاہے سینٹرل کاٹن کمیٹی اورکاٹن پرریسرچ کرنے والے ادارے اس صوبے میں نہیں ہیں لہذااس سیس کاکوئی قانونی و آئینی جواز نہیں بنتالہذااسے کالعدم قرار دیاجائے دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ آف کاٹن سیس اورسینٹرل کاٹن کمیٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے جو استثنی سیکشن تین کے تحت امپورٹ ہونے والے کاٹن پردیاتھاوہ واپس لے لیاہے اوراسی تناظرمیں کاٹن سیس کااطلاق پورے ملک پرکیاگیاجس پرفاضل عدالت نے اس سے استفسار کیاکہ وہ کونسے قوانین ہیں جس میں محض وزیراعظم کی جانب سے رول میں ترمیم کرکے نیاٹیکس لگایاجاتاہے اورجب اٹھارویں ترمیم کے بعد کاٹن پرریسرچ صوبوں کے دائرہ ا ختیار میں آگیاتو یہاں پرکاٹن سیس کی وصولی وفاق کس طرح کرسکتی ہے عدالت نے دوطرفہ دلائل مکمل ہونے پر رٹ منظورکرکے خیبرپختونخواکی ٹیکسٹائل ملوں سے سیس وصولی کالعدم قرار دے دی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر