خیبر ایجنسی‘ محکمانہ غفلت سے طالبہ سکول چھوڑنے پر مجبور

خیبر ایجنسی‘ محکمانہ غفلت سے طالبہ سکول چھوڑنے پر مجبور

خیبر ایجنسی (بیورو رپورٹ) لنڈیکوتل کے ہونہار اور ذہین طالبہ صوبیہ نے محکمہ ایجوکیشن کی غفلت اور لاپرواہی سے سکول چھوڑ کر گھر پر بیٹھ گئی ، ڈاکٹر بننے کی ارمان ارمان ہی رہ گئی ، سکول چھوڑنے پر سخت پریشان،سکول میں پڑھنے کے بجائے سارے دن کھیل کود میں مصروف رہتی تھی ،دن میں صرف ایک یا دو پریڈ لگتی تھی ،کوئی پوچھنے والا نہیں ہے آفیسرز صرف دورے کرتے ہیں عملی طور پر کچھ نہیں کر تے میری جیسے سینکڑوں طلباء کا مستقبل داوپر ہے ،طالبہ صوبیہ کا میڈیا سے گفتگو لنڈیکوتل کے علاقہ خوگا خیل کے گیارہ سالہ طالبہ صوبیہ گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول لنڈیکوتل میں پانچویں کلاس میں پڑتی تھی پڑھائیبہت شوق اور دل سے کرتی تھی اور وہ سکول سے کھبی غیر حاضر نہیں ہو تی تھی سکول اور پڑھائی کے ساتھ شوق کا یہ عالم تھا کہ روزانہ پانچ کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے سکول اتی جاتی تھی لیکن سکول میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے پڑھائی کے بجائے سارے دن کھیل کود میں گزارتی تھی جسکی وجہ سے مجبورا سکول جانا چھوڑ دیا پانچویں کلاس کی طالبہ صوبیہ نے بتایا کہ انہوں نے پانچویں کلاس میں ہی سکول کو خیرباد اسلئے کہہ دیاکیونکہ سکول میں جس مقصد کے لئے جاتی تھی وہ مقصد حاصل نہیں ہورہا تھاسکول میں پڑھانے کے لئے استانیاں موجود نہیں تھی اور باالاخر سکول کو چھوڑنا پڑا سکول چھوڑنے پر کئی دن پریشان رہی کیونکہ میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی لیکن ڈاکٹر بننے کا خواب ریزہ ریزہوگئی صوبیہ نے کہا کہ یہ صرف میری داستان نہیں ہے بلکہ ان سینکڑوں طالبات کی ہے جو سکول آنے کے لئے بڑے بڑے خواب لیکر اتی ہے لیکن سٹاف کے کمی کی وجہ وہ خواب ادھورہ رہ جاتے ہیں گورنمنٹ گرلز ہائیر سکنڈری سکول لنڈیکوتل کے پرنسپل نے بھی یہ اعتراف کیاکہ سکول میں کئی سالوں سے استانیوں کے کمی کا مسئلہ چلا ارہا ہے سکول میں کل استانیوں کی تعداد 31 ہے جس میں 13 پوسٹیں گزشتہ کئی عرصہ سے خالی پڑی ہیں سکول اور سکنڈری سیکشن کے پرنسپل الگ الگ ہوتی ہیں لیکن مجبوری اور سٹاف کی کمی وجہ سے دونوں سیکشن اکیلے چلا رہی ہوںیہی وجہ ہیں کہ سکول میں لڑکیوں کی تعداددن بدن کم ہوتی جا رہی ہے پہلے ہزار سے ذیادہ طالبات تھی اب صرف 700 سے بھی کم ہوگئی ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے اعلی حکام کے نوٹس میں سکول کی خالی پوسٹیں اور اساتذہ کی کمی بار بار لاچکی ہوں لیکن ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا گیاسابق اسسٹنٹ فیمل ایجنسی ایجوکیشن خیبر افیسر وحیدہ کا کہنا ہے کہ سٹاف کمی کا مسئلہ پورے خیبرایجنسی میں ہے ہر سکول میں ٹیچر کمی کا مسئلہ چلا آرہا ہیںیہی وجہ ہے کہ سکولوں میں اساتذہ کمی کی وجہ سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے ظاہر ہے کہ بچے سکولوں میں پڑھنے کے لئے اتے ہیں لیکن جب پڑھانے والے نہ ہوں تو بچے مجبورا سکول چھوڑ دیتے ہیں سابق ایجنسی ایجوکیشن افیسر عتیق الرحمن نے کہا کہ خیبرایجنسی میں400 سے 500 اساتذہ کی کمی موجود ہیں سال 2013 سے ابتک اساتذہ کی کوئی نئی تعیناتیاں نہیں کی گئی ہے جس کے باعث تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے اساتذہ کی کمی سے براہ راست بچے متاثر ہورہ ہیں موجودہ ایجنسی ایجوکیشن افیسر جدون وزیر نے کہا کہ سکولوں میں خالی اسامیوں کو پر کرنے کے لئے اخباروں میں اشتہار دئیے گئے ہیں خالی اسامیوں پر جلد ازجلد تعیناتی کی جائی گی واضح رہے کہ گورنمنٹ گر لز ہائیر سیکنڈری سکول لنڈیکوتل میں کئی سال پہلے سٹاف کیلئے کروڑوں روپے کی لاگت سے ہاسٹل تعمیر کیا گیاہے اور اسی ہائیر سیکنڈری کی طالبات کیلئے بھی کروڑوں روپے کی لاگت سے علیحدہ سیکشن تعمیر کیا گیا ہے لیکن اب عمارتیں خالی پڑی ہیں جبکہ ہائیرسیکنڈری سیکشن کے کمروں میں گندگی کی ڈھیر لگی ہوئی ہیں اور دیواروں میں بڑے بڑے دراز پڑ گئے ہیں جبکہ سٹاف ہاسٹل میں خاصہ دار فورس نے ڈھیرے ڈال دئیے ہیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...