انڈسٹری اور جامعات میں رابطے کیلئے کارپوریٹ ایڈوائزر ی کونسل کی تشکیلناگزیر ہے :ڈاکٹر ارشد علی

انڈسٹری اور جامعات میں رابطے کیلئے کارپوریٹ ایڈوائزر ی کونسل کی ...

پشاور(سٹاف رپورٹر) انڈسٹری اور جامعات کے درمیان روابط کیلئے کارپوریٹ ایڈوائزری کونسل کی تشکیل ضروری ہے جہاں انڈسٹری کو جامعات کیساتھ روابط قائم کرنے کے بھر پور مواقع میسر ہوسکے ۔اس حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمیشن ایک نظام مرتب کریگی جو یونیورسٹیوں کی انڈسٹری میں مصروفیت کی پیش رفت کو یقینی بنائی گی ۔اس حوالے سے دوسرا اجلاس خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقد ہوگا۔ یہ بات ڈاکٹر ارشد علی، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے "یونیورسٹی انڈسٹری پارٹنرشپ"کے ایک مشاورتی اجلاس سے کی جس کا اہتمام ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ریجینل سینٹر حیات آباد نے کیا تھا۔اجلاس کی میزبانی ایچ ای سی ریجنل سینٹر کے ڈائریکٹر محمد شفیع اللہ نے کی۔ ڈاکٹر ارشد علی نے کہا کہ پاکستان کی سست اقتصادی ترقی میں ایک اہم چیلنج انڈسٹری اور جامعات کے درمیان کمزور روابط ہیں۔ہائر ایجوکیشن کمیشن اس بات سے پوری طرح آگاہ ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ صنعت اور جامعات کے درمیان روابط کو مظبوبط بناکرملک کو اقتصادی ترقی کو راہ پر گامزن کریں تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے راہ ہموار ہو سکے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جہاں انڈسٹری کو کوئی مسلہ حل کرنے کیلئے کسی فوری پروجیکٹ کی ضرورت ہو تو اس کیلئے 80فیصد معاونت یونیورسٹی کو ایچ ای سی کریگی جبکہ باقی معاونت انڈسٹری کریگی ۔ محمد اقبال ، سینئر نائب صدرخیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ایک تاریخی موقع ہے جہاں ہائر ایجو کیشن کمیشن نے انڈسٹری اور جامعات کو اکٹھا کیا ہے ۔انہوں کہا کہ پچھلے کئی دہائیوں سے خیبر پختوا میں صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے لیکن اس صوبے کے عوام نے اپنی قسمت کو سنوارنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔انہوں نے جامعات کو اپنے R&Dسیل میں شمولیت کی دعوت بھی دی۔ فرح حامد،صوبائی سیکریٹری برائے انڈسٹری اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن نے انڈسٹری اور جامعات کے درمیان روابط ترجیحی بنیادوں پر بڑھانے پر زور دیا۔ اجلاس میں صنعت سے وابستہ نمائندوں ، کے پی او جی سی ایل، KP EZDMC، خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ، ڈائریکٹر ORICs،جامعات کے وائس چانسلر اینڈ ڈائریکٹر ز جس میں انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور، پشاور یونیورسٹی ، ایگریکلچر یونیورسٹی ، فاٹا یونیورسٹی ، شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی ، آی ایم سائنسز، اورCECOSنے شرکت کی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر