داعش کے ارکان چھوٹے کاروباری افراد کی شکل میں خیبر پختونخوا کے لوگوں میں چھپے ہوئے ہیں ، انتہائی خطرناک انکشاف سامنے آگیا

داعش کے ارکان چھوٹے کاروباری افراد کی شکل میں خیبر پختونخوا کے لوگوں میں ...

پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن )خودکش حملوں اور بم دھماکوں سے ہزاروں بے گناہ شہریوں کو خون میں نہلانے والی شدت پسند تنظیم داعش کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کے تربیت یافتہ کارکن چھوٹے چھوٹے کاروباری افراد کی شکل میں خیبر پختونخوا کے لوگوں کے درمیان موجود ہیں ۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ایک پولیس افسر نے انکشاف کیا ہے کہ داعش کے تربیت یافتہ کارکن صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں عام عوام کے درمیان موجود ہیں جو چھوٹے چھوٹے کاروبار چلا رہے ہیں تاہم ان کی سوچ طالبان سے مختلف ہے جن کے ارکان کو فاٹا حتیٰ کے خیبر پختونخوا کے منظم علاقوں میں کیمپس قائم کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا ۔

بھارت میں قبرستان کی کوئی جگہ نہیں اس لیے مردوں کو ۔۔۔بھارتی جنتا پارٹی کےرکن نے ایسی بات کہہ دی کہ آپ بھی آگ بگولا ہو جائیں گے

پولیس افسر نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے کئی مثالیں موجود ہیں جو اشارہ کرتی ہیں کہ داعش کے ارکان پچھلے 18ماہ سے پشاور میں سرگرم ہیں اور اپنی شدت پسندانہ سوچ کی ترویج اورکالعدم ٹی ٹی پی کے متعد د دھڑوں سے نئے شامل ہونے والے کارکنوں کو ورغلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔”داعش کے ارکان پشاور سے صرف 2گھنٹے کی مسافت پرواقع افغانستان کے علاقے جلال آباد میں موجود ہیں جو فاٹا اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مختلف علاقوں میں سراعیت کر چکے ہیں “۔

اہلکار نے انکشاف کیا کہ ماضی میں کالعدم ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے یہ کارکن تخریب کاری اور امن و امان کی صورت حال خراب کرنے میں انہتائی مہارت رکھتے ہیں ۔”عام عوام میں چھپے ان تخریب کاروں کے بارے میں ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ لوگوں کے شک سے بچنے کیلئے پھل فروشوں اور ریڑھی بانوں جیسے کاروباربطور ڈھال چلا رہے ہیں اور ان کی یہ منصوبہ بندی زیادہ تر کامیاب بھی ہو تی ہے “۔

لاہور اور خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں دہشتگرد حملوں کا خدشہ 

انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ گھر کرائے پر حاصل کرتے ہیں اور گرفتاریوں سے بچنے کیلئے اپنی رہائش متواتر بدلتے رہتے ہیں اور افغان طالبان ہونے کے فوائد پتہ چلنے کے بعد اچھے طالبان بھی داعش میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں جو اسے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔

اس نے دعویٰ کیا کہ تمام نئے ارکان کو افغانستان بھیجا جا رہا ہے اور جب لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے یہ افغانستان میں لڑ رہے ہیں تو اس کے بعد یہ امکان پیدا جاتے ہیں کہ یہ اچھے طالبان کا حصہ ہیں اس لیے انہیں کوئی پولیس اہلکار یا فورسز کے لوگ پکڑ نہیں سکتے اور بعد میں جب یہ دوسرے اضلاع میں نکلتے ہیں تو زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ افغانستان کیلئے روانہ ہو رہے ہیں ۔

مزنگ میں واقع گھر میں آگ لگنے سے میاں بیو ی اور بچی جاں بحق

ان میں سے زیادہ تر کارکن تعلیم یافتہ ہیں جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بارے میں بھی معلومات رکھتے ہیں ۔ حقانی نیٹ ورک سے جوڑنے اور اپنے آپ کو اچھے طالبان کا نام دینے والے کارکنوں کی یہ انتہائی کامیاب منصوبہ بندی ہے جسے وہ اپنے بھرپور فائدے کیلئے استعمال کر تے ہیں ۔

مزید : پشاور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...