وفاقی کابینہ نے فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے سمیت دیگر اصلاحات کی منظوری دے دی

وفاقی کابینہ نے فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے سمیت دیگر اصلاحات کی ...
وفاقی کابینہ نے فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے سمیت دیگر اصلاحات کی منظوری دے دی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی کابینہ نے  وفاق کے زیر انتظام  قبائلی علاقے ’’فاٹا‘‘ کو  5 سال میں خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے کی منظوری دینے کے ساتھ ’’فاٹا  اصلاحات ‘‘ کے نام سے  سفارشات بھی  منظور  کر لی ہیں ،جس کے بعد ایف سی آرقوانین کابھی  خاتمہ ہو جائے گا اور فاٹا میں وفاق کا عمل دخل نہیں ہو گا ،وزیر اعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد فاٹا کو 5 سال کے اندر قومی دھارے میں لانے کے حوالے سے کمیٹی کی سفارشات منظور کرلیں جس کے بعد  فاٹا   باقاعدہ طور پر  خیبر پختونخواہ کا حصہ بن جائے گا ،

بہترین سول اورملٹری تعلقات وقت کی اہم ضرورت ہے:وزیرداخلہ چوہدری نثار

میڈ یا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں فاٹا اصلاحات کی سفارشات پیش کی گئیں ۔اجلاس میں سیفران کے وفاقی سیکریٹری،سرتاج عزیز اور وزیر سیفران عبد القادر بلوچ نے بریفنگ دی ۔اس موقع پر پیش کی گئی سفارشات میں کہا گیا کہ 10سال کا منصوبہ تیار کر کے فاٹا کی ترقی کا عمل شروع کیا جائے گا،فاٹا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے ۔فاٹا کو خیبر پختونخواہ کا حصہ بنانے کی سفارش کی گئی اور بتا یا گیا کہ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کے لیے 5سال درکار ہوں گے ۔سفارشات میں کہا گیا کہ ایف سی آر قوانین کا خاتمہ کرنے کے لیے آئینی اصلاحات کی جائیں اور فاٹا سے فوج کے انخلا کے لیے لیویز میں 20ہزار مقامی افراد بھرتی کیے جائیں ۔ فاٹا کی معاشی ترقی کے لیے جامع اصلا حات کی جائیں ، این ایف سی میں سے فاٹا کے لیے 3فیصد حصہ مختص کیا جائے ۔فاٹا میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے بینچز قائم کیے جائیں ۔وفاقی کابینہ نے فاٹا اصلاحات سے متعلق سفارشات کی اصولی منظوری دے دی ہے ۔

”عمران خان سپر سٹار ،میں گلی ڈنڈے کا کھلاڑی ہوں،شائقین کےساتھ بیٹھ کر سیٹیاں بجاﺅں گا“،شیخ رشید

اجلاس کے بعد سینیٹر سرتاج عزیز نے  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اصلاحات کمیٹی نے بنیادی طور پر فاٹا سے متعلق 3  اہم تجاویز پیش کیں تھیں، جن میں پہلی تجویز فاٹا کو الگ صوبہ بنانے، دوسری خیبرپختونخوا میں ضم کرنے اور تیسری تجویز  ایک علیحدہ کونسل بنانے کی تھی۔ اصلاحات کمیٹی نے اپنی رپورٹ گزشتہ برس وزیراعظم کو پیش کی تھی، جب کہ اصلاحاتی رپورٹ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی پیش کی گئی تھی، جسے ایک 2  تجاویز کے علاہ مکمل طور پر منظور کرلیا گیا تھا۔ بعد ازاں اصلاحات کمیٹی نے سفارشات میں ترمیم کرکے رپورٹ ایک بار پھر 15 دسمبر 2016 کو وزیراعظم کو بھجوائی، جب کہ یہی رپورٹ 18 دسمبر 2016 کو کابینہ کے اجلاس میں بھی زیر بحث لائی گئی، اجلاس کے دوران سفارشات میں مزید بہتری لانے کی ہدایت کی گئی۔سینیٹر سرتاج عزیز نے  بتایا کہ سفارشات میں پارلیمنٹ، وزیراعظم اور عوامی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں بہتری لائی گئی، جسے آج کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا۔جس پر 'وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد فاٹا کو 5 سال کے اندر قومی دھارے میں لانے کے حوالے سے کمیٹی کی سفارشات منظور کرلیں جبکہ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے 2018 کے عام انتخابات سے قبل فاٹا کے عوام کو خیبرپختونخوا اسمبلی کے لیے اپنے نمائندے منتخب کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔جبکہ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کی جگہ قبائلی علاقوں کے لیے نیا رواج ریگولیشن لایا جائے گا، جس کے تحت اجتماعی ذمہ داری کے نکات کو نکال دیا جائے گا اور ہر شخص اپنے کسی بھی اقدام کا انفرادی طور پر ذمہ دار ہوگا۔سینیٹر سرتاج عزیزنے مزید بتایا کہ فاٹا کے لیے 20 ہزار لیویز اہلکار بھرتی کیے جائیں گے جبکہ پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار وہاں تک بڑھایا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصا ف کے چیئر مین عمران خان نے بھی وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جائے تاکہ فاٹا کے حالات کو بہتر کیا جا سکے اور یہاں پر تیز ی کے ساتھ ترقیاتی کام کرائے جا سکے ۔عمران خان کا کہنا تھا کہ فاٹا میں اصلاحات کے بغیر ان علاقوں میں دہشت گردی کا خاتمہ بہت مشکل ہے ۔

مزید : قومی /اہم خبریں