فلمی، ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ۔ ۔ ۔ 17ویں قسط

فلمی، ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ۔ ۔ ۔ 17ویں قسط

ملک باری نے پاکستان بننے کے چند سال بعد نجمہ سے شادی کی تھی۔ سالہا سال کے بعد ان کی دوسری شادی اداکارہ سلونی سے ہوئی۔

ہم تو ’’آفاق‘‘ کے فلمی صفحے کا ذکر کر رہے تھے مگر طائر خیال کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ ہم پہلے ہی آپ کو خبردار کر چکے ہیں کہ اس الف لیلہ میں آپ کو بات سے بات اور کہانی سے کہانی نکلتی ہوئی ملے گی اس لئے کہانی در کہانی سے گھبرائیں نہیں۔

میر صاحب کا خیال تھا کہ ڈیڑھ دو کالم فلم کے لئے وقف کر دیے جائیں گے تو بہت کافی ہیں مگر ہم نے پہلے ایڈیشن میں ہی فلم کے بارے میں پورا صفحہ شائع کر دیا۔ اس میں زیر تکمیل فلموں کی خبریں بھی تھیں۔ انٹرویو اور مضامین بھی تھے‘ تصویریں بھی تھیں۔ ایک اچھے فلم میگزین میں جو کچھ ہو سکتا ہے وہ سب اس میں تھا اور خاص بات یہ تھی کہ پہلی بار اس صفحے کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا تھا کہ پاکستان میں بھی فلمی صنعت کا وجود ہے جس سے بہت اچھے اور نامور لوگ وابستہ ہیں۔ فلمی صفحہ بہت خوب صورت تھا اور سچی بات یہ ہے کہ اردو اخباروں کے اعتبار سے یہ ایک انوکھی بات تھی۔ جس نے اسے دیکھا بس دیکھتا اور پڑھتا ہی رہ گیا مگر جب صبح سویرے ہم نے ’’آفاق‘‘ اٹھایا اور فلمی صفحہ کھولا تو ایک لمحے کے لئے تو ہمارا دل دھک سے رہ گیا۔ کہاں تو یہ کہ روز ناموں میں کبھی فلم کا تذکرہ تک نہیں آتا تھا اور کہاں یہ کہ ایک پورا صفحہ فلمی ہستیوں اور فلمی خبروں سے بھرا پڑا تھا۔ ظہور عالم شہید صاحب کی وارننگ بھی ہمیں یاد آگئی کہ جو بھی انجام ہو گا تم خود ہی بھگتنا۔ ہمیں اندازہ تھا کہ اس وقت صحافتی حلقوں میں یہی صفحہ زیر بحث ہو گا اور ہمارے ایڈیٹر صاحبان محدب شیشہ لگا کر اس کے مندرجات دیکھ رہے ہوں گے۔

فلمی، ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ۔ ۔ ۔ سولہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مگر مرتاکیانہ کرتا، دفتر تو آخر جانا ہی تھا۔ دفتر پہنچے تو وہی پرانا منظر نامہ تھا۔ ہمارے ساتھی ہمیں دھمکا رہے تھے۔ چپڑاسی نے بتایا کہ میر صاحب کئی بار طلب کر چکے ہیں اور ان کے پاس مولانا غلام رسول مہر بھی تشریف فرما ہیں۔ ہم نے چاروں قل اور الحمد شریف پڑھ کر اپنے اوپر پھونک ماری اور میر صاحب کے کمرے میں پہنچ گئے اور خاموشی سے سرجھکا کر بیٹھ گئے۔

سب سے پہلے میر صاحب نے چپڑاسی سے وہی شکایت کی کہ چائے گرم نہیں تھی، بہت زیادہ گرم چائے لاؤ پھر انہوں نے ہماری طرف توجہ دی۔ ’’آفاقی صاحب‘ میں نے آپ کا یہ فلمی صفحہ دیکھا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے اخبار کھول لیا۔ ہم دم بخود بیٹھے رہے۔ بولے ’’ویسے تو ٹھیک ہے مگر پورا ایک صفحہ کچھ زیادہ نہیں ہو گیا؟‘‘

ہمارے بولنے سے پہلے مقامی ایجنٹ شمشاد صاحب بول پڑے ’’میر صاحب‘ پورا صفحہ بہترین ہے۔ ہر جگہ اسی کا چرچا ہے اشاعت پر بہت اچھا اثر پڑے گا۔‘‘

غلام رسول مہر صاحب نے فرمایا ’’فلم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر کوئی توازن بھی تو ہونا چاہیے‘‘۔

شہید صاحب بھی وہیں موجود تھے انہوں نے تجویز پیش کی کہ چند روز تک اس کا رد عمل دیکھا لیا جائے۔ پھر فیصلہ کیا جائے۔ اس تجویز کو سب نے پسند کیا۔

میر نور احمد صاحب اور مولانا غلام رسول مہر صاحب کا تذکرہ ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔ میر صاحب فلموں کے شوقین تھے۔ غالباً فلم سنسر بورڈ کے زمانے میں انہیں فلمیں دیکھنے کی عادت پڑی تھی۔ ویسے بھی وہ روشن خیال اور فنون لطیفہ کے شیدائی تھے کئی فلم ایکٹریس ان کو بہت زیادہ پسند تھیں کئی ہفتے بعد ایک روز کہنے لگے ’’وہ ایک ایکٹریس ہوا کرتی تھی جس کی آنکھیں بہت بڑی بڑی تھیں۔‘‘

ہم نے کہا ’’راگنی ؟‘‘

’’ہاں ہاں راگنی۔ اچھی ایکٹریس تھی مگر آپ نے کبھی اس کی تصویر نہیں چھاپی ؟‘‘

ہم نے کہا ’’دراصل اس کی کوئی فلم ان دنوں زیر تکمیل نہیں ہے۔ آپ فرمائیں تو راگنی کا انٹرویو چھاپ دیں ؟ ‘‘

بولے ’’مستحق تو ہے‘ آگے آپ خود سوچ لیں۔‘‘

ہم نے فوراً راگنی کا پتا ٹھکانا معلوم کیا۔ اس زمانے میں وہ اس سڑک پر رہا کرتی تھیں جو سنٹرل جیل کے بالمقابل تھی۔ آج فیروز پور روڈ پر شمع سنیما کے سامنے سے گزر کر جو سڑک شادمان کی طرف جاتی ہے یہ وہی سڑک تھی۔ خدا جانے اس کا نام کیا تھا اس پر بہت کم کوٹھیاں تھیں۔ ان کے پیچھے اور آس پاس کھیت تھے۔ کچھ عرصے بعد اس سڑک پر صبیحہ خانم نے بھی کوٹھی خریدی تھی۔ ہدایت کار و فلم ساز منور ایچ قاسم کی کوٹھی بھی اس سڑک پر تھی جس کے سامنے والی کوٹھی کے ایک حصے میں سید کمال بھی رہتے رہے۔ آج کل تو یہ لاہور کا مرکزی علاقہ ہے مگر اس وقت بہت کم آباد اجڑا اجڑا سا تھا۔ ہم نے فون پر بات کی اور راگنی سے ملاقات کا وقت مقرر کر لیا۔

فلمی صفحے کی وجہ سے ’’آفاق‘‘ کا نام ’’کھل جاسم سم ‘‘ کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ فلم سے وابستہ ہر شخص اسے جانتا تھا اور ہر طرح تعاون کرنے کو آمادہ رہتا تھا۔ راگنی اس زمانے میں ایک زمیندار میاں اسلم کی بیوی تھیں۔ یہ شادی بس اچانک ہی ہو گئی۔ لوگ کہتے ہیں کہ رشتے آسمانوں پر طے پاتے ہیں۔ راگنی اور میاں اسلم کا رشتہ بھی آسمانوں پر ہی طے پایا تھا ورنہ راگنی جیسی مشہور و معروف اور حسین و جمیل اداکارہ کے لئے رشتوں کی کیا کمی تھی۔ ایم ڈی کنور جو بہت خوب صورت اور باوقار آدمی تھے اور فلموں میں اداکاری بھی کرتے تھے وہ راگنی سے شادی کرنے کی حسرت ہی دل میں لیے بیٹھے رہے مگر ان کی تقدیر میں راگنی نہ تھیں۔ وہ رئیس اور با اثر آدمی تھے۔ جب میاں اے آر کار دار نے بمبئی میں فلم ’’شاہ جہاں‘‘ بنانے کا ارادہ کیا اور راگنی کو ممتاز محل کے رول میں منتخب کیا تو ایم ڈی کنور نے ’’شاہ جہاں ‘‘ کا کردار حاصل کرنے کے لئے زمین آسمان ایک کر دیے اور بہرصورت یہ کردار حاصل کر کے ہی رہے۔ مقصد صرف راگنی سے قریب رہنا تھا۔

راگنی کو ہم نے ہمیشہ بہت کم گو‘ سنجیدہ متین اور باوقار پایا۔ ان کے اندازو اطوار میں رکھ رکھاؤ اور تمکنت تھی۔ وہ ہر ایک سے بے تکلف نہیں ہوتی تھیں۔ گفتگو بھی کم کرتی تھیں بلکہ انٹرویو دینے سے بھی گریز کرتی تھیں۔ عمر بڑھی تو بزرگی کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت میں کچھ اور بھاری بھر کم پن پیدا ہو گیا۔ وہ شائستگی اور اخلاق کا نمونہ تھیں ۔

ہم ان سے انٹرویو کے لیے گئے تو سائیکل کے سوا کوئی دوسری سواری ہمیں میسر نہ تھی۔ اس زمانے کے اعتبار سے ان کی کوٹھی خاصی جدید انداز کی تھی۔ سامنے ایک برآمدہ تھا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ ہر طرف ہو کا عالم طاری تھا۔ دور دور تک نہ کوئی سواری نظر آتی تھی نہ انسان۔

ہم کوٹھی کے اندر تو پہنچ گئے مگر یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ اندر کیسے خبر پہنچائیں۔ کوٹھی کا دروازہ چوپٹ کھلا ہوا تھا۔ دربان اور چوکیدار رکھنے کا اس زمانے میں رواج نہیں تھا۔ برآمدے کے سامنے کھڑے ہو کر سوچتے رہے کہ اپنی آمد کی اطلاع کیوں کر دیں۔ چند سیڑھیاں چڑھ کر برآمدے میں پہنچے تو وہاں تین چار لوہے کی کرسیاں اور دو تین مونڈھے پڑے ہوئے تھے۔ دیوار پر اطلاعی گھنٹی کہیں نظرنہ آئی۔ کچھ دیر انتظار کیا کہ شاید کوئی باہر نکلے مگر کوئی نہیں آیا۔

آخر ایک ترکیب سوجھ گئی۔ ہم دوبارہ سائیکل کے پاس پہنچے اور گھنٹی بجانی شروع کر دی۔ ایک آدھ منٹ سائیکل کی گھنٹی بجاتے رہے تو سائیڈ کے کمرے سے ایک ملازم نما آدمی باہر نکلا اور ہمیں دیکھ کر بہت ناراض ہوا۔ بولا ’’ کوئی وقت بھی ہونا چاہیے‘ جب جی چاہا منہ اٹھا کر چلے آتے ہیں ؟‘‘

ہم حیرت سے دیکھتے رہے کہ کس قدر بد تمیز ملازم ہے۔ اس نے کہا ’’ اب کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو۔ جو خط پتر دینا ہے وہ نکالو۔‘‘

’’ اوہو ‘‘ ہم نے سوچا ’’ یہ ہمیں ڈاکیا سمجھ رہاتھا۔‘‘

’’ ہم پوسٹ مین نہیں ہیں ؟‘‘ ہم نے کہا

اب اس کے حیران ہونے کی باری تھی ’’ تو پھر کون ہو ؟‘‘

’’ہم جرنلسٹ ہیں۔‘‘

اس کی سمجھ میں نہیں آیا ’’ کیا ہو جی ؟‘‘

’’ صحافی ہیں‘ اخبار والے۔‘‘

’’ اخبار والا تو صبح آتا ہے۔ وہ اخبار دے کر چلا بھی گیا ہے۔ ‘‘

خدایا کہاں پھنس گئے ’’ یہ بتاؤ کہ میڈم اندر ہیں ؟‘‘

’’ میڈم جی سے کیا کام ہے ؟‘‘

’’ انہوں نے ہمیں بلایا ہے۔ ان سے کہو کہ انٹرویو کے لیے آئے ہیں۔ ‘‘

’’ انٹرویو ؟‘‘ وہ ہماری شکل دیکھنے لگا۔

اتنی دیر میں ایک اور صاحب برآمد ہوئے۔ یہ لمبے چوڑے ایک معقول شخص تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہی راگنی کے شوہر میاں اسلم ہیں۔

’’ کیا بات ہے بھئی ؟‘‘ انہوں نے اپنے ملازم سے پوچھا

’’لوجی‘ اب میاں صاحب سے خود ہی بات کر لو ‘‘ وہ بولا۔

ہم نے کہا ’’ ہم انٹرویو کے لیے آئے ہیں۔ میڈم راگنی نے ملاقات کے لیے وقت دیا ہے۔‘‘

’’ اچھا اچھا‘ معاف کرنا آپ کو تکلیف ہوئی۔ ‘‘ انہوں نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا مگر اپنا تعارف نہیں کرایا ’’ آیئے آپ بیٹھئے۔ وہ ابھی آ جاتی ہیں۔‘‘ پھر وہ ملازم سے مخاطب ہوئے ’’ جاؤ تم چائے بسکٹ کا بندوبست کرو۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ اندر چلے گئے۔

ملازم بھی ہمیں گھورتا ہوا رخصت ہو گیا۔ ہم لوہے کی ایک آرام دہ کرسی تلاش کر کے اس پر بیٹھ گئے۔ ایک بار پھر تنہائی تھی اور ہم تھے۔ سامنے والی سڑک بھی بالکل سنسان تھی۔ آج کل اس سڑک پر ہر وقت ٹریفک کا ہنگامہ رہتا ہے۔

کافی دیر گزر گئی۔ ہم سمجھے کہ شاید وہ صاحب راگنی کو مطلع کرنا بھول گئے ہیں مگر کچھ دیر بعد راگنی اندر سے برآمد ہوئیں۔ ہم انہیں دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ ایک تو اخلاق و تہذیب کا تقاضا تھا دوسرے یہ کہ ان کی شخصیت ایسی باوقار تھی کہ خواہ مخواہ تعظیم دینے کو جی چاہتا تھا۔ ہم نے فلم ’’ شاہ جہاں ‘‘ میں انہیں ملکہ ممتاز محل کے روپ میں دیکھا تھا۔ ان کی بہت سی تصویریں بھی دیکھی تھیں۔ ان کے بارے میں خبریں بھی پڑھی تھیں۔ مگر جب انہیں بنفس نفیس سامنے پایا تو ان کی شخصیت نے کچھ اور زیادہ متاثر کیا۔ ان کی رنگت چمپئی تھی وہی بڑی بڑی حیران سی آنکھیں جن کی سارے زمانے میں شہرت تھی۔ ناک نقشہ اور سراپا بے عیب۔ قد وقامت ایسا کہ شاعر غزل کہنے پر مجبور ہو جائیں۔

’’ معاف کیجئے آپ کو انتظار کرنا پڑا۔‘‘ انہوں نے بڑی اپنائیت سے کہا ’’ دراصل میں نہا رہی تھی۔ مجھے پتا نہیں تھا کہ آپ صحیح وقت پر آ جائیں گے۔‘‘یہ کہہ کر وہ مسکرانے لگیں۔ ان کی آواز میں مٹھاس نہیں تھی۔ فلموں میں بھی ان کی آواز بالکل ویسی ہی سنائی دیتی تھی۔ شکل و صوت کے مقابلے میں ان کی آواز قدرے مختلف تھی۔ غور سے دیکھا تو ان کے بال بھیگے ہوئے نظر آئے۔ ان کے بال ترشے ہوئے تھے اور شانوں پر پھیلے ہوئے تھے۔ سادہ شلوار قمیص میں بھی وہ ایک شہزادی نظر آرہی تھیں۔

’’آپ نے اپنا نام کیا بتایا تھا؟‘‘ انہوں نے پوچھا

’’ابھی تو بتایا ہی نہیں۔ ‘‘ ہم نے جواب دیا۔

وہ ہنسنے لگیں ’’ٹیلی فون پر تو بتایا تھا نا ؟‘‘ہم نے اپنا نام دہرایا۔ اس کے بعد بھی راگنی سے ملاقات ہوتی رہی۔ عام طور پر اسٹوڈیو میں کسی فلم کے کسی سیٹ پر ہی ان سے ملاقات ہوا کرتی تھی۔ وہ محفلوں میں شرکت سے گریز کرتی تھیں۔ الگ تھلگ رہنا پسند کرتی تھیں مگر جب بھی ان سے ملاقات ہوئی اسی وضع داری سے ملیں اور ہمارا نام ہمیشہ انہیں یاد رہا۔ خدا جانے یہ ان کے حافظے کی خوبی تھی یا ہمارا نام ہی اس قدر آسان اور دلکش تھا۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...