چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب ۔۔۔تیرہویں قسط

02 مارچ 2017 (14:59)

ترجمہ ۔ایم وقاص مہر

ہوہ چھوبنگ (huo qubing(140- 117 BC) ,شہنشاہ وو (wu)کے دورِ حکومت کے دوران ایک مشہور جنرل تھا۔ ہنز کے ساتھ لڑئی جانے والی جنگوں میں وہ اپنی جنگی کامیابیاں قائم کر چکا تھا۔ہوہ (huo) جنرل وی چھنگ(wei qing) کا پوتا تھا۔اس کی ماں وی شاوٗیر(wei shao'er) ، ملکہ وی زیفو(wei zifu)کی بہن تھی.ہوہ چھوبنگ (huo qubing) گھوڑ سواری اور تیر اندازی کا بہت بڑا ماہر تھا۔123قبل ازمسیح میں ھوہ (huo)نے ہنز کو فتح کر نے کے لئے جنرل وی چھنگ کی پیروی کی تھی۔اس نے0 80گھوڑ سوار فوجیوں کے ساتھ ہنز کا کئی سو کلومیڑز تک تعاقب کیا تھا،

ا س جنگ میں 2028ہنز فوجی مار ے گئے تھے، جس میں رئیس کا دادا بھی شامل تھا۔انہوں نے رئیس کے چچا کو بھی قیدی بنا لیا تھا ۔ہوہ کو چیمپئن کے خطاب سے سراہا جانے لگا تھا۔

چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب ۔۔۔بارہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

121ق م میں ہوہ چھوبنگ (huo qubing)کو ترقی دے کر پی آوٗچھی(piaoqi)جنرل کے عہدے پر فائز کر دیا گیا اور وہ 10 ہزار گھوڑ سوار فوجیوں کو ساتھ لیے لونگ چھی (longqi) سے باہر اور یان زی (yanzi)کے پہاڑوں سے ہزاروں کلومیڑز دور چلا گیا تھا۔اس نے ہنز کے رئیس زھی لان(zhelan ) کو قتل کر دیا ،ہان شی رئیس کے بیٹے کو گرفتار کیا اور ہنز کی 8000فوج کو نیست ونابود کردیا تھا۔121ق م کے موسم بہار میں ہوہ چھوبنگ (huo qubing)ایک دفعہ پھر لونگ چھی (longqi) سے باہر 25سو کلو میٹرز دور جویان زی (juyanze)کے پیچھے گیا تھا۔اس نے چھیلین(qilian) پہاڑوں پرچھییوچو(qiutu) چیف کو گرفتار کر لیا اور 30000 ہزار فوجیوں کو قتل کر دیا ،سوائے ان 2500 کے جنہوں نے ہار مان لی تھی۔جبکہ اس جنگ میں اس کے اپنے بھی 1/3فوجی مارے گئے تھے۔یہ جنگ ہنز پر ایک بھاری دھچکا تھی۔

اسی سال کے موسم خزان میں ہن کے چیف ،چیف ہنیی(hunye) کی جنگوں میں ناکامیوں پر بہت خفا تھا اور وہ اسے طیش میں مارنے کی منصوبہ بندی کر چکا تھا۔چیف ہنیی(hunye) نے سلطنتِ ہان کے چیف شیوچو(xiutu) کو ہتھیار ڈالنے کی تجویز دی۔لیکن شہنشاہ وو(wu) ان کے ہتھیار ڈالنے کے بارے میں مشتبہ تھا لہٰذااس نے ہوہ چھوبنگ (huo qubing)کو اپنی فوج کے ساتھ، اس کو منظور کرانے کے لئے بھیجا تھا۔ہوہ چھوبنگ (huo qubing)نے دریائے زرد کو عبور کیا اور چیف ہنیی(hunye) کی فوج میں پہنچ گیا۔لیکن چیف ہنیی(hunye) کے کچھ پیروکار وں نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا اور بے ضابطہ انتشار کے لئے چھپ گئے تھے۔ ہوہ چھوبنگ (huo qubing)،چیف ہنیی(hunye) کے کیمپ مین گھس گیا اور اس سے بات چیت کی ۔انہوں نے ان 8000 ہزار فوجیوں کو قتل کر دیا جو ہتھیا ر نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔آخرکار چیف ہنیی(hunye) نے 4ہزار فوجیوں کے ہمراہ سلطنتِ ہا ن کی فرمانبرداری کی ضمانت دے دی تھی۔چیف ہنیی(hunye) کی کامیاب طریقے سے اطاعت قبول کرنے سے ہیشی(hexi)کے خطے کی لمبے عرصے کے لئے پائدار اور پر امن رہنا یقینی ہو گیا تھا،اور ہان کو مغربی علاقوں تک آسانی رسائی بھی مل گئی تھی۔117 ق م میں شہنشاہ وو نے ہنز کے اس شیخی سے ’’ کہ ہان اتنا بہادر نہیں کہ وہ جنگ لڑنے کے لئے صحرا میں آئے‘‘فائدہ اْٹھایا ۔اس نے وی چھنگ اور ہوہ چھوبنگ (huo qubing)کو 50000 گھوڑ سواروں ،40000ہتھیاروں سے لیس گھوڑوں اور کئی سینکڑوں اور ہزاروں پیادہ فوجیوں کے ساتھ فرداََ فرداََ ہنز پر حملہ کرنے کے کئے بھیجا تھا۔ ہوہ چھوبنگ (huo qubing)،ڈائی(dai) کی پریفکیٹ سرکاری رہائش گاہ میں داخل ہو ا اور چیف ٹنٹو(tuntou)اور ہان کے علاوہ ان کے 83 پیروکاروں کو گرفتار کی لیا تھا۔اس کے لشکر نے 7000 ہزار سے زاید فوجیوں کو قتل کیا تھا۔یوں ہوہ چھوبنگ (huo qubing)کو گرینڈ سیما جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی تھی۔شہنشاہ ویدی، ہوہ چھوبنگ (huo qubing)کا بہت زیادہ احترام کیا کرتا تھا،ایک دفعہ اْس نے ہوہ چھوبنگ (huo qubing) اپنے لئے ایک پرْآسائش گھر تعمیر کروانے کی پیشکش کی تھی ۔ تاہم، ہوہ چھوبنگ (huo qubing) نے جواب دیا، ’’ہنز مکمل طور پر نست ونابود نہیں ہوئے ہیں،کیا مجھے اس کے لئے نئے گھر کی ضرورت ہے؟‘‘ یہ بات تمام تر سلطنتوں کے محب الوطن شہریوں اورجنرلز کیلئے اپنے بلند جذبات کا اظہار کرنے کے لئے ایک نعرہ بن گئی تھی۔ 117ق م میں ہوہ چھوبنگ (huo qubing)بیماری کی وجہ سے23 کی عمر میں انتقال کر گیا تھا۔شہنشاہ وو (wu) کو اس کا گہرا صدمہ ہوااور اس نے اسے ماوٗکے مقبرے میں جلانے کا حکم دیا(شی آن شان شی (xi'an shaanxi) کے شمال مغرب میں ،واقع ملکِ شنگ پنگ (xingping) میں یہ شہنشاہ وو کا اپنا مقبرہ تھا)۔شہنشاہ وو نے اس کی قبر کو چھیلین(qilian) پہاڑوں کی شکل میں بنوایا ،جو ان جنگوں کی منظرکشی کر تے تھے ،جو ہوہ چھوبنگ (huo qubing) لڑچکا تھا۔

ہوہ چھوبنگ (huo qubing) کی قبر کے سامنے پتھر کے 16 مجسمے بنے ہوئے ہیں ،جس میں پتھر کی علامتیں،پتھر کے گھوڑے اور دیگر بہت سے فن پارے پڑے ہوئے ہیں۔ان مجسموں کا سٹائل باکل سادہ اور عام ساہے۔ چین میں یہ عظیم مجسموں کا یہ نظام بہت قدیم ہے اور اسے ابھی تک محفوظ ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ان کو چین کی آرٹ کی تاریک میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دنیا میں کہنے کو ہر ملک اپنے ماضی کی شاندار عظمتوں پر ناز کرتا ہے لیکن چین جیسی مثال پر کوئی کم ہی اترتا ہے جس نے اپنے ماضی کو موجودہ دور میں شاندار نظام سے جوڑ رکھااور ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔چین نے آگے بڑھتے ہوئے اپنے ماضی کو کیوں زندہ رکھا ،اس بات کی اہمیت کا اندازہ مشہور چینی موؤخ ڈنگ یانگ کی ہسٹری آف چائنہ پڑھنے سے ہوجاتا ہے۔

مزیدخبریں