معلوماتی سفرنامہ۔۔۔اٹھائیسویں قسط

02 مارچ 2017 (15:03)

ابویحییٰ

الوداع ٹورنٹو

ٹورنٹو میں آخری دو ہفتے انتظار کی سولی پر گزارے۔اُدھر سعودی عرب میں میری بیوی اور بھائی پریشان تھے۔ آخر خدا خدا کرکے مجھے ویزا ملا۔ میں نے اسی شام کی بکنگ کرالی۔ میرا پروگرام تھا کہ میں تین دن نیویارک میں بہن کے پاس ٹھہروں گا اور پھر سعودی عرب کے لیے روانہ ہوجاؤں گا۔تمام احباب سے فون پر بات کرلی۔ یہ سب بھی پریشان تھے کہ میں اتنے دنوں سے جانے کا کہہ رہاہوں مگرجاکر نہیں دیتا۔پھر نگہت باجی کو فون کرکے اپنے آنے کا بتایا۔ اےئر پورٹ کے لیے ارشد کو کہہ دیاتھا۔ ارشد کے ساتھ طارق بھی اےئر پورٹ تک الوداع کہنے کے لیے آئے تھے۔ ٹورنٹو سے اےئر کینیڈا کی فلائٹ کے ذریعے نیویارک کے لاگارڈیا (La Gaurdia)اےئر پورٹ پر اترا اور ٹیکسی کے ذریعے نگہت باجی کے گھر پہنچ گیا۔

معلوماتی سفرنامہ۔۔۔ستائیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

نیویارک کا قیام

اس دفعہ میں نیویارک گھومنے نہیں صرف بہن سے ملنے آیا تھا اس لیے سارا وقت ان کے پاس رہا۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر بڑے اہتمام سے میرے لیے بہت سارے کھانے بنارکھے تھے۔ فہیم بھائی اچھے کھانے کے بہت شوقین ہیں اور نگہت باجی کھانے بہت اچھے بناتی ہیں۔ بہرحال کھانے اتنے سارے اور اتنے اچھے تھے کہ میں تین دن تک کھاتا رہا مگر نیت نہیں بھر ی۔ اسی دوران عزیز بھائی سے بھی فون پر بات ہوئی۔ ماشاء اللہ ان کی اب شادی ہوچکی تھی۔

اس دوران ایک دن شہر دیکھنے نکلا۔ ٹائمز اسکوائر کی رونقیں پہلے سے کہیں زیادہ تھیں کیونکہ گرمیوں کی چھٹیوں میں دنیابھر سے سیاح آئے ہوئے تھے۔ میں ساؤتھ فیری بھی گیا اور نیویارک کو الوداعی نگاہوں سے دیکھا۔ مین ہٹن میں گھومتے ہوئے ایک جگہ پہنچا تو ایسا جھٹکا لگا کہ بڑی دیر تک اس کے اثرات سے نکل نہ سکا۔فٹ پاتھ پر ایک جگہ لوگوں کو کھڑے دیکھا۔ میں سمجھا کہ کوئی فلم وغیرہ ہوگی۔ دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ مردوں کے عریاں ناچ کا شوتھا اور مرد وزن بڑے اشتیاق سے کھڑے شو شروع ہونے کا انتظار کررہے تھے۔ عورتوں کے نیوڈ شو اور اسٹرپ ڈانس کے اڈے تو (باہر سے)دیکھ چکا تھا مگر اسے دیکھ کر واقعی اپنا سر پیٹ لینے کا دل چاہا۔ یہ مغرب والے بھی عجیب لوگ ہیں۔ کہیں ’’احسن تقویم‘‘ اور کہیں ’’اسفل السافلین‘‘۔

مغربی طرزِ زندگی

اہل مغرب کی بات آگئی ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چار ماہ میں مغرب کی زندگی کے جن اہم پہلوؤں نے مجھے متاثر کیا یاجو براہِ راست میرے علم و مشاہدے میں آئے میں ان کی کچھ تفصیل بیان کردوں۔

مغربی معاشرہ الحاد(Atheism) کی بنیاد پر کھڑا ہے اوریہ الحاد انکارِ خدا سے زیادہ انکارِ آخرت کا نام ہے۔ چنانچہ ان کی زندگی کا نصب العین یہ دنیا اوراس کی رنگینیاں بن چکی ہیں۔ یہاں ہر شخص دنیا میں ہی اپنی جنت کی تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے بنیادی طورپر سرمایہ چاہیے۔ چنانچہ ڈالر مغربی دنیا کی سب سے بنیادی اور اصل قدر ہے۔ کیونکہ اسی سے سب کچھ ملتا ہے۔اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ یہاں حکومت ہر فرد کو بہترین معاشی مواقع فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اسی پر اس کی اصل مقبولیت کا انحصار ہوتاہے۔ چنانچہ حکومت کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کے ہر فرد کو مکمل معاشی مواقع مہیا کرے۔ روزگار نہیں تو بیروزگاری الاؤنس ضرور دیتی ہے۔ کاروبار اور اعلیٰ تعلیم کے لیے قرضہ ملنا یہاں اتنا آسان ہے کہ ہم لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ بالخصوص تعلیمی قرضے تو بلاسودی ہوتے ہیں۔ ترقی کے مواقع صرف بڑے شہروں میں ہی نہیں بلکہ دور دراز دیہاتوں میں بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

جب ڈالر کا مسئلہ حل ہوگیا تو اگلا معاملہ اسے خرچ کرنے کا ہے۔ انہیں نہ ہماری طرح اولاد کے لیے کچھ چھوڑ کر جاناہوتاہے نہ برے وقت کے لیے بچت کرنی ہوتی ہے اس لیے یہ جو کچھ کماتے ہیں اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں اور بہت کھل کر کرتے ہیں۔ مغربی معاشرہ صارف کا معاشرہ کہلاتاہے۔ ان کے ہاں اگر بڑے بڑے شاپنگ سنٹرز بنتے اور چلتے ہیں تو اس کا راز یہی ہے کہ خریدار بھی ہیں اور ان کی جیب میں ڈالر بھی ہیں۔ ایک اور چیز میں نے دیکھی کہ یہاں مکان بالعموم بہت سادہ ہوتے ہیں۔ گو ان میں سہولتیں ساری ہوتی ہیں مگر ہمارے ہاں جیسی غیر ضروری آرائش نہیں ہوتی۔ جن کے پاس پیسہ زیادہ ہے بہرحال وہ یہ آرائش بھی کرتے ہیں۔ مگر ان کی پہلی ترجیح اپنی سہولیات، تفریحات اور ضروریات پر خرچ کرنا ہوتا ہے۔ ہفتے بھر کی تھکن کے بعد دو دن خوب تفریح کرتے ہیں۔ان کی ایک بہت بڑی تفریح سیاحت ہے۔ ہر سال گرمیوں میں کہیں نہ کہیں سیاحت پر ضرور جاتے ہیں۔اپنی ذات پر خرچ کرنے کے لیے ہر شخص کے پاس کافی پیسے ہوتے ہیں کیونکہ علاج مفت، تعلیم مفت، کھانا پینا سستا اور ہر مسئلے میں قرض دستیاب۔ جو چاہیں کریڈٹ کارڈ پر خریدلیں۔

یہاں کی زندگی کی ایک اور خصوصیت انفرادیت (Individualism)ہے، یعنی ہر شخص اپنے اچھے برے کا خود ذمہ دار ہے۔ ایک شخص اگر بالغ ہوگیا تو پھر کوئی نہیں جو اس کے کسی معاملے میں ٹانگ اڑائے۔وہ سیاہ کرے یا سفیدکسی کو کوئی غرض نہیں۔ ہر شخص خود کماتا ہے اور خود خرچ کرتا ہے۔ والدین اولاد کے معاملے میں دخل نہیں دے سکتے۔ میاں بیوی ساتھ رہتے ہیں تو گھر کا خرچہ تقسیم کرتے ہیں۔

کمزور طبقات کا تحفظ

یہاں کی ایک بڑی خوبی کمزور اور محروم طبقات کے حقوق کا تحفظ ہے۔ عورتیں، بوڑھے، بچے اور معذوروں کے لیے غیر معمولی تحفظات اور سہولیات ہیں۔ بزرگوں کے لیے ہر جگہ رعایتی ٹکٹ اور ترجیحی نشستیں ہیں۔ ان کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے جاتے ہیں۔ ان کو ماہانہ وظیفے بھی دیے جاتے ہیں۔ بچوں کی تربیت یہاں اخلاقی فریضے سے بڑھ کر ایک قانونی ذمہ داری ہے۔ جس میں معمولی درجے کی کوتاہی کے نتیجے میں پولیس مداخلت کرتی ہے۔ بچے کو ذہنی، جسمانی یا نفسیاتی کسی بھی اعتبار سے ضرر پہنچایا جائے تو قانون حرکت میں آجاتا ہے۔ میں بعض اوقات سوچتا تھا کہ یہ قانون اگر ہمارے ہاں نافذ ہوجائے تو ۹۹ فیصد والدین اندر ہوجائیں گے۔بچوں کی پرورش کے لیے والدین کو وظیفہ دیاجاتا ہے۔ لائبریری وغیر میں مفت کھلونے بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

خواتین کے تحفظ کے لیے بھی یہ معاشرہ بڑاحساس ہے۔ بچوں کی طرح انہیں بھی کوئی ذہنی، جسمانی یاجنسی ضرر پہنچایا جائے تو پولیس کیس بن جاتا ہے۔ ٹیلیفون ڈائرکٹری کے شروع میں وہ نمبر نمایاں طور پر لکھے ہوتے ہیں جن کے ذریعے بچے اور خواتین فوری طور پر مدد حاصل کرسکتے ہیں۔ 911 کی سہولت تو موجود ہی ہے۔ رات کے وقت خواتین بسوں کو اپنے مقررہ اسٹاپ کے علاوہ بھی رکواسکتی ہیں تاکہ باآسانی گھر پہنچ سکیں۔ معذوروں کے لیے بھی ہرجگہ انتظامات مہیا ہیں۔ انہیں خصوصی وظیفہ بھی ملتاہے اس کے علاوہ ہر جگہ بہت سی دیگر سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں مثلاً بس میں اگر بیٹھنا ہوتو ڈرائیور سیٹ سے اٹھ کر پیچھے آتا ہے اور بس میں ان کی نشست سیٹ کرتا ہے۔ پھر ان کی وہیل چےئر اوپر چڑھتی ہے۔

اخلاقی حالات

جہاں تک اخلاقی پہلو کا تعلق ہے مغربی سوسائٹی بعض اعتبارات سے ہمارے لیے بھی باعث رشک ہے اور بعض اعتبارات سے جانوروں کے لیے بھی باعثِ شرم۔ یا یہ کہہ لیں کہ جسے ہم لوگوں کے ساتھ معاملات کہتے ہیں اس میں یہ لوگ ہم سے کہیں بہتر ہیں۔ البتہ صنفی اخلاقیات میں ، با وجوہ، یہ لوگ بہت نیچے گر گئے ہیں۔ پہلی چیز کے اعتبار سے ان کا فلسفہ یہ ہے کہ انسانیت سب سے بڑی چیز ہے اور سب کی بقا میں اپنی بقا ہے۔یہاں لوگ ذاتی فائدے کی بنیاد پر زندگی ضرور گزارتے ہیں مگر اجتماعی مفاد سے بھی پہلو تہی نہیں کرتے۔وہ اعلیٰ انسانی صفات جو کبھی ہماری میراث تھیں اب ان کے ہاں پائی جاتی ہیں۔ یہ ایک باشعور معاشرہ ہے جس میں نظم و ضبط ، تحمل اور رواداری جیسی عمدہ صفات اعلیٰ ترین درجے پر پائی جاتی ہیں۔اعلیٰ انسانی اقدار کی پابندی ان کے ہاں ہے۔پیسہ کمانے کے لیے یہ لوگ ناجائز ذرائع استعمال نہیں کرتے۔ رشوت اور بدعنوانی بڑی سطح پر ہوسکتا ہے ہوتی ہومگر عام لوگوں کی سطح پر نہیں۔ یہ لوگ کسی کام کو حقیر نہیں سمجھتے۔ جو کام کرتے ہیں محنت سے کرتے ہیں۔ اپنے فرائض ذمہ داری ، خوش اسلوبی اور دیانت داری سے پورے کرتے ہیں۔ لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آتے ہیں۔

اس کے ساتھ ان کی زندگی میں وہ تمام خرابیاں بھی ہیں جو مادیت اور انکارِ خدا و آخرت کا لازمی نتیجہ ہیں۔ تاہم جو سب سے تباہ کن مسئلہ اس سوسائٹی کو درپیش ہے وہ یہ کہ انسانوں کی تربیت کا بنیادی ادارہ یعنی خاندان بہت کمزور ہوچکا ہے۔ اس پر کچھ گفتگو میں پچھلے باب میں کرچکا ہوں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان بچوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اور جب یہی بچے آگے چل کر بڑے ہوتے ہیں تو معاشرے کے لیے مسئلہ بن جاتے ہیں۔ نیو یارک میں ایک مقامی امریکن خاتون سے بات ہورہی تھی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ امریکی معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ نوجوانوں میں بڑھتا ہوا تشدد کا رجحان۔ اس رجحان کے پیچھے کارفرما ایک اہم عامل خاندانی نظام کی کمزوری بھی ہے۔

جنسی بے راہروی اور اس کے اسباب

خاندانی نظام کے ٹوٹنے کا بنیادی سبب جنسی بے راہروی ہے۔ اور یہی مغرب کے معاشرے کا سب سے کمزور مقام ہے۔ اس معاملے میں کونسی ایسی حد ہے جو ان لوگوں نے نہیں توڑڈالی۔ جو معاشرہ ہم جنس پرستی کو اعلانیہ اپنا چکا ہو اس کے پاس پستی میں گرنے کے لیے اور کچھ نہیں بچتا۔ تاہم یہ جنسی بے راہروی اتفاقیہ طور پر پیدا ہونے والی چیز نہیں۔ حیا انسانیت کی بڑی بنیادی قدر ہے۔ اگر کوئی معاشرہ حیا کو چھوڑ کر بے حیائی کو قدر بنالیتا ہے تو اس کے پیچھے بڑے گہرے اسباب ہوتے ہیں۔ مغربی معاشرے میں اگر ایسا ہورہا ہے تو اس کے بھی کئی اسباب ہیں۔

پہلا سبب وہی مادیت کی سوچ ہے جس کے نزدیک ہر وہ چیز جس سے کسی فرد کو کوئی مادی نفع یا مزہ حاصل ہوتاہے اس کا حصول فرد کا بنیادی حق ہے۔ یہ وہ چیز تھی جس نے جنسی بے راہروی کے خلاف معاشرے اور قانون کی گرفت کو ختم کیا۔ اور ان تمام کاروباروں کو تحفظ فراہم کیا جو انسان کے سفلی جذبات سے کھیل کر پیسہ کماتے ہیں۔ قانون اور معاشرے سے پہلے جو چیز انسانوں کو اس دلدل میں جانے سے روکتی ہے وہ اس کے اندر کی رکاوٹ ہے جسے ہم شرم یا حیا کہتے ہیں۔ اس اندرونی رکاوٹ کو کمزور (میں ختم اس لیے نہیں کہہ رہا کہ اسے ختم کرنا ممکن نہیں) کرنے کا فریضہ فرائڈ کے علم النفسیات پر کام نے سرانجام دیا۔ میں اس کام کی تفصیل میں نہیں جارہا کیو نکہ یہ بہت سے قارئین کے اوپر سے گزر جائے گی۔مختصر یہ سمجھئے کہ اس نے انسان کے لاشعور کو بھڑکتے ہوئے جنسی جذبات کی بھٹی قرار دے دیا۔جسے قابو میں کرنے کے لیے معاشرے نے ضمیر، اقدار اور اسی طرح کے دیگر پولیس مین ایجاد کرلیے۔ لہٰذاجب انسان کی اصل ہی نفسانی خواہش قرار پائی اور دیگر اقدار مصنوعی رکاوٹ تو نتیجہ صاف ظاہر ہے۔

اس کے ساتھ دیگر ایسے متعدد اسباب تھے جن سے مغربی معاشرے میں عریانی اور جنسی بے راہروی کی فضا عام ہوتی چلی گئی۔ صنعتی دور میں افرادی قوت کی طلب کو پورا کرنے کے لیے عورتوں کو گھر سے باہر آنا پڑا۔ دو عظیم جنگوں میں بڑی تعداد میں مرد ہلاک ہوئے تو عورتیں مزید آگے آئیں۔ مرد و زن کے بے حجابانہ اختلات کا ماحول عام ہوا۔ کاروباری مسابقت کی بنا پر اشیا کی فروخت کے لیے عورتوں کو استعمال کیا جانے لگا۔خود عورتوں کو احساس ہوا کہ ان کا جسمانی حسن ایک اثاثہ ہے جسے وہ استعمال کرسکتی ہیں۔ انہوں نے اسے خوب استعمال بھی کیا۔ شو بز کی ترقی نے اس رجحان کو مزید فروغ دیا۔ جو نیا میڈیا ایجاد ہوتا اس کے پھیلنے کی سب سے آسان اور تیز صورت یہ تھی کہ انسانوں کے سفلی جذبات کو بھڑکایا جائے۔ رسالوں، فلموں، ٹی وی اور اب انٹرنیٹ، ہر ایک کی مقبولیت میں عریاں مواد کا نمایاں ہاتھ رہا ہے۔ ان تمام چیزوں نے مل کر وہ ماحول پیدا کردیاجو آج مغرب میں موجود ہے۔ اورجس کے لازمی نتیجے کے طور پر خاندان کا ادارہ تباہ ہورہاہے۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

( ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔انہوں نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

مزیدخبریں