جو کام ڈریپ نے نہیں کیئے

جو کام ڈریپ نے نہیں کیئے

ڈریپ(ڈرگ ریگو لیٹری اتھارٹی آف پاکستان ایکٹ 2012) ایکٹ کی تفصیلات اور اسکے طب اور اطباء پر مضمرات میں جانے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اس قانون کی غرض و غایت،پس منظر سے واقف ہوں،کیونکہ اس کو سمجھے بغیر نہ تو ہم اسکی فلاسفی اور نہ ہی اسکے نقسانات کا احاطہ کر سکتے ہیں۔ عالمی دنیا 1990تک ایلو پیتھی ادویات اور اُن کے نقصانات سے واقف ہوکر اس نتیجہ پر پہنچ چکی تھی کہ صحت کلی کے لیے،فطری طریقہ علاج یعنی ہربل یا دوسرے لفظوں میں یونانی ہی واحد حل ہے۔اس کے لیے اُن کے پاس چو نکہ اس کا کوئی باقاعدہ منظم اور جامع علم اور کا میاب عملی رائج نظام نہ تھا،چناچہ اُن کی نگاہِ انتخاب ایشیا اور بالخصوص پاکستان پر پٹری۔ہندوستان نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو اس معاملے میں ہری جھنڈی دکھا دی تھی،کیونکہ وہاں کی حکومت بہر حال اپنے ملکی اور قومی مفادات کو ہر حال میں مقدم رکھتی ہے۔اُنہوں نے ایکسپورٹ کے معاملے میں تو WHO سے تمام رعایات لیں،لیکن اپنے مخصوص ملکی،وہاں کے مقامی اطباء و دواساز اداروں کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کو ئی ایسی قانون سازی نہ کی،جو کہ وہاں کی مقامی صنعتِ دواسازی کے لیے نقصان دہ ہو۔ ہماری ہمیشہ سے یہ بد قسمتی رہی ہے کہ جمہوری حکومتوں کا دورانیہ مختصر رہا ہے،جس سے حکمرانوں میں نہ تو قومی سوچ پنپ سکی اور نہ ہی عوامی مفادات،اُن کی ترجیحا ت میں شامل ہو سکے۔یہی حال اس معاملہ میں ہوا۔کاغذی طور پر اس کے لیے 2003 میں ٹریڈیشنل میڈیسن پالیسی و ریگولیشنز کے نام پر ایک پالیسی مرتب کرکے وزارتِ صحت نے شائع کی،جو کہ ایک درست اور قابلِ عمل پالیسی تھی۔اگر اسِ پالیسی پر اُسی وقت عمل شروع کر دیا جاتا تو،آج سے تین چار سال قبل ہی مطلوبہ نتائج حاصل ہو چکے ہوتے۔ اس پالیسی کے مطابق ؛

۱۔ تمام ہو میو ،ہربل،یونانی پریکٹیشنرز کو انٹر نیشنل ہربل،ہو میو مارکیٹ میں ہو نے والی ترقی اور جدید سائنسی طریق ہائے علاج سے آگاہ کرنا اور عملی طور پر سیکھانا۔

۲۔تمام ہومیو،ہربل،یو نانی مینو فیکچررز کو جدید انڈسٹری کے بارے میں علم و ٹریننگ دینا۔

۳۔ملک میں پیدا ہو نے والی 3500 ہر بل کیش فصلوں کے بارے میں کسانوں کو آگہی،اُن کو قرضے،کھاد زمین اور تیکنیکی معلو مات کی فراہمی ،سے ان پو دوں کی افزائش سے

ملک کو نہ صرف ان پودوں میں خود کفیل کر نا بلکہ ان کیش فصلوں کو ایکسپورٹ کر کے ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کمانا۔

۴۔قومی طبی کو نسل کی تشکیلِ نو،اسِ میں تجربہ کار،غیر سیاسی،اعلی تعلیم یافتہ حکماء کا تقرر،فارما سسٹس و دیگر ماہرینِ فن کی شمو لیت۔

۵۔طبیہ کالجز میں داخلے کا معیار ایف،ایس ،سی کرنا،چار سالہ دپلومہ کی بجائے،۵ سال کا BEMS ڈگری کورس،تمام کالجز کا یو نیورسٹیز سے الحاق۔

۶۔صاف اور تازہ،عمدہ کوالتی کی خام جڑی بو ٹیوں کی مارکیٹ مین فراہمی،تاکہ تیار ادویہ انٹر نیشنل معیار کے مطابق ہوں۔

۷۔یونانی،ہو میو،پر یکٹیشنرز کو SOP,s AND,WHO,GMP,s کے بارے میں معلو مات،اور اُن کے اپنے مطب اور کلینکس کو اپ گریڈ کر نا۔

۸۔ملک میں معیاری اور جدید ہر بل ٹیسٹنگ لیبار یٹریز کا قیام۔

۹۔ڈگری ہو لڈر اطباۂو میو پیتھس میں ذہین سٹوڈنٹس کو ڈاکٹر آف فارمیسی کا کو ر س کروا کر انِ ہربل لیبز میں تعینات کر نا تاکہ یو نانی،ہو میو مینو فیکچررز کی ادویات کی درست طریقے سے غیر متئصبانہ چیکنگ ہو سکے۔

اسِ پالیسی پر عملدرآمد ،وزارتِ صحت ،زراعت اور دیگر اداروں،بشمول متعلقہ طبی کونسلز کی ذمہ داری تھی۔لیکن افسوس یہ بنیادی قانون ،دیگر دستاویزات کی طرح،سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ 2010میں اُس وقت کی حکومت نے WHOکے مجبور کرنے پر DRAP ACTپر کام شروع کیا،اگر اُس وقت بھی TRMپالیسی پر عمل درآمد شروع کر لیا جاتا ،تو بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی،لیکن،ملکی سیاسی حالات اور بیور کریسی کی مخصوص سوچ کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا،اور 2012میں DRAP ACTپر اُس وقت کے صدر جناب آصف زرداری ساحب نے دستخط کر کے اسے باقاعدہ قانون کی شکل دے دی۔اُس وقت متعلقہ طبی و ہومیو کونسلز کا کردار بھی اسِ ضمن میں کوئی قابلِ تعریف نہیں تھا۔اسِ قانون کی غر ض وغایت میں بیان ہے کہ یہ قانون ملک کے 70%غریب اور دیہی علاقوں میں رہنے والے عوام کو سستی اور میعاری طبی سہو لیات فراہم کرنے کے لیے لاگو کیا جا رہاہے۔نیز اسِ سے مقامی مینو فیکچررز کی مصنو عات بیرونِ ملک ایکسپورٹ کر کے ملک کے لیے زرِ مبادلہ حاصل کیا جائے گا۔لیکن ،اس کا S.R.O.412(1)2014 کا بغور مطالعہ بتاتا ہے کہ ،مو جودہ حالت میں موجود مقامی یو نانی،ہو میو انڈسٹری اس ایس۔آر۔او کے نفاذ کے بعد ترقی کر نے کی بجائے،نا پید ہو جائے گی۔ اسِ کی بنیادی دو وجوہات ہیں؛۱۔یہ قانون،بغیر یو نانی اطباء،مقامی مینو فیکچررز کی مشاورت کے بنا یا گیا ہے،اسِ قانون کو بنانے والے،بیوروکریٹیس اور ایلو پیتھک حضرات ہیں،جن کو نہ تو طب کی مبادیات اور نہ ہی اسِ کی فلاسفی کا علم ہے۔نیز جن مینو فیکچررز کو مشاورت کا حصہ بھی بنایا،وہ ایسے حضرات تھے،جو طب کو نہیں سمجھتے تھے بلکہ صرف کاروباری ذہنیت کے حامل تھے۔نیز اسِ قانون کو بنانے والے پہلے سے ہی یہ فیصلہ کیے ہوئے تھے کہ مقامی مینو فیکچررز اور پریکٹیشنرز ان پڑھ،جرائم پیشہ ،اور دھو کہ باز ہیں،انِ پر اعتبار نہیں کر نا بلکہ انِ کو دبا کر اپنی مر ضی کے راستے پر چلانا ہے۔اسِ جبر سے وقتی طور پر تو انِ لوگوں کو کامیابی حاصل ہو سکتی ہے لیکن،چونکہ یہ فطرت کے خلاف عمل ہے،لہذا اس کا حال بھی اسی طرح کے دیگر قوانین کی طرح ہو گا۔

۲۔ دوسری اور اہم وجہ اسِ قانون کے خالقوں کا اپنی ہی بنائی ہو ئی TRMپالیسی کو نظر انداز کر ناہے۔قانون، فطرت ہے کہ بغیر مظبو ط بنیادوں کے کو ئی عمارت قائم نہیں رہ سکتی، اسی طرح،بغیر انفرا سٹرکچر مہیا کیے ،نہ تو حکومت طبی مصنوعات کو اپ گریڈ اور نہ ہی ایکسپورٹ کر سکتی ہے۔حکومت کی یہ خام خیالی ہے کہ انٹر نیشنل دنیا اُن کے کاروباری ذہنیت کے حامل افراد کی مصنو عات سے متاثر ہو کر اُ نہیں اپنی مارکیٹ تک رسائی دے گی۔بلکہ دنیا کو طبی مصنو عات اپنی اصل اور کلا سیکل شکل میں درکار ہیں۔جو کہ مقامی سطح کے باقاعدہ طبی ذہنیت،سوچ،فکر اور اصل طب کے وارث ہیں سے مل سکتی ہے۔لیکن مو جودہ قوانین،اُن کو ختم کر دیں گے۔ اس ضمن میں چند تلح حقائق ہم اطباء کو بھی تسلیم اور پیش نظر رکھنے پڑیں گے۔ملک میں دیسی،ہربل،نیوٹراسوٹیکل اور اسی طرح کے ناموں سے،خود رو کھمبیوں کی طرح گلی محلے کی سطح پر،غیر مستند،عطائی اور لالچی لو گ،چھوٹی،چھوٹی جگہوں پر دیسی،ولایتی اور سٹیرائڈز ملا کر یہ زہر غریب اور سادہ لوح عوام کو فروخت کر رہے تھے،جسکی بیخ کنی بہر حال ضروری تھی۔اسکے علاوہ،اشتہاری،جنسی عطایت بھی اپنے عروج پر تھی،جو کہ اس فنِ شریف پر ایک بدنما داغ تھی۔ اب یہاں پر بڑے طبی دواساز اداروں کا کر دار بھی،طبِ کُش رہا ۔ان لو گوں کا خیال تھا کہ،یہ ڈریپ اور اس کے ضمنی قوانین کی آ ڑ میں،ایسے چھوٹے لیکن میعاری دواساز اداروں جو کہ مقامی سطخ پر عوام کو سستی اور معیاری طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں بند کروا کر،مارکیٹ کا باقی شئیر بھی حاصل کر لیں گے،نے دانستہ طور پر،انِ قوانین کو اطباء برادری تک نہ پہنچنے دیا۔انِ اداروں نے جب دیکھا کہ ڈریپ ان کو بھی اپنے قوانین کے شکنجے میں لے آئے گا تو یہ 1914 میں سندھ ہائیکورٹ سے رٹ پٹیشن کے ذریعے سٹے لے لیا۔اگر اُ س وقت بھی ان اداروں (PTPMA)میں کوئی صاحبِ نظر ہو تا تو،وہ اطباء اور دیگر مقامی اداروں کو اپنے ساتھ ملا کر ایک ملکی تحریک چلا کر حکوتِ وقت کو اس نقطہ پر لے آتے،جس سے ایک قابلِ عمل اور معقول حل نکل سکتا تھا،لیکن چونکہ،بیشتر اداروں کے مو جودہ مالکان،قابلِ فحخر طبی پس منظر کے باوجود اب مخض کاروباری افراد ہیں،جن کو نہ تو طب سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی اُن میں طبی حمیت نام کی کوئی رمق موجود ۔ اسِ کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ اسی دوران،حکومتِ پنجاب ،جو کہ بہر حال موجودہ وزیرِاعلی جناب میاں شہباز شریف صاحب کی قیادت میں خاصی متحرک اور فعال ہے کو ایلو پیتھک فارما انڈسٹری کی طرف سے جعلی اور غیر معیاری ادویات کی وجہ اُن کے خلاف ایکشن لینا پڑا۔(PICمیں ہو نے والی اموات ،کھانسی کا سیرپ اور اس جیسے دیگر واقعات)۔ان تمام حادثات میں،طبی،ہو میو ادارے کہیں بھی ملوث نہیں تھے،اور نہ ہی حکومت نے ان کے خلاف کسی ایکشن کا حکم دیا تھا،لیکن یہاں بھی ایک ایسا حکومتی مافیا سرگرم تھا جس کے مفادات کو اسِ ایکشن سے براہِ راست نقصان ہو تا تھا،وہ متعلقہ ڈرگ انسپیکیٹرز۔یہ امر ایک حقیقت ہے کہ بیشتر ڈرگ انسپیکٹرز ،یا تو انِ باتھ روم فارمیسز کے مالکان تھے،یا اُن کے انِ فارمیسیز میں حصہ داری تھی،یا پھر وہ ان سے باقاعدہ بھتہ لیتے تھے۔چناچہ انِ ڈرگ انسپیکٹرز نے پنجاب حکو مت کے انِ جعلی ایلو پیتھک دواسازوں کے خلاف ایکشن کا رخُ،دیسی،ہربل پریکٹیشنرز اور مقامی،معیاری،چھوٹے دواساز اداروں کی طرف موڑ دیا۔کریک ڈاؤن کے نام پر قدیم اور سستا علاج کر نے والے معزز اور خاندانی اطباء کی تذلیل کی گئی،اُنہیں گرفتار کرکے اُن کے مطب سیل ہوئے،معاشرے میں اُن کی رسوائی کا سامان کیا گیا۔اسِ میں بہر حال مستسحن کام یہ ہوا کہ طب میں شامل کالی بھیڑیں بھی صاف ہو گئیں،جس کی اشد ضرورت تھی۔عدالتوں نے اسِ موقع پر بہرحال حکماء کو مناسب ریلف دی۔اسی دوران،حکومتِ پنجاب نے،ڈرگ ایکٹ1976 میں ترمیمی بل 2017ڈرگ رولز کے نام سے پنجاب اسمبلی سے پاس کروایا۔یہ قانون بھی بنیادی طور پر ایلو پیتھک فارما اور میڈیکل سٹورز سے متعلق ہے اور قانونی طور پر اسِ کا طب سے کو ئی تعلق اس وجہ سے نہیں ہے کہ ڈرگ ایکٹ 1976 میں ہومیو ہربل،یونانی،بایو کیمک SEC gکے تحت اسِ سے مستنا ہیں۔لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ،پنجاب حکومت کی قوتِ نافذہ ان ڈرگ انسپیکٹرز کے پاس ہے،تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ اس کا استعمال اور حشر بھی پہلے کی طرح کریں گے۔دوسرے بہر حال حکومتِ پنجاب کے مو جودہ ڈرگ رولز،نہ تو بین القوامی معیارات اور نہ ہی انصاف کے بنیادی اصولوں پر پورا اُترتے ہیں۔دنیا میں کہیں بھی فوڈ سپلیمنٹس کے لیے ایسے قوانین نہیں جو موجودہ ڈرگ رولز میں متعارف کروائے گئے ہیں۔انِ ڈرگ رولز کو دیکھ کر تو احساس ہو تا ہے کہ یہ فارما انڈسٹری کی بجائے،قاتلوں اور عادی مجرموں کے لیے ہیں۔دیگر اسِ سے حکومتی پالیسی ایسی لگتی ہے فارما کی اصلاح کی بجائے اسِ کا خاتمہ مقصود ہے۔حکومتِ پنجاب نے 2010میں پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کے نام ایک ادارہ بنا کر نئی اصطلاح، ہیلتھ کئیر پرو فیشنل متعارف کروا کر اُس میں،معاشرے کے تمام پیشوں کو ایک ہی جگہ اکٹھا کر نے کی کو شش کی ہے،جو کہ عملی طور پر ناممکن ہے۔دیگر اسِ کے لیے جو قوانین،MSDSپیش کیے گئے ہیں،ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی دوسرے سیارے کے لو گوں کے لیے ہیں۔اس ضمن میں بھی تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر مناسب قانون سازی کی ضرورت ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...