اس آدمی کو زندہ زمین میں دفن کردیا گیا کیونکہ۔۔۔

اس آدمی کو زندہ زمین میں دفن کردیا گیا کیونکہ۔۔۔
اس آدمی کو زندہ زمین میں دفن کردیا گیا کیونکہ۔۔۔

ڈبلن(مانیٹرنگ ڈیسک) آئرلینڈ میں ایک شخص نشے کا عادی تھا، پھر اس نے اس لت سے جان چھڑوا کر اس کے خلاف مہم شروع کر دی تاکہ دوسروں کی مدد کر سکے۔ گزشتہ دنوں اس نے اس مہم میں ایسا کام کر ڈالا کہ جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 63سالہ جان ایڈورڈز نامی یہ شخص طویل عرصے تک منشیات کی لت میں مبتلا رہا۔ اس سے نجات پانے کے بعد اس نے ”واکنگ فری“ کے نام سے فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھی جو نشے کے عادی اور خود کو نقصان پہنچانے کی طرف راغب لوگوں میں آگہی پھیلانے کا کام کرتی ہے۔ایڈورڈز نے ایسے لوگوں کو زندگی کی اہمیت بتانے کے لیے ایک باہمت فیصلہ کیا اور آج سے وہ 3دن کے لیے زندہ قبر میں دفن ہو گیاہے۔

’مجھے ہر وقت لگتا تھا اِن درختوں میں سے کوئی مجھے دیکھ رہا ہے، بالآخر پولیس کو اطلاع دی، انہوں نے جاکر دیکھا تو ایسی چیز مل گئی کہ ہر کسی کے پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ۔۔۔‘ جنگل کے نزدیک رہائش پذیر شہری نے انتہائی خوفناک واقعہ بیان کردیا

رپورٹ کے مطابق اس نے قبر میں جانے سے پہلے اپنے دوستوں سے ملاقات کی، انہیں گلے لگایا۔ اپنی بیوی کو بوسہ دیا اور پھر اپنے تابوت کے اندر چلا گیا۔ اس کے تابوت میں بجلی اور وائی فائی کا انتظام کیا گیا ہے اور کچھ کتابیں بھی رکھی گئی ہیں۔ایڈورڈ خود کئی دہائیوں تک منشیات استعمال کرنے کے باعث 2بار کینسر میں مبتلا ہو چکا ہے اور ہیپاٹائٹس سی ہونے کی وجہ سے اس کا جگر بھی تبدیل کیا جا چکا ہے۔تابوت میں بند ہونے سے قبل اس نے بیلفاسٹ لائیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میں جانتا ہوں کہ یہ شدت پسندانہ اقدام ہے۔ مجھ سے کئی ایسے لوگ رابطہ کرتے ہیں جو نشے کی لت میںمبتلا ہیں اور وہ بھی جو خودکشی کی طرف راغب ہو چکے ہیں۔ میں قبر میں جا کر وہاں سے ان لوگوں کے ساتھ انٹرنیٹ کے ذریعے گفتگو کرنا چاہتا ہوں، تاکہ انہیں زندگی کی اہمیت بہتر انداز میں سمجھا سکوں اور انہیں اس لت سے نجات دلانے میں مدد کر سکوں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...