’مجھے کہا گیا تھا اُس لڑکی کے کپڑے اتارو اور ہاتھ پیر باندھ کو آگ میں پھینک دو، میں نے یہی کیا کیونکہ۔۔۔‘

’مجھے کہا گیا تھا اُس لڑکی کے کپڑے اتارو اور ہاتھ پیر باندھ کو آگ میں پھینک ...
’مجھے کہا گیا تھا اُس لڑکی کے کپڑے اتارو اور ہاتھ پیر باندھ کو آگ میں پھینک دو، میں نے یہی کیا کیونکہ۔۔۔‘

ماناگوا (نیوز ڈیسک)دنیا ترقی کرکے اکیسویں صدی میں پہنچ گئی لیکن کچھ غریب اور پسماندہ ممالک میں آج بھی جہالت کا دور دورہ ہے۔ سادہ لوح عوام کو عملیات اور جادو ٹونے کا دھوکہ دے کر ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کے دعویدار نوسرباز صرف لوٹ مار ہی نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات کسی کی جان بھی لے لیتے ہیں۔ ایک ایسا ہی لرزہ خیز واقعہ نکرا گوا میں پیش آیا جہاں ایک ڈھونگی پادری نے ایک خاتون کو علاج کے نام پر آگ کے شعلوں میں پھینک دیا۔ بیچاری خاتون کو شفا تو نصیب نہ ہوئی البتہ زندگی سے ہاتھ ضرور دھوبیٹھی۔

’میں صرف 14 برس کی تھی تو ڈاکٹر نے بتایا کہ مجھے ایڈز ہے اور اس کی وجہ۔۔۔‘ نوجوان لڑکی نے انٹرنیٹ پر ایسی بات لکھ دی کہ ہر کسی کو دکھی کردیا

نیشنل پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق 25 سالہ خاتون کو علاج کی غرض سے بدبخت پادری کے پاس لایا گیا تھا جس میں اپنے گرجا گھر کے سامنے لکڑیاں جلائیں اور خاتون کو آگ میں پھینکنے کا حکم دے دیا۔ شیطان صفت پادری نے اپنے چیلوں کو بتایا کہ ”مجھے ’اوپر‘ سے حکم ملا ہے کہ خاتون کو برہنہ کرو اور ہاتھ پیر باندھ کر آگ میں پھینک دو۔“ چیلوں نے اس کے حکم پر عمل کرتے ہوئے بیچاری خاتون کو برہنہ کیا اور پھر اس کے ہاتھ اور پاﺅں باندھ کر اسے دہکتے ہوئے کوئلوں پر پھینک دیا۔ جب وہ آگ میں تڑپنے لگی تو اس کا تماشہ دیکھنے والے درندوں نے اسے اٹھایا اور قریب واقع ایک نالے میں پھینک دیا، جہاں سے 9گھنٹے بعد اس کی چھوٹی بہن نے اسے نکالا۔

متاثرہ خاتون کو ماناگووا کے علاقے میں ایک ہسپتال لیجایا گیا جہاں کچھ روز موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد وہ دنیا سے رخصت ہوگئی۔ پولیس نے خاتو ن کے قتل کے الزام میں پادری گریگوریا روشا رومیرو اور اس کے تین چیلوں کو گرفتار کرلیا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...