دنیا کا وہ اسلامی ملک جہاں لڑکیوں کا ریپ کرنے والوں کو اب سزا کی بجائے ’انعام‘ دیا جائے گا، ایسا قانون متعارف کروادیا گیا کہ دنیا میں ہنگامہ برپاہوگیا

دنیا کا وہ اسلامی ملک جہاں لڑکیوں کا ریپ کرنے والوں کو اب سزا کی بجائے ...
دنیا کا وہ اسلامی ملک جہاں لڑکیوں کا ریپ کرنے والوں کو اب سزا کی بجائے ’انعام‘ دیا جائے گا، ایسا قانون متعارف کروادیا گیا کہ دنیا میں ہنگامہ برپاہوگیا

ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک)کیا اس سے بڑے ظلم کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے کہ کسی لڑکی کو اس کی عصمت دری کرنے والے درندے کو ہی بطور انعام پیش کردیا جائے، اور وہ بھی عمر بھر کے لئے۔ یقینا آپ اسے بدترین درندگی ہی کہیں گے، لیکن اس اسلامی ملک کے بارے میں کیا کہیں گے جس نے یہ قانون متعارف کروادیا ہے کہ متاثرہ لڑکی کی شادی عصمت دری کرنے والے مرد سے کروادی جائے۔

دی ایشین کارسپونڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق نئے قانون کے تحت نابالغ لڑکیوں کی عصمت دری کرنے والے مجرموں سے شادی کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قانون سراسر بے انصافی اور ظلم پر مبنی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے جنسی درندوں کو کھلی آزادی مل جائے گی کہ وہ کسی بھی لڑکی کی عصمت دری کریں اور پھر سزا پانے کی بجائے وہی لڑکی انہیں انعام کے طور پر مل جائے۔

بنگلہ دیش پہلے ہی نابالغ لڑکیوں کی شادیوں کے لحاظ سے دنیا بھر میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ سماجی ماہرین و انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کمسن لڑکیوں کی عصمت دری کرنے والوں کو ان کے ساتھ شادی کی اجازت دینے سے یہ مسئلہ مزید سنگین ہوجائے گا۔

’اس خاتون نے میرے ساتھ یہ انتہائی شرمناک حرکت کی اور میری۔۔۔‘ خاتون اپنی سہیلی کے خلاف عدالت چلی گئی، الزام کیا لگایا؟ جان کر مَردوں کے بھی شرم سے گال لال ہوجائیں

انسانی حقوق کے ادارے ”گرلز ناٹ برائڈز بنگلہ دیش“ کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ”ہمیں اس بات پر سخت تشویش ہے کہ نئے قانون کے بعد کم عمر لڑکیوں کی عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہوجائے گا۔ یہ قانون عصمت دری کی اجازت دینے کے مترادف ہے، جس کے تحت کمسن لڑکیوں کو مجبور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی عصمت دری کرنے والے مجرم کے ساتھ ہی شادی کرلیں۔ اس قانون کی وجہ سے کمسن لڑکیوں کی شادیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔“

واضح رہے کہ نئے قانون میں متاثرہ لڑکیوں کی شادی ان کی عصمت دری کرنے والے مجرموں کے ساتھ کروانے کی وجہ ان لڑکیوں کی بھلائی بتائی گئی ہے، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخصوص حالات میں ہی اس قسم کی شادی کی اجازت ہوگی۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ بات باعث تشویش ہے کہ اس قسم کے قانون کو متاثرہ لڑکیوں کی بھلائی کے نام پر متعارف کروایاگیا ہے، جبکہ یہ وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ مخصوص حالات سے کیا مراد ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...