’میرے والدین نے میری شادی کروادی، اس کے بعد میرا شوہر مجھ سے کہنے لگا کہ میں تم سے جسمانی تعلق قائم کروں گا لیکن ساتھ ہی میرا یہ دوست۔۔۔‘ پاکستانی لڑکی نے ایسی شرمناک تفصیلات بیان کردیں کہ سن کر ہی ہر کسی کے شرم سے گال لال ہوجائیں

’میرے والدین نے میری شادی کروادی، اس کے بعد میرا شوہر مجھ سے کہنے لگا کہ میں ...
’میرے والدین نے میری شادی کروادی، اس کے بعد میرا شوہر مجھ سے کہنے لگا کہ میں تم سے جسمانی تعلق قائم کروں گا لیکن ساتھ ہی میرا یہ دوست۔۔۔‘ پاکستانی لڑکی نے ایسی شرمناک تفصیلات بیان کردیں کہ سن کر ہی ہر کسی کے شرم سے گال لال ہوجائیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)سماجی روایات کو دیکھیں یا اخلاقی و مذہبی احکامات کی بات کریں، ہر لحاظ سے شادی کا مقصد گناہ سے بچنا اور ایک پاکیزہ و صالح زندگی گزارنا ہے، لیکن حیرت کا مقام ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے بدبخت بھی پائے جاتے ہیں جو شادی بھی گناہ کی نیت سے کرتے ہیں اور اپنی عزت کو اپنے جیسے بدکردار دوستوں کے ساتھ بانٹنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ ویب سائٹ Parhlo پر شائع ہونے والی ایک تحریر میں ایک نوجوان لڑکی نے اپنی زندگی کی کہانی بیان کرتے ہوئے کچھ ایسے ہی رازوں سے پردہ اٹھا دیا ہے، کہ جس کا تصور کرکے ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ یہ لرزہ خیز داستان آپ بھی پڑھئے:

میں اپنی سچی کہانی آپ کو بتانا چاہتی ہوں تاکہ اپنے جیسی دیگر لڑکیوں کو آگاہ کرسکوں۔ میں ایک سادہ مزاج گھریلو لڑکی تھی۔ جب میں 23 سال کی تھی اور ابھی تعلیم حاصل کررہی تھی تو ایک دن میرے والد نے میری شادی کا تذکرہ کیا۔ میرے لئے ایک رشتہ آیا تھا اور میرے والد میری رضامندی جاننا چاہتے تھے۔ لڑکا باہر کام کرتا تھا۔ میں نے کبھی ان کی مرضی کے خلاف قدم نہیں اٹھایا تھا لہٰذ اس بار بھی فیصلے کا اختیار ان پر چھوڑ دیا۔

’’وہ انتہائی ذہین لڑکی سکول میں میرے ساتھ پڑھتی تھی، تعلیم مکمل ہوئی تو والدین نے اس کی شادی نہ چاہتے ہوئے بھی ایک انتہائی امیر گھر کے لڑکے سے کروادی اور پھر ۔۔۔۔‘پاکستانی نوجوان لڑکے نے اپنی سہیلی کی ایسی کہانی سنادی کہ جان کر آپ کا دل بھی افسردہ ہوجائے گا

لڑکے کی والدہ نے بتایا کہ وہ پہلے نکاح کرنا چاہ رہے تھے ، جبکہ رخصتی چھ ماہ بعد ہوگی۔ ان کی جانب سے چند افراد ہمارے گھر آئے اور میرا نکاح ہوگیا۔ میرے نکاح کے کچھ عرصہ بعد میرے والد دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن میں نے خود کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی، البتہ میری رخصتی سے دو ماہ پہلے پیش آنے والے ایک واقعے نے مجھے بالکل توڑ کر رکھ دیا۔

رخصتی سے قبل میرا خاوند پاکستان واپس آیا اور فون پر مجھ سے بات کی۔ اس نے مجھے باہر ملنے کو کہا، لیکن میں اس کے لئے تیار نہیں تھی۔ کچھ اصرار کے بعد وہ صاف الفاظ میں مخاطب ہوا اور کہنے لگا ’میں تمہارے ساتھ تعلق استوار کرنا چاہتا ہوں اور میں اکیلا نہیں ہوں گا۔‘ مجھے اس بات پر ایک جھٹکا لگا اور میں نے پوچھا آپ کا کیا مطلب ہے۔ وہ مزید کہنے لگا ’میری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ میں ایک گروپ کی صورت میں ازدواجی لطف اٹھاﺅں۔ اگر تم تیار ہوتو میرا ایک دوست ان دنوں پاکستان میں ہے وہ ہمارے ساتھ شامل ہوگا۔‘

میں نے اس سے کہا کہ تمہیں شرم آنی چاہیے، میں تمہاری بیوی ہوں اور تم مجھے اتنے بڑے گناہ کی دعوت دے رہے ہو۔ میں مرجاﺅں گی لیکن تمہارے ساتھ اس گناہ میں شامل نہیں ہوں گی، جس پر وہ کہنے لگا’مس، تمہیں یہ کرنا پڑے گا، اگر تم چاہتی ہو کہ ہمارے شادی قائم رہے تو اپنا ذہن بنالو۔ میں جب بھی تمہارے ساتھ تعلق استوار کروں گا میرے ساتھ ایک یا دو اور لڑکے بھی ہوا کریں گے۔ ‘

میں اپنے کانوں پر یقین نہیں کرپارہی تھی، لیکن وہ واقعی یہی کہہ رہا تھا۔ میں نے اسے ایک ماہ تک سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی بات پر اصرار کرتا رہا، جس کا نتیجہ رخصتی سے قبل ہی طلاق کی صورت میں نکلا۔ میرے دل میں کئی بار خیال آیا کہ اس کی ماں کو سب کچھ بتادوں کہ وہ کسی اور لڑکی کے ساتھ شادی کرکے اس کی زندگی برباد کرنے کی کوشش نہ کرے، لیکن ہر بار میری ماں نے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ مجھے نقصان پہنچاسکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں بس خاموش رہوں اور سب کچھ بھلادینے کی کوشش کروں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...