مظاہرین کے قتل عام کے الزام پر عمر قید، مصری عدالت نے حسنی مبارک کو بری کردیا

مظاہرین کے قتل عام کے الزام پر عمر قید، مصری عدالت نے حسنی مبارک کو بری کردیا
مظاہرین کے قتل عام کے الزام پر عمر قید، مصری عدالت نے حسنی مبارک کو بری کردیا

قاہرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) مصری عدالت نے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو2011 میں مظاہرین کو قتل کرنے کے الزام میں ہونے والی عمر قید کی سزا سے بری قرار دے دیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اپیل کورٹ نے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو 2011 میں عرب بہار کے دوران مظاہرین کو قتل کرانے کے الزام سے بری قرار دے دیا۔ جمعرات کو پورا دن ہونے والی ان کیمرا سماعت کے بعد جج احمد عبدالقوی نے قرار دیا کہ 2011 میں ہونے والے مظاہرین کے قتل میں حسنی مبارک کسی طور ملوث نہیں پائے گئے اس لیے انہیں بری کیا جاتا ہے۔

حسنی مبارک اور اُن کے وزیرداخلہ کو عمر قید ،بیٹے بری ،عدالت کے اندر اور باہر ہنگامے، جیل میں طبیعت خراب

عدالت کی جانب سے مظاہروں کے دوران مرنے والے افراد کے لواحقین کی کیس دوبارہ کھولنے کی اپیلیں بھی مسترد کردی گئیں جس کے بعد مدعیوں کے پاس اپیل کا کوئی حق باقی نہیں بچا۔ مظاہرین کے قتل کے الزام میں ملوث ہونے کے الزام سے بری قرار دیے جانے پر حسنی مبارک کی عمر قید کی سزا بھی ختم ہوگئی ہے ۔

مصرکے سابق صدر حسنی مبارک کی عمرقید کیخلاف اپیل سماعت کیلئے منظور

واضح رہے کہ 2011 میں آنے والی نام نہاد عرب بہار نے مصر کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا تھا ۔عرب بہار کے دوران 30 سال سے اقتدار پر قبضہ جمائے رکھنے والے صدر حسنی مبارک کے خلاف 18 روز تک زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے جس دوران 900 کے قریب لوگوں کو اپنی جانوں اور حسنی مبارک کو اپنے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔

کرپشن کا الزام ، مصری عدالت نے حسنی مبارک کو تین سال سزا سنا دی

2012 میں حسنی مبارک ، ان کے وزیر داخلہ سمیت 6 دیگر لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ، 2 سال بعد ایک عدالت نے اس فیصلے کو تکنیکی وجوہات پر مسترد کردیا تھا۔ 88 سالہ حسنی مبارک عمر قید کی سزا کا فیصلہ معطل ہونے کے بعد کرپشن کیس میں ہونے والی تین سال کی سزا قاہرہ کے فوجی ہسپتال میں کاٹ رہے تھے ۔

مزید : عرب دنیا /اہم خبریں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...