تین ہفتوں کی تاخیر سے ہائی کورٹ نے گلو بٹ کی رہائی کا پروانہ جاری کردیا

تین ہفتوں کی تاخیر سے ہائی کورٹ نے گلو بٹ کی رہائی کا پروانہ جاری کردیا

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے اہم کردار گلو بٹ کی رہائی کا پروانہ جاری ہو گیا، ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے تین ہفتوں کی تاخیر سے گلو بٹ کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیاہے جس کے بعد گلو بٹ کی آئندہ 24گھنٹوں میںرہائی کا امکان ہے۔

جسٹس مظہر سدھو کا استعفیٰ منظور نہ کیا جائے ،سول سوسائٹی نیٹ ورک نے صدر کو درخواست بھیج دی

جسٹس طارق عباسی اور جسٹس چودھری مشتاق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے گلو بٹ کی اپیل کا تحریری فیصلہ جاری کیا ہے، عدالتی فیصلہ پانچ صفحات پر مشتمل ہے.لاہور ہائیکورٹ کے کے دو رکنی بنچ نے 9 فروری کو گلو بٹ کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی قانون کی دفعات ختم کر دی تھیں اور تعزیرات پاکستان کے تحت عام دفعات کے جرائم میں سزائیں مکمل ہونے کے قانون کی روشنی میں گلو بٹ کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم تین ہفتوں کی تاخیر سے گلو بٹ کی بریت کی اپیلیں منظور کرنے کے فیصلے پر دستخط کر کے اسے جاری کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق زبانی فیصلہ سنانے کے بعد مسٹر جسٹس طارق عباسی کو بہاولپور بنچ بھجوا دیا گیا تھا جس کی وجہ فیصلہ تحریر کرنے اور اس پر دستخط کرنے میں تاخیر ہوئی، عدالتی فیصلے کے تحت گلو بٹ چھ سال کی مجموعی سزائیں مکمل کر چکا ہے جبکہ محکمہ پراسکیوشن دہشت گردی کی دفعات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، ہائیکورٹ کے فیصلے کی مصدقہ نقول انسداد دہشت گردی کی عدالت کو موصول ہونے کے بعد گلو بٹ کی رہائی کی روبکار جاری ہو گی، گلو بٹ کے وکیل کاشف عباس زیدی نے بتایا کہ روبکار کے اجراءکا عمل مکمل ہونے کے بعد ہفتہ کے دن گلو بٹ کی رہائی کا امکان ہے۔

مزید : لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...