پولیس آرڈر پر عمل درآمد کیوں نہیں ہورہا ،عدالتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے ،چیف جسٹس نے حکومت سے وضاحت مانگ لی

پولیس آرڈر پر عمل درآمد کیوں نہیں ہورہا ،عدالتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے ،چیف ...
 پولیس آرڈر پر عمل درآمد کیوں نہیں ہورہا ،عدالتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے ،چیف جسٹس نے حکومت سے وضاحت مانگ لی

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے پولیس آرڈر 2002 پر مکمل عملدرآمد نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 30مارچ تک جواب طلب کرلیا۔

جسٹس مظہر سدھو کا استعفیٰ منظور نہ کیا جائے ،سول سوسائٹی نیٹ ورک نے صدر کو درخواست بھیج دی

فاضل عدالت نے قرار دیا کہ پولیس آرڈر پر عملدرآمد نہ ہونے سے ماتحت عدلیہ پر مقدمات کا بوجھ 30 فیصد تک بڑھ گیا۔جبکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ تاریخ سماعت پر اس معاملے پر عدالت کو آگاہ کریں کہ پولیس آرڈر 2002ءکے مطابق آئی جی پولیس کی تقرری پبلک سیفٹی کمیشن کے ذریعے کیوں نہیں کی جا رہی۔عدالت نے عاصمہ جہانگیر کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے مزید سماعت 30مارچ تک ملتوی کر دی۔درخواست گزارسعد رسول ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ پنجاب میں پولیس آرڈر 2002 پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ پولیس آرڈر کے تحت پولیس کو غیرسیاسی کرنا لازمی ہے۔ لیکن پولیس آرڈر کے منافی پنجاب میں پولیس افسروں کی تعیناتیاں سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہیں۔پولیس آرڈر کے مطابق آج تک بہت سی کمیٹیاں ہی تشکیل نہیں دی جا سکیں۔حالانکہ پولیس آرڈر کے مطابق آئی جی پنجاب کی تعیناتی پبلک سیفٹی کمیشن کے ذریعے ہونی چاہیے لیکن ان کی تعیناتی وفاقی حکومت ہی کر رہی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پنجاب پولیس کو مکمل طور پر غیرسیاسی کرنے کا حکم دیا جائے۔ جبکہ پولیس آرڈر کے مطابق کارکردگی کی بنیاد پر افسروں اور اہلکاروں کا احتساب کیا جائے۔ پولیس آرڈر کے مطابق پنجاب میں تفتیش کا موثر طریقہ کار واضع کرنے کا حکم دیاجائے۔ . عدالت نے قرار دیا کہ پولیس آرڈر پر عمل درآمد نہ ہونے سے 22 اے اور 22 بی کی درخواستوں کی وجہ سے سیشن عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ 30 فیصد تک بڑھ گیا ہے، پولیس آرڈر پر عملدرآمد ہونے سے یہ بوجھ کم ہوسکتا، پولیس آرڈر پر عمل نہ ہونا سنگین معاملہ ہے۔فاضل عدالت نے عاصمہ جہانگیر کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر عدالت آس معاملے پر آئینی اور قانونی نکات پر معاونت فراہم کی جائے۔. 

مزید : لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...