ماتحت عدالتوں کے جج سول سرونٹ ہیں ،چیف جسٹس تنخواہیں نہیں بڑھا سکتے ،یہ وزیراعلیٰ کا اختیار ہے ،وزارت خزانہ نے لاہور ہائی کورٹ چٹھی لکھ دی

ماتحت عدالتوں کے جج سول سرونٹ ہیں ،چیف جسٹس تنخواہیں نہیں بڑھا سکتے ،یہ ...
ماتحت عدالتوں کے جج سول سرونٹ ہیں ،چیف جسٹس تنخواہیں نہیں بڑھا سکتے ،یہ وزیراعلیٰ کا اختیار ہے ،وزارت خزانہ نے لاہور ہائی کورٹ چٹھی لکھ دی

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پنجاب بھر کے جوڈیشل افسروں اور ماتحت عدلیہ کے ملازمین کو ایک اضافی انکریمنٹ دینے کے معاملہ پر محکمہ خزانہ پنجاب اور لاہور ہائیکورٹ انتظامیہ میں اختیارات کی جنگ شروع ہو گئی,محکمہ خزانہ پنجاب نے سخت اعتراضات پر مشتمل ایک مراسلہ محکمہ قانون اور ہائیکورٹ انتظامیہ کو بھجوا یاہے۔

تین ہفتوں کی تاخیر سے ہائی کورٹ نے گلو بٹ کی رہائی کا پروانہ جاری کردیا

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کی منظوری سے انتظامی طور پر محکمہ خزانہ کو 10جنوری کو حکم جاری کیا گیا تھا کہ پنجاب بھر کے جوڈیشل افسروں اور ماتحت عدلیہ کے ملازمین کو ایک اضافی انکریمنٹ ادا کیا جائے تاہم محکمہ خزانہ نے دھمکی آمیز الفاظ پر مشتمل جوابی مراسلہ محکمہ قانون اور لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دیا ہے جس میں اضافی انکریمنٹ دینے کے حکمنامے پر اعتراض عائد کیا گیا ہے، محکمہ خزانہ پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری اور چیف شماریات افسر طارق محمد مرزا کی طرف سے بھجوائے گئے مراسلے میں کہا گیاہے کہ محکمہ خزانہ کا خیال ہے کہ ماتحت عدلیہ کے ملازمین آئین کے آرٹیکل 240کی روشنی میں پنجاب سول سرونٹس ایکٹ کی تعریف میں آتے ہیں، اس لئے وزیر اعلی پنجاب کی منظوری کے بغیر لاہور ہائیکورٹ کو اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ ماتحت عدلیہ کے ملازمین کو کسی بھی قسم کا الاﺅنس یا ریلیف دینے کا حکم جاری کرے، محکمہ خزانہ کے مراسلے میں دھمکی آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر ماتحت عدلیہ کے ملازمین کے ساتھ امیتازی سلوک برتتے ہوئے انہیں کسی قسم کا ریلیف دیا گیا تو اس اقدام سے پنجاب کے دیگر سرکاری محکموں کے ملازمین کی طرف سے احتجاجی ردعمل آئے گاجو حکومت کیلئے شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے، مراسلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ ہائیکورٹ نے پہلے بھی مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر دو ایسے نوٹیفکیشنز جاری کئے ہیں جن کے تحت جوڈیشل افسروں اور ہائیکورٹ کے افسروں کی پنشن کے متعلق احکامات جاری کئے گئے تھے جس پر محکمہ قانون سے بھی رائے طلب کی گئی تھی، مراسلے میں محکمہ قانون سے کہا گیا ہے کہ ایک اضافی انکریمنٹ دینے کے معاملے پر قانونی رائے دی جائے کہ کیا وزیر اعلی پنجاب کی منظوری کی بغیر لاہور ہائیکورٹ کو انتظامی طور پر ایسے احکامات جاری کرنے کا اختیار ہے یا نہیں، محکمہ خزانہ اور ہائیکورٹ انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی جنگ چھڑنے کے بعد پنجاب بھر کے جوڈیشل افسروں اور عدالتی ملازمین کی نظریں اس معاملے پر لگی ہوئیں جس میں یہ فیصلہ ہوگا کہ مجاز اتھارٹی وزیر اعلیٰ ہیں یا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مجاز اتھارٹی ہیں۔

مزید : لاہور /اہم خبریں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...