بڑے فیصلے ، گرفتار پائلٹ بھارت کے حوالے ، او آئی سی اجلاس کا بائیکاٹ ، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی جارحیت کیخلاف مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور

بڑے فیصلے ، گرفتار پائلٹ بھارت کے حوالے ، او آئی سی اجلاس کا بائیکاٹ ، ...

لاہور،ر اولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان نے گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو سخت سکیورٹی میں واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا ،وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران اعلان کیا تھا کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور جذبہ خیرسگالی کے تحت گرفتار بھارتی پائلٹ کو رہا کردیا جائے گا۔وزیراعظم کے اعلان کے بعد جمعہ کوبھارتی پائلٹ کو سخت سیکیورٹی میں واہگہ بارڈر پہنچایا گیا جہاں پر رینجرز حکام نے اپنی کارروائی مکمل کرکے اسے بھارتی حکام کے حوالے کیا۔واہگہ بارڈر پر بھارتی پائلٹ کی حوالگی سے قبل ابھی نندن کا طبی معائنہ بھی کیا گیا،گرفتار بھارتی پائلٹ کے ہمراہ بھارتی سفارت خانے کے عملے کے اہلکار بھی موجود تھے۔ اس موقع پر انتہائی سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے پاکستان میں تعینات بھارتی ائیر اتاشی بھی اپنے پائلٹ کے ہمراہ بھارت روانہ ہوگئے۔ بھارتی حکومت نے سرحد پر اپنی جانب پریڈ اور پرچم اتارنے کی تقریب منسوخ کرتے ہوئے بھارتی شہریوں کو شرکت سے روک دیا جبکہ پاکستان میں یہ تقریب معمول کے مطابق ہوئی۔قبل ازیں بھارتی قائم مقام ہائی کمشنر اسلام آباد میں دفتر خارجہ پہنچے جہاں پاکستانی حکام نے انہیں پائلٹ حوالگی سے متعلق باضابطہ طور پر مطلع کیا۔ بھارتی ہائی کمیشن نے اپنے گرفتار پائلٹ کی حوالگی کیلیے سفری دستاویزات مکمل کیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو بھارت کے حوالے ا من کو ایک اور موقع دیا ہے ، بھارتی پائلٹ کو بین الاقوامی قوانین کے تحت عزت سے قید میں رکھا بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن دو دن پہلے مگ 21 طیارہ آزاد کشمیر میں تباہ ہونے کے بعد پاکستان کی قید میں آیا تھا۔ اب بھارتی قیدی کی رہائی پر بھارت کی جانب سے نفرت اورپاکستان کی جانب سے امن اور محبت کا پیغام دیا گیا۔

اسلام آ باد( آ ئی این پی) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی جارحیت کیخلاف مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ قردار میں کہا گیا کہ 26اور 27فروری کو بھارت کی کھلی جارحیت جواقوام متحدہ قرادادوں، عالمی قوانین اور ریاستوں کے درمیان روایات کی کلی خلاف ورزی تھی ،ایوان جسکی سختی سے مذمت کرتا ہے اور بھارت کی جانب سے مبینہ طور پر دہشت گردوں کے ٹھکانے کو تباہ کرنے اور بھاری تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے حوالے سے جھوٹے دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر کارروائی پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے، ایوان او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارتی وزیرخارجہ کو مدعو کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتا ہے، پاکستان او آئی سی کا بانی رکن ہے اور بھارتی وزیر خارجہ کو بلانے پر پاکستان احتجاجاً او آئی سی کے اجلاس میں شرکت نہیں کررہا،اقوام متحدہ خطے میں کشیدگی پیدا کرنے پر بھارت کی مذمت کرے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشیدگی کے خاتمے میں کردارادا کرے،مسئلہ کشمیرپاکستان اوربھارت کے درمیان ایک دیرینہ مسئلہ ہے،اس مسئلے کواقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق حل کیاجائے،بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی حق خود ارادئیت کی جائز جدو جہد کو دہشت گردی کے ساتھ منسوب کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتا ہے۔ جمعہ کوپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد پیش کی۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس26اور 27فروری کو بھارت کی کھلی جارحیت جواقوام متحدہ قرادادوں، عالمی قوانین اور ریاستوں کے درمیان روایات کی کلی خلاف ورزی تھی کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ یہ بھارت کی جانب سے مبینہ طور پر دہشت گردوں کے ٹھکانے کو تباہ کرنے اور بھاری تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے حوالے سے جھوٹے دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔زمینی حقائق بھارتی جھوٹے دعوں کی نفی کرتے ہیں اور آ زادانہ مبصرین نے ان حقائق کی تصدیق کرتے ہیں۔ پاکستان نے پلوامہ حملے کی تحقیقات کی پیشکش کی تھی، بھارت نے پلوامہ حملے کے بعد پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے واضح کردیا تھا کہ جارحیت کی صورت میں جواب دیا جائے گا، پاک فضائیہ نے بروقت کارروائی کرکے بھارت کی جارحیت ناکام بنائی، یہ ایوان پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر کارروائی پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے، ایوان قومی سلامتی کمیٹی کے اپنے وقت اور پسند کے مقام پر جواب سے متعلق بیان کی تائید کرتا ہے۔ ایوان پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی الزامات کو بھی مسترد کرتا ہے۔قرار داد میں یہ بھی کہا گیا کہ ایوان مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت کی نظر بندی اور کشمیری عوام پر مظالم کی مذمت کرتا ہے۔ حریت رہنماں کونظربندکیا گیا،کشمیریوں پرظلم کی انتہاکی گئی ۔بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیرمیں بربریت اورظلم کی مذمت کرتے ہیں۔مقبوضہ کشمیرپاکستان اوربھارت کے درمیان ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کواقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق حل کیاجائے۔ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی حق خود ارادئیت کی جائز جدو جہد کو دہشت گردی کے ساتھ منسوب کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتا ہے۔عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقو ق کی خلاف ورزیوں کو بند کرائے۔بھارت فوری طور پر مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، ایوان اقوام متحدہ پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کرے۔قرارداد کے متن کے مطابق پاکستان او آئی سی کا بانی رکن ہے، بھارتی وزیر خارجہ کو بلانے پر پاکستان احتجاجاً او آئی سی کے اجلاس میں شرکت نہیں کررہا، ایوان او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارتی وزیرخارجہ کو مدعو کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتا ہے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ خطے میں کشیدگی پیدا کرنے پر بھارت کی مذمت کرے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشیدگی کے خاتمے میں کردارادا کرے۔ عالمی برادری بھارت کی حکومت کے کشیدگی میں اضافے کا باعث بننے والے غیر زمہ دارانہ کاروائیوں کی دوٹوک انداز میں مذمت کریں۔مشترکہ قرار داد میں کہا گیا کہ پوراایوان اورقوم پاک فوج کیشانہ بشانہ کھڑی ہے اور بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پوری قوم پاک فوج کوجارحیت کامنہ توڑجواب دینے پرمبارکباددیتی ہے،پوری قوم کوپاکستانی ہیروحسن صدیقی پرفخرہے۔پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی قرار داد میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے ، اسی لیے وزیراعظم نے امن کے قیام کیلئے آوازاٹھائی اورکشیدگی کم کرنے کی بات کی۔قرار داد پیش کیے جانے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے قرارداد کے لیے ووٹنگ کرائی ، پورے ایوان نے متفقہ طور پر اس قرار داد کو منظور کیا ۔ پارلیمئنٹ کے مشرکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے حوالے سے بیان پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں‘ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہیں اور انہیں دورہ پاکستان کی دعوت دیتے ہیں‘ او آئی سی کی جانب سے بھارتی وزیر خارجہ کو او آئی سی کے اجلاس میں دعوت دینے پر او آئی سی کے وزراء خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت نہیں کروں گا ‘شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل قائد حزب اختلاف نے او آئی سی کے اجلاس میں وزیر خارجہ کو اعزازی مہمان کے طور پر دعوت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ آج او آئی سی کے وزراء خارجہ کی کونسل کا اجلاس ہورہا ہے بھارت او آئی سی کا ممبر اور آبزرور نہیں ہے اس کو ہماری مشاورت کے بغیر دعوت دی گئی۔ میں نے ترک وزیر خارجہ اور سیکرٹری او آئی سی سے رابطہ کیا تو وہ لاعلم تھے۔ بغیر مشاوت کے ان کو دعوت دی گئی عرب امارات نے بحیثیت میزبان ان کو دعوت دی یو اے ای شیخ محمد بن زید سے دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور درخواست کی کہ فیصلہ پر نظر ثانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے دعوت دی تو پلوامہ کا واقعہ نہیں ہوا تھا اگر واقعہ پہلے ہوتا تو دعوت نہ دیتے اب مشکل ہے دعوت نامہ منسوخ کرنا لیکن کوشش کریں گے۔ جب پلوامہ پر بھارتی جارحیت کے بعد میں نے دوبارہ رابطہ کیا اور پاکستان کے عوام کے جذبات سے آگاہ کیا اور کہا کہ نظر ثانی کریں یا اجلاس کو ملتوی کرنے کا کہا اس پر انہوں نے اپنا موقف سامنے رکھا۔ پہلا خط بیس فروری کو میں نے لکھا ابھی مشترکہ سیشن بلانے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ خطہ میں ان کو بھارتی وزیر خارجہ کو دعوت منسوخ کرنے کا کہا اور ان سے کہا کہ پاکستان اپنے اجلاس میں شرکت کے فیصلہ پر نظر ثانی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوگا مشترکہ اجلاس کے بعد کل رات ان کو ایک اور خط لکھا پارلیمنٹ کے جذبات اور مشترکہ قرارداد میں او آئی سی کے اجلاس میں نے شرکت نہ کرنے کی تجویز کے بارے میں آگاہ کیا ان کو آگاہ کیا کہ اگر بھارتی وزیر خارجہ نے شرکت کی تو میں شرکت نہیں کروں گا ایوان کی رائے کو مقدم سمجھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کونسل آف فارن منسٹر کے اجلاس میں نہیں جاؤں گا۔ اجلاس میں ہماری 19قراردادیں تھیں جن کی اکثریت کشمیر کے حوالے سے ہیں جہاں ہمارے کم سطح کے افسران موجود ہوں گے اگر بھارت کو آبزرور رائٹس کی کوئی بات ہو تو پاکستان کے افسران مخالفت کریں گے ۔ ترکی کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی ان کا موقف تھا یہ غیر مناسب اقدام ہے امریکی وزیر خارجہ پومپیو کو پاکستان کا موقف اور خطہ کا منظر نامہ پیش کیا۔ کل امریکی صدرٹرمپ نے بیان دیا ہے جو اہم ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں وہ خطہ میں عدم استحکام نہیں چاہتا۔ انہوں نے کشیدگی کم کرنے کے لئے سفارت کاروں کو کہا ہے میں امریکی صدر ٹرمپ کے جذبے کی قدر کرتا ہوں اور ان کو شکریہ ادا کرتا ہوں خطہ میں امن کے لئے جو بھی کردار ادا کرے گا اس کو خراج تحسین پیش کریں گے۔ خدشہ تھا کہ بھارت انتخابات سے قبل مس ایڈونچر کرے گا اس حوالے سے روس کے وزیر خارجہ کو پہلے آگاہ کیا تھا بھارت میں اپوزیشن کی اکیس جماعتوں نے مودی کے خلاف مشترکہ بیان دیا کہ مودی بھارتی فوج کی ہلاکتوں کو انتخابات میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا خدشہ اس بیان کے ساتھ ملتا ہے بھارتی سفارت کار ششی تھرور نے کہا بی جے پی کا ویژن بھارت کے باقی قائدین سے مختلف ہے ہندوستان سے مودی کے خلاف تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور آوازیں ابھر رہی ہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دونوں ممالک تیار ہیں تو ثالثی کے لئے تیار ہیں ان کی پیشکش کو خوش آمدید کہتا ہوں اور پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں کہ آکر حالات دیکھیں روس کو بھی کہتا ہوں کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے کے لئے تیار ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ وزیر خارجہ کے شکر گزار ہیں انہوں نے ایوان کی رائے کو مقدم جانا اور او آئی سی کے کونسل آف وزراء خارجہ میں شرکت نہیں کی۔ دبئی کے شیخ محمد بن زید کے والد پاکستان کے مداح تھے آج جو صورتحال ہے کہ ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی ہے تھوڑی اور کوشش کی جائے کہ دبئی پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور آگاہ کیا جائے کہ بھارت جارحیت اور کشمیر میں ظلم کررہا ہے ان حالات میں بھارت کے وزیرخارجہ کا دعوت نامہ منسوخ کیا جائے۔ اچھا ہو کہ پاکستان کے دوست ملک کھل کر پاکستان کے حق میں بیان دیں۔ اس کے لئے تجویز ہے کہ ایوان کے دونوں ہاؤس سے قائدین دوست ممالک بھیجے جائیں اور صورتحال سے آگاہ کیا جائے میں وطن کے انجینئرز اور سائنس دانوں اور دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پاکستان کی بنیاد رکھی جب وقت آیا تو ہندوستان نے پانچ ایٹمی دھماکے کئے تو میاں نواز شریف نے چھ ایٹمی دھماکے کرکے ہندوستان کے دانت کھٹے کئے ان شخصیات کو نہیں بھولنا چاہئے۔ نواز شریف نے پانچ ارب ڈالر کے پیکج کو مسترد کرکے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے وزیر خارجہ کی او آئی سی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجلاس میں نہ جانا مسئلے کا حل نہیں، ہمیں دوستوں کو نہیں بھلانا چاہیے، وہاں جاکر بات کریں دنیا بدل گئی ہے،پاکستان کی حکومت کو دوست ممالک کو انگیج کرنا چاہیے، مودی کا ایڈونچر بھارتی الیکشن کے لیے تھا، وہ بیک فائر کرگیا، اللہ نے ہمیں سرخروکیا،پاکستانی قوم جنگ کیلئے تیار ہے، ہمارے فیصلوں سے پاکستان پر امن پسند ملک کے طورپرسامنے آ رہاہے،جنگ صرف افواج نہیں بلکہ قومیں لڑتی ہیں، بھارت ہمیشہ دھمکیاں دیتا رہتا ہے، ہمیں اپنی معیشت اور طاقت کو مزید مضبوط کرنا ہے۔جمعہ کو سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستانی پائلٹ حسن صدیقی کو بھارتی طیارہ گرانے پر خراج تحسین پیش کیا۔آصف زرداری نے کہا کہ مودی کا ایڈونچر بھارتی الیکشن کے لیے تھا، وہ بیک فائر کرگیا، اللہ نے ہمیں سرخروکیا۔جنگ صرف افواج نہیں بلکہ قومیں لڑتی ہیں، بھارت ہمیشہ دھمکیاں دیتا رہتا ہے، ہمیں اپنی معیشت اور طاقت کو مزید مضبوط کرنا ہے،انہوں نے کہا وزیر خارجہ او آئی سی اجلاس میں جاتے اور وہاں پاکستان کے دوستوں سے ملاقاتیں کرتے، یہ ممالک ہمارے دوست ہیں، وہ لوگ شکار کرنے بھی پاکستان آتے ہیں اور کسی ملک نہیں جاتے، ہمارے ان ممالک سے مذہبی اور تاریخی تعلقات ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں او آئی سی اجلاس میں جا کر اپنا موقف بتانا چاہیے،اگر ایوان کی منشا ہے کہ حکومت نہ جائے تو میں کچھ زیادہ نہیں کہوں گا، پلواماحملے میں کشمیری شہری نے ظلم سے تنگ آکرانتہائی قدم اٹھایا اور بھارت کی ہٹ دھرمی اورمودی کے جنگی جنون کی وجہ سے حالات بگڑے۔ اس وقت کے واقعات پاکستان کیلئے نئی بات نہیں بھارت ہمیشہ دھمکیاں دیتارہتاہے،دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتا رہتا ہے، پاکستان کو موجودہ صورتحال اور بھارتی جارحیت کو اقوام متحدہ میں اٹھاناچاہیے۔سابق صدر نے پاکستانی پائلٹ حسن کو بھارتی طیارے مار گرانے پر خراج تحسین پیش کیا اور بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دنیا میں پاکستان کا مثبت تاثر جائے گا۔آصف زرداری نے مزید کہا کہ بھارت ہمیں دہشت گردریاست کے طورپرپیش کرنیکی کوشش کررہاہے، دوسری جانب ہمارے فیصلوں سے پاکستان امن پسند ملک کے طورپرسامنے آ رہاہے وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ حسن صدیقی صرف پاک فوج کانہیں پاکستان کابیٹاہے ، پاک فوج اوربہادرقوم کی وجہ سے ہمیں کسی قسم کا خوف نہیں ہے، بھارت میں سیاسی قوتیں تقسیم اور پاکستان میں متحد ہیں، مودی سرکار کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں قوم کے بہادر بیٹوں اور بیٹیوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا بھارت پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے اور ہم سکون کی نیند سوتے ہیں، پاک فوج اور بہادر قوم کی وجہ سے ہمیں کسی قسم کا خوف نہیں ہے۔

ااسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی ممالک کی تنظیم(او آئی سی)کو بذریعہ خط مطلع کیا ہے بھارت کو مدعو کرنے کے سبب پاکستان او آئی سی کے 46ویں اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا، جمعہ کو وزیر خا رجہ کی جا نب سے متحدہ عرب امارات کو بھجوائے گئے خط میں پاکستان نے اجلاس کے بائیکاٹ کے فیصلہ سے آگاہ کیا ہے۔وزیرخارجہ نے لکھا ہے کہ او آئی سی کے اجلاس میں بھارت کو دعوت دی گئی جو تنظیم کا رکن نہیں، بھارت تنظیم کا ممبر نہ ہونے کیساتھ ساتھ پاکستان کیساتھ تنازعات کا حل نہیں چا ہتا اور پاکستان کیخلاف حالیہ دنوں میں جارحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کیساتھ بھی نامناسب سلوک کیا جاتا ہے، بھارت کشمیر میں معصوم کشمیریوں پر ظلم کا کرتا آرہا ہے۔شاہ محمود قریشی نے یو اے ای حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ بھارتی وزیر خا ر جہ کو مدعو کرنے کا فیصلہ تنظیم کے رکن ممالک سے مشاورت کے بغیر کیا گیا، بھارتی وزیر خارجہ کو اجلاس میں بطور اعزازیہ مہمان بلانا قابل قبول ہے،پاکستانی وزیرخارجہ نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان او آئی سی کا بانی رکن ہے اور چاہتا ہے بھارتی وزیر خارجہ کو مدعوکرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔او آئی سی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے لیا ہے اور ہم احتجاج کے طور پر اجلاس کا بائیکا ٹ کرتے ہیں۔دریں اثناء امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا پاک سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے ، پاک بھارت جنگ باہمی خودکشی ہوگی، بھارت نے فضائی حدود کے خلاف ورزی کرکے پاکستان میں بم گرائے، بھارت نے دراندازی سے یواین چارٹراورعالمی قوانین کیخلاف ورزی کی،بھارت نے پاکستان پرحملہ کیا توصورتحال کافی سنجیدہ تھی، بھارتی پائلٹ کورہا کرنے سے پاک بھارت کشیدگی میں کمی آئے گی،پاکستان صورتحال بگاڑنا چاہتا ہے نہ جنگی کیفیت پیدا کرنا، پاکستان نے بھارت کوامن کیلئے متوازن پیشکش کی ہے، بھارت شواہد دے مل کر مسئلے کا حل نکالیں گے، نریندرمودی بھارت میں پوزیشن کمزورہونے کے ڈرسے کترارہے ہیں، پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت ایک پیج پرہے، پومپیواورزلمے خلیل زاد نے کہا پاکستان افغان امن عمل میں مثبت کرداراداکررہا ہے جو خوش آئند ہے، بھارت کواوآئی سی پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، بھارت جب اورجہاں کہے پاکستان مذاکرات کیلئے تیارہے جبکہ روس نے پاک بھارت مذاکرات کیلئے ثالثی اورمیزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔

مزید : صفحہ اول