چالاک دکاندار اور بے وقوف بادشاہ

چالاک دکاندار اور بے وقوف بادشاہ

بہزاد پورے شہر میں مشہور ہو گیا۔ جب کسی کو کوئی پرندہ پالنا ہوتا، وہ بہزاد کے پاس آتا اور اس سے پرندہ خرید کر لے جاتا۔ چالاک دکان دار نے یہ دیکھا تو بہزاد سے کہا: "یہ پرندے تم مجھے بیچا کرو۔" بہزاد سمجھ گیا کہ وہ اس سے پرندے سستے خرید کر لوگوں کو مہنگا بیچے گا، اس لیے اس نے انکار کر دیا۔

چالاک دکان دار کو بہت غصہ آیا۔ وہ بادشاہ کے پاس گیا اور اس سے کہا: "بادشاہ سلامت! آپ نے جو پرندہ بہزاد سے لیا تھا، وہ اکیلا ہونے کی وجہ سے اداس رہتا ہے۔ آپ بہزاد سے کہیے کہ ایسا ہی ایک اور پرندہ پکڑ لائے، تاکہ آپ کا پرندہ اپنے ساتھی کے ساتھ خوش رہے۔"

بادشاہ کی کھوپڑی میں بھوسا بھراہوا تھا۔ اس نے سوچا کہ دکان دار ٹھیک کہتا ہے۔ اس نے بہزاد کو بلوایا اور اسے حکم دیا کہ میرے پرندے کا ساتھی، ایسا ہی ایک اور پرندہ پکڑ لاؤ، ورنہ تمھاری خیر نہیں۔ بہزاد نے کچھ کہنے کی کوشش کی، لیکن بادشاہ نے کہا: "میں ایک لفظ بھی سننا نہیں چاہتا۔ میں تمھیں چالیس دن کی مہلت دیتا ہوں۔ اگر چالیس دن کے اندر اندر تم ایسا ہی ایک اور پرندہ نہ لائے تو تم کو جان سے مار دیا جائے گا۔"

بہزاد پریشان تو ہوا، لیکن اس نے حوصلہ رکھا اور بانسری اور جال لے کر جنگل پہنچ گیا۔ اس نے دن رات ایک کر دیا۔ ایسا عجیب و غریب پرندہ کہاں سے ملتا، لیکن اس کی محنت رنگ لائی اور آخر اس کے جال میں ویسا ہی ایک اور پھنس گیا۔ بہزاد نے پرندہ پکڑا اور اسے لے جا کر بادشاہ کو دے دیا۔ بادشاہ نے پرندہ تو لے لیا، لیکن اسے ایک پیسہ بھی نہ دیا۔ بہزاد سمجھ گیا کہ بادشاہ بھی دکان دار کی طرح ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہ چالاک ہے اور یہ بیوقوف۔

بادشاہ تو پرندہ لے کر خوش ہو گیا، لیکن چالاک دکان دار کو بڑا غصہ آیا۔ وہ جانتا تھا کہ بہزاد بہت بہادر، محنتی اور ذہین لڑکا ہے۔ وہ ضرور ایک نہ ایک دن اس سے بدلہ لے گا۔ اس کا خیال تھا کہ بہزاد دوسرا پرندہ نہیں لا سکے گا اور بادشاہ اسے مروا دے گا، لیکن اسے اب بہزاد سے ڈر لگنے لگا کہ کہیں وہ اس کو کسی مصیبت میں نہ ڈال دے، اس لیے اس نے بہزاد کو پھنسانے کی ایک اور ترکیب سوچی۔ وہ بادشاہ کے پاس پہنچا اور کہنے لگا: "بادشاہ سلامت! آپ کو شاید معلوم نہیں کہ جو پرندے آپ کو بہزاد لا کر دیتا ہے، ان کی جان ایک پھول میں ہے۔"

بادشاہ نے پوچھا: "وہ کیسے؟"

دکان دار نے کہا: میں نے بڑے بوڑھوں اور عقل مندوں سے سنا ہے کہ یہ پرندے سال میں ایک بار سمن کا پھول ضرور سونگھتے ہیں۔ اگر یہ پھول ان کو سونگھنے کو نہ ملے تو یہ مر جاتے ہیں اور یہ پھول کالے دیو کے باغ میں اگتے ہیں۔"

بادشاہ نے کہا: "لیکن ہمارے پاس یہ پھول کہاں سے آئیں گے؟ کیوں کہ کالا دیو تو اپنے باغ میں کسی کو نہیں آنے دیتا اور کوئی وہاں پہنچ بھی جائے تو وہ اسے مار ڈالتا ہے۔"

دکان دار نے کہا: "حضور! یہ کام تو پورے ملک میں ایک ہی لڑکا کر سکتا ہے۔ اس کا نام بہزاد ہے۔ اسے بلا کر کہیے کہ فوراً سمن کا پھول لے کر آئے۔"

بادشاہ نے پھر وہی کیا، جو دکان دار نے کہا تھا یعنی بہزاد کو بلوا کر کہا: "کالے دیو کے باغ سے سمن نام کا پھول لے کر آؤ، ورنہ میرے پرندے مر جائیں گے۔"

بہزاد نے کہا: "بادشاہ سلامت! میں نے اپنا پرندہ آپ کو دے دیا۔ آپ نے کہا اس کا ساتھی لاؤ، میں نے وہ بھی پکڑ کر لا دیا، لیکن آپ کا یہ حکم عجیب ہے۔ مجھے تو یہ معلوم نہیں کہ کالے دیو کا باغ کہاں ہے؟"

"یہ تم اس دکان دار سے پوچھو۔ اسے سب معلوم ہے۔" بادشاہ نے جواب دیا۔

بہزاد نے کہا: "حضور ! اگر دکان دار اتنا ہی عقل مند ہے اور اسے سب معلوم ہے تو اسی سے کہیے کہ خود سمن کا پھول لے کر آئے۔"

بادشاہ نے کہا: "نہیں، دکان دار کہتا ہے کہ صرف تم ہی یہ کام کر سکتے ہو اور اگر میرے پرندے مر گئے تو میں تمھیں اور تمھاری ماں کر مروا دوں گا۔"

بہزاد سمجھ گیا کہ اس بیوقوف بادشاہ کو کچھ کہنا، دیوار سے سر پھوڑنا ہے اور یہ ساری شرارت دکان دار ہی کی ہے، اس لیے وہ چپ چاپ گھر واپس آ گیا۔ اس نے دماغ لڑانا شروع کیا کہ کیا کیا جائے۔ اس شہر میں ایک بوڑھا آدمی رہتا تھا۔ وہ بہت عقل مند تھا۔ بہزاد اس کے پاس گیا اور اسے سب کہہ سنایا اور پوچھا کہ کیا یہ سچ ہے کہ سمن نامی کوئی ایسا پھول ہے جو کالے دیو کے باغ میں اگتا ہے اور اسے سونگھے بغیر وہ پرندے زندہ نہیں رہ سکتے؟ بوڑھے نے کہا: "ہاں یہ سچ ہے۔ یہ پرندے سال میں ایک دن ضرور یہ پھول سونگھتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کہیں دور دراز علاقے میں چلے جائیں تو بھی بہار کے موسم میں اس پھول کے پاس ضرور جاتے ہیں، اس لیے کالا دیو اپنے باغ میں یہ پھول ضرور اگاتا ہے۔ اس طرح یہ عجیب پرندے ہر وقت اس کے باغ میں رہتے ہیں۔"

بہزاد نے پوچھا: "اگر میں اس کے باغ سے وہ پھول توڑ لاؤں تو کیا پرندے بھی اس پھول کے پیچھے پیچھے آئیں گے؟"

بوڑھے نے کہا: "ہاں بالکل، لیکن اس پھول تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔ اس باغ کا ایک ہی دروازہ ہے اور اسے کالے دیو کے سوا اور کوئی نہیں کھول سکتا۔"

نہزاد نے کہا: "میں اسے کھول لوں گا۔ بس مجھے آپ اس کا پتا بتا دیجئے۔"

بوڑھے نے اسے کالے دیو کے باغ کا پتا بتا دیا اور یہ بھی کہا کہ بڑے بڑے پہلوان اور بہادر لوگ وہاں گئے تھے، لیکن کوئی بھی زندہ واپس نہیں آیا۔ دیو بہت طاقت ور ہے۔ تم کوشش کرنا کہ کسی طرح چھپ کر رہو۔ اگر وہ تمھیں دیکھ نہ سکا تو تمھاری جیت ہو گی، ورنہ وہ تمھیں مار ڈالے گا۔ بہزاد نے ہر بات اچھی طرح سمجھ لی اور اگلے دن صبح ہی صبح چل پڑا۔

وہ چلتا گیا، چلتا گیا۔ آخر وہ کالے دیو کے باغ تک پہنچ گیا۔ باغ کا ایک ہی دروازہ تھا، جو بہت بڑا تھا اور بڑی بڑی چٹانوں کا ملا کر بنایا گیا تھا۔ کئی پہلوان مل کر بھی اس کوہلا نہیں سکتے تھے۔ وہ دروازے کے قریب بیٹھ گیا، لیکن وہ اتنا تھکا ہوا تھا کہ اسے فوراً نیند آ گئی۔

اس کی آنکھ شور سے کھلی۔ شور ایسا تھا کہ لگتا تھا کہ جیسے آندھی آ رہی ہے۔ شور قریب آتا جا رہا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ کالا دیو باغ کے اندر جا رہا ہے۔۔ وہ فوراً چھپ گیا۔ دیو اسے نہ دیکھ سکا اور اس کے قریب سے گزر گیا۔ بہزاد کو ایسا لگا کہ جیسے کوئی پہاڑ اس کے برابر سے گزر کر جا رہا ہے۔ دیو نے باغ کا دروازہ کھولا۔ بہزاد سانس روکے دبے پاؤں اس کے پیچھے پیچھے چلا اور جیسے ہی وہ باغ کے اندر گیا، بہزاد بھی اندر چلا گیا اور فوراً ایک جھاڑی کے پیچھے چھپ گیا۔ جنگل میں پرندے پکڑنے کے کام میں اسے بہت دیر تک ہلے جلے بغیر چھپ کر رہنا پڑتا تھا، یہ عادت اسے یہاں بہت کام آئی۔ دیو کو پتا بھی نہیں چلا کہ کوئی اس کے پیچھے پیچھے باغ کے اندر آ گیا ہے۔

وہ باغ بہت خوبصورت تھا۔ اس میں عجیب عجیب رنگ کے ایسے پھول تھے کہ بہزاد دنگ رہ گیا۔ اس میں ایسے پرندے تھے جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ بہزاد رات کو وہیں چھپا رہا۔ صبح کالا دیو پھر باہر آیا۔ شاید وہ شکار کی تلاش میں جا رہا تھا۔ جب دیو چلا گیا تو بہزاد جھاڑی کے پیچھے سے نکلا اور باغ میں سمن نام کا پھول تلاش کرنے لگا۔ اسے وہاں ویسے ہی پرندے بھی نظر آئے جیسے اس نے بادشاہ کو دیے تھے، لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ سمن کون سا پھول ہے۔ وہاں تو ہر طرح کے پھول تھے۔

باغ میں گھومتے گھومتے اسے ایک بہت بڑا مکان نظر آیا۔ دیو اس میں رہتا تھا۔ بہزاد اس کے اندر چلا گیا۔ اس مکان میں چالیس کمرے تھے۔ ہر کمرہ دوسرے سے بڑھ کر خوب صورت تھا، لیکن پورے مکان میں کوئی نہیں تھا۔ آخر جب وہ چالیسویں کمرے میں پہنچا تو اسے کسی کے رونے کی آواز سنائی دی، لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ اسے لگا کہ آواز قالین کے نیچے سے آ رہی ہے۔ اس نے قالین اٹھایا تو فرش میں ایک دروازہ بنا ہوا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا تو سیڑھیاں زمین کے اندر جا رہی تھیں۔ وہ سیڑھیاں اتر کر اندر چلا گیا۔ نیچے ایک تنگ اور اندھیرا کمرہ تھا۔ رونے کی آواز تیز ہو گئی تھی۔ بہزاد نے غور سے دیکھا تو اندھیرے میں ایک لڑکی نظر آئی، جو ہوا میں لٹکی ہوئی تھی۔ اس کے لمبے لمبے بال چھت میں ایک کنڈے سے بندھے ہوئے تھے اور وہ رو رہی تھی۔ بہزاد کو دیکھ کر بولی: "ارے لڑکے! تم یہاں کیسے آ گئے؟ تم ہو کون؟ فوراً یہاں سے چلے جاؤ۔ اگر کالا دیو آ گیا تو تمھارے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔"

بہزاد نے کہا:"تم فکر نہ کرو۔ وہ باہر گیا ہوا ہے۔ یہ بتاؤ تم کون ہو؟"(باقی آئندہ)

"میرا نام چندا ہے۔ وہ منحوس دیو مجھے کئی سال پہلے اٹھا لایا تھا۔ تب سے میں یہاں قید ہوں۔"

مزید : ایڈیشن 1