مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا مذمتی جماعتوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا مذمتی جماعتوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع

سرینگر(آن لائن)پاکستان کی طرف سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے بعد کشمیر کے سرحدی علاقوں میں حالات قدرے پرسکون ہیں، تاہم مذہبی جماعتوں کے خلاف جاری کریک ڈاون سے وادی کے اندرونی حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔حکومت ہند کی وزارت داخلہ نے گذشتہ رات سب سے بڑی مذہبی و سیاسی جماعت جماعت اسلامی پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کر دی، جس کے ردعمل میں سرینگر اور بیشتر علاقوں میں مظاہرے ہوئے۔بھارتی وزارت داخلہ کے حکم نامے میں لکھا ہے کہ جماعت اسلامی زیرزمین مسلح گروپوں کے رابطے میں ہے اور لوگوں کو پرتشدد کارروائیوں کے لیے یہ جماعت پاکساتی ہے۔جماعت اسلامی کے امیر حمید فیاض اور سینکڑوں کارکنوں کو گزشتہ ہفتے کے دوران پولیس نے وادی کے مختلف علاقوں سے گرفتار کرلیا۔ جمعہ کے روز بھی جنوبی قصبہ ترال سے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ جماعت پر پابندی اور اس کے کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق اور یاسین ملک مشتمل مشترکہ مزاحمتی فورم کی کال جمعہ کی نماز کے بعد جگہ جگہ مظاہرے کئے گئے۔قابل ذکر ہے کہ پلوامہ حملے سے بھارت کے ونگ کمانڈر ابھینندن کی واپسی تک کشمیر پر جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔ ابھینندن کی واپسی اور ایل او سی پر خاموشی سے امن کی توقعات میں اضافہ تو ہوا ہے تاہم حکومت کی تازہ کارروائیوں سے وادی پراب بھی غیریقینی کی فضا طاری ہے۔واضح رہے چودہ فروری کو پلوامہ میں ہوئے خود کش حملے میں چالیس سے زیادہ فورسز اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد حکومت ہند نیجماعت اسلامی کے امیر حمید فیاض اور سینکڑوں دیگر جماعت کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔گزشتہ کئی روز سے جماعت کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاون جاری ہے اور عوامی حلقوں میں یہ افواہیں بھی پھیل گئی ہیں کہ حریت کانفرنس اور دیگر جماعتوں کو بھی کالعدم قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم حکومت نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے۔جمعہ کے روز جماعت پر پابندی کے خلاف مظاہرے بھی کئے گئے اور مظآہروں کا دائرہ محدود رکھنے کے لیے سرینگر اور دوسرے اضلاع میں حساس علاقوں کی ناکہ بندی کی گئی اور انٹرنیٹ کو معطل کیا گیا۔ بھارتی نواز رہنماؤں عمرعبداللہ، محبوبہ مفتی، سجاد لون اور انجنئیر رشید نے اس پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے تیس سال قبل بھی جب سیاسی آزادی کو سلب کرلیا تو کشمیر ایک خونریز دور میں داخل ہوگیا تھا۔

مزید : صفحہ آخر