پٹرولیم اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ!

پٹرولیم اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ!

پاکستانیوں کی وطن سے محبت کوئی ڈھکی چھپی نہیں، جب بھی ملک پر کوئی وقت آیا قوم نے پورا ساتھ دیا اور مکمل یکجہتی کا بھی اظہار کیا۔ ہمارے شہری ابھی بھارتی وزیراعظم مودی کی شر انگیزی کے خلاف جذبات سے معمور تھے کہ ہماری وزارت خزانہ نے ان پر مہنگائی کا مزید بوجھ لاد کر ان کو پریشان کر دیا ہے۔ و زارت خزانہ نے عالمی مارکیٹ کا لحاظ کئے بغیر پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھا دیئے، پٹرول دو روپے پچاس پیسے، ڈیزل چار روپے پچھتر پیسے، مٹی کا تیل چار روپے اور لائٹ ڈیزل دو روپے پچاس پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا،پھر اسی پر اکتفا نہ کیا گیا، بجلی کے نرخوں میں ماہ جنوری کے فیول ایڈجسٹمنٹ کا نام لے کر ایک روپیہ اسی پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا اور یہ اضافہ فروری اور پھر مارچ کے مہینوں میں استعمال ہونے والی بجلی پر بھی پٹرولیم کی شرح کے تناسب سے ہو گا اور یہ سب ان صارفین کی جیبوں سے جائے گا جو پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔وزیرخزانہ اسد عمر وہ شخصیت ہیں جو ٹیلی ویژن پر نوید سناتے اور سابقہ دور حکومت پر شدید تنقید کرتے تھے۔ اب نہ صرف چپ سادھ چکے بلکہ اضافے کی اجازت بھی وہی دیتے ہیں، شہری اور صارفین ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو مطعون کرکے پٹرول 54-55روپے فی لیٹر بیچنے کا اعلان کرتے تھے تو اب کیا ہوا کہ خود انہی کی راہ پر چل پڑے ہیں اور عوام کو مہنگائی تلے دباتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ حالانکہ عالمی منڈی کی قیمتیں تو اسحاق ڈار کے دور سے کم ہیں۔ یہ بالکل درست اور خوداسد عمر حساب لگالگا کر عوام کو بتا چکے ہوئے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات سرکاری ٹیکسوں کی وجہ سے مہنگی ہیں اور ماضی میں عالمی مارکیٹ میں قیمتیں گرنے کا فائدہ حکومت اٹھاتی تھی عوام کو منتقل نہیں کیا جاتا تھا، اب وہ خود یہی سب کچھ کر رہے ہیں، ہمارے ملک میں کاروباری طبقے کا بھی ایسا ہی دستور ہے۔ ٹیکس یا پٹرولیم کے نرخ بڑھیں تو ہر شے مہنگی کر دی جاتی ہے، حتیٰ کہ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں جو حکومت کی اجازت کے بغیر نہیں بڑھنا چاہئیں، لیکن یہاں ایسا نہیں ہوتا، نرخوں میں کمی سے مہنگائی میں کمی نہیں ہوتی اور پٹرولیم کے نرخ بڑھنے سے سب دام بڑھ جاتے ہیں۔جہاں تک بجلی کی قیمت میں ایک روپے اسی پیسے یونٹ کے اضافے کا تعلق ہے تو اس سے عوام پر 13ارب 50کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا اور اسے بھی فیول ایڈجسٹمنٹ کا نام دیا گیا ہے۔ حالانکہ بجلی کا اپنا ٹیرف ہی بہت زیادہ ہے اور پہلے ہی عوام پر بوجھ ہے۔ یہ سب اس حکومت کے دور میں ہو رہا ہے جو سابقہ حکومت کی شدید ترین ناقد ہے اور ہر برائی کا ذمہ دار ٹھہراتی لیکن ہر وہ کام کرتی چلی جا رہی ہے جس کے حوالے سے تنقید کی جاتی تھی۔

مزید : رائے /اداریہ