’’چڑیوں نے گیت گانے چھوڑ دیئے ہیں‘‘

’’چڑیوں نے گیت گانے چھوڑ دیئے ہیں‘‘
’’چڑیوں نے گیت گانے چھوڑ دیئے ہیں‘‘

  


جنگ کا ماحول بن چکا یا بنایا جا چکا ہے۔ دونوں طرف جنگی ترانے گونج رہے ہیں۔ سرحدوں پر اِدھر سے اُدھر اُڑنے والی چڑیوں نے گیت گانے چھوڑ دیئے ہیں،سرحدوں پر فوجی جوان ہتھیار سنبھالے تیار کھڑے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم نے ایک بار پھر امن کی بات کی ہے اور تمام مسائل کے حل کے لئے گفتگو پر آمادگی ظاہر کی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان حالیہ گرمی پیدا کرنے میں ہندوستان نے پہل کی۔ اس نے اپنے ایک مقامی وقوعے کو بنیاد بنا کر ہمارے خلاف زور زبردستی کرنے کی کوشش کی۔ جواباً ہم نے بہت زیادہ صبر سے کام لیتے ہوئے ان کی زبردستی کو ’’انا‘‘ کا مسئلہ نہیں بنایا، مگر جب ہندوستان نے دوبارہ زبردستی کرنے کی کوشش کی تو پھر ہم نے اسے اپنی ’’بقا‘‘ کا مسئلہ سمجھتے ہوئے ان کے دو طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو بھی گرفتار کر لیا۔۔۔

ہمارے لوگ اگر چاہتے تو اس پائلٹ کو جان سے مار دیتے، مگر فوجیوں نے انہیں بچایا اور حالتِ جنگ میں بھی انسانی حقوق و جنگی قوانین کا خیال رکھا اور نہ صرف پائلٹ کو زندہ گرفتار کیا،بلکہ اسے فوری طبی امداد کے ذریعے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقع بھی دیا۔یہ پائلٹ چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے اپنا تعارف کراتا نظر آیا ۔اس پائلٹ کے چہرے پر ایک اعتماد تھا اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ’’دشمن‘‘ کی قید میں نہیں، ’’اپنوں‘‘ کے درمیان موجود ہے اور اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہے۔ ہندوستان چاہتا تھا کہ اس گرفتار پائلٹ کو بار بار نیوز چینلوں پر نہ دکھایا جائے اور اسے واپس کیا جائے، تو پاکستان نے اس پائلٹ کو واپس بھیج دیا ہے۔ میرے خیال میں ہماری فوجی قیادت نے اس پائلٹ کو زندہ گرفتار کر کے نیوز چینل پر دکھانے کا جو اہتمام کیا تھا، وہ بہت ضروری تھا،کیونکہ اس پائلٹ کے ذریعے دُنیا بھر اور خاص طور پر ہندوستان کے عوام کو یہ دکھایا گیا کہ پاکستان کی فوج ایک پروفیشنل فوج ہے جو ملکی اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتی ہے اور حالت جنگ میں بھی جوش سے زیادہ ہوش سے کام لیتی ہے۔ پاکستانی فوج ایسی نہیں، جیسی ہندوستان کی فوج ہے، جو نہتے کشمیریوں پر گولیاں چلاتے ہوئے عورتوں، مردوں، بزرگوں ، حتیٰ کہ بچوں تک کا خیال نہیں کرتی اور اب تک تقریباً ستر ہزار کے قریب کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے۔ کشمیر کے حوالے سے پاکستان ہی نہیں، خود ہندوستان کے اندر بھی آوازیں اُٹھائی جاتی ہیں اور وہاں کے لوگ بھی کشمیریوں کے ساتھ کی جانے والی فوجی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہیں۔

اب اگر دیکھا جائے تو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اصل جھگڑا کشمیر کا ہے اور یہ جھگڑا تاریخی اور سیاسی طور پر بھی اپنا حل چاہتا ہے۔ کشمیر کے لوگ آزادی چاہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ ان کا حق ہے اور ان کے اس حق کے لئے اقوام متحدہ تک ان کے مطالبے کو جائز سمجھتا ہے۔ ہندوستان کا خیال ہے کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے اور وہاں ’’آزادی پسند‘‘ پاکستان کے ایجنٹ ہیں۔ ہندوستان کے اس الزام میں اتنی صداقت تو موجود ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی حمایت کرتا ہے، مگر یہ حمایت اخلاقی ہے نا کہ ’’جنگی‘‘؟۔۔۔کشمیری ڈنڈوں، ہاکیوں اور پتھروں سے لڑتے ہیں، اگر ان کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہوتا تو پھر یقیناًیہ لوگ’’اسلحے‘‘ کے زور پر لڑتے اور اب تک کوئی فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ ہندوستان کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ کشمیر کی آزادی کے پیچھے خود کشمیری ہیں،

جو اپنے وسائل اور طریقے سے اپنے حق کے لئے لڑ ر ہے ہیں اور پاکستان ان کے حقوق کے لئے ان کے ساتھ ہے،سوکشمیر کے اندر گڑ بڑ میں خود ہندوستان ’’ملوث‘‘ ہے۔ سو ہندوستان کو سوچنا چاہئے کہ وہ خطے میں امن رکھنا چاہتا ہے یا جنگ۔۔۔! مگر، دونوں طرف کے سنجیدہ اور انسان دوست لوگ خطے میں کسی بھی طرح کے تصادم کے خلاف ہیں، نہ تو پاکستان کے لوگ جنگ چاہتے ہیں اور نہ ہندوستان کے لوگ کسی قسم کے تصادم کو پسند کرتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے مسائل ایک جیسے ہیں، دونوں ممالک کے عوام زندگی کی بنیادی ضروریات کے لئے ترس رہے ہیں۔ ہندوستان جو مختلف اقوام اور مذاہب کا ملک ہے۔ وہاں داخلی سطح پر بہت سے تضادات ہیں۔ مذہبی معاملے پر ایک تنگ نظری ہے، خود مودی ایک متعصب ذہن کا شخص ہے، جس نے ہزاروں مسلمانوں کا خون کیا ۔ اندرون ملک ہی نہیں، دُنیا بھر میں اسے ایک ’’مجرم‘‘ اور سنگدل شخص کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

مخالف سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں نے مودی کے اصل عزائم اور سیاسی بصیرت کا پردہ چاک کر دیا ہے، اب بھی اس نے صرف اپنی سیاسی پوزیشن کو سنبھالا دینے کے لئے اس خطے میں امن کو داؤ پر لگا دیا ہے،مگر پاکستان کی قیادت چونکہ اس کے عزائم سے آگاہ ہے،لہٰذا کوشش کر رہی ہے کہ خطے کا امن برباد نہ ہو،یہ بات درست ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ’’جنگ‘‘ اب آخری ’’جنگ‘‘ بھی ہو سکتی ہے۔دونوں ایٹمی ملک ہیں۔ سو ان حالات میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر دونوں طرف سے جوش سے کام لیا گیا تو پھر ’’امن‘‘ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے بہت اچھی بات کی ہے کہ ہم ’’جنگ‘‘ تو اپنی مرضی سے شروع کر سکتے ہیں، مگر پھر اس جنگ کو اپنی مرضی سے ختم نہیں کر سکیں گے۔

وزیراعظم کے اس بیان میں ایک سنجیدہ پیغام بھی موجود ہے اور انہوں نے بہت اچھا بیان دیا ہے۔ سو خطے کو کسی بڑی جنگ اور تباہی سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آئیں۔ یہ وقت بندوقیں سیدھی کرنے کا نہیں، ایک دوسرے کو پھول بھیجنے کا ہے۔نئی نسل کے درمیان باوقار دوستی کا ہے، ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ کا ساتھی بننے کا ہے ،اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہئے،اس میں خطے کے ڈیڑھ ارب عوام کا مفاد ہے۔ اس خطے کو بارود کی بُو سے بچانے کی ضرورت ہے اور یاد رکھا جائے کہ اگر ہم نے ایک دوسرے کی طرف محبت کا ہاتھ نہ بڑھایا تو دونوں ممالک کے ’’بدخواہ‘‘ ایسے حالات پیدا کر دیں گے کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنی ’’انگلی‘‘ ایک خوفناک جانب بڑھا سکتا ہے۔سو ایسی صورتِ حال سے بچنے کے لئے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لینا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم