کارپوریٹ بھارت اور جنگ کا امکان؟

کارپوریٹ بھارت اور جنگ کا امکان؟
کارپوریٹ بھارت اور جنگ کا امکان؟

  


معروف برطانوی ناول نگار جارج آرول کے مطابق جنگ ایک ایسا ہتھیار ہے،جس کو حکمران طبقات اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے ممالک کے حکمران طبقات جو اپنے داخلی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکے ہوں،وہ ہمیشہ اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لئے جنگ کا ہی سہارا لیتے ہیں۔ 14فروری کو پلوامہ حملے کے بعد مودی حکومت نے جس جنگی جنون کا مظاہرہ کیا،وہ اپنی نا کامیوں سے توجہ ہٹانے کی ہی کوشش ہے۔ بھارت میں اس سال اپریل اور مئی میں لوک سبھا کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور مودی حکومت چونکہ کشمیر سمیت کئی داخلی محاذوں پر شدید مشکلات کا شکار ہے، اس لئے ان مشکلات سے عوام اور دُنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے جنگی حالات پیدا کرنے ،سرجیکل اسٹرائیک کے ڈرامے رچانے اور پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دینے پر مجبور ہیں۔ بھارتی حکمران اور میڈیا پرسن پا کستان کے خلاف جنگ کی جتنی بھی دھمکیاں دیتے رہیں، مگر بعض انتہائی وجوہات کی بنا پر بھارت ،پاکستان کے خلاف با قاعدہ جنگ کا آغاز نہیں کر سکتا ۔

اس سلسلے میں اگر ہم تین ایسے نکات پر غور کریں،جو بھارت کو پاکستان کے خلاف با قاعدہ جنگ سے روکنے کے حوالے سے خاصی اہمیت کے حامل ہیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ مودی حکومت کی دھمکیاں محض گیدڑ بھبھکیاں ہیں۔ ’’جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں‘‘ کے مطابق اس وقت مودی سرکار بھی صرف گرج رہی ہے، اس میں برسنے کی سکت نہیں۔ سب سے پہلا اور اہم نکتہ یہ ہے کہ 1990ء کی دہا ئی میں نرسیماراؤ حکومت کے وزیر خزانہ ڈاکٹر من مو ہن سنگھ (سابق وزیراعظم) نے بھارت کی خود انحصاری پر مبنی معیشت کو مکمل طور پر لبرل اور آزاد منڈی کے اصولوں کے مطابق استوار کرنا شروع کیا۔ جمود زدہ اور ساکن معیشت کو جب بیرونی سرمایہ کاری کے لئے کھولا گیا تو کچھ ہی عرصے بعد امریکی اور یورپی سرمایہ داروں نے بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری شروع کر دی اور دیکھتے ہی دیکھتے بھارت میں کارپوریٹ سیکٹر معاشی افق پر چھا گیا۔ اس کارپوریٹ سیکٹر نے جہاں دیگر مسائل پیدا کئے، وہیں پر اس کارپوریٹ سیکٹر کا اربوں روپیہ بھارتی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے لگا۔

قومی اور ریاستی حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ و معاشی پالیسیاں حتیٰ کہ خارجہ پالیسی کو بھی اس کارپوریٹ سیکٹر کے مفادات کے لئے تشکیل دیا جانے لگا۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بھارت کے دفاعی اور تجارتی معاہدے بھی دراصل اس کارپوریٹ سیکٹر کے اثر و رسوخ کے تحت ہوئے۔ 1999ء کے بعد بی جے پی حکومت نے اس عمل کو مزید تیز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ممبئی ، دہلی، کلکتہ، حیدر آباد دکن، چنائی، بنگلورکارپوریٹ شہر بن گئے۔ 2004ء کے انتخابات میں یہ واضح تھا کہ اگر کانگرس انتخاب جیتی تو سونیا گاندھی ہی بھارت کی وزیراعظم بنے گی،مگر کانگرس کی انتخابات میں کامیابی کے بعد ڈرامائی انداز سے مغربی معاشی اداروں کے ملازم ڈاکٹر من موہن سنگھ کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔ دراصل بھارت میں کارپوریٹ سیکٹر کے نمائندوں کو کانگرس میں سب سے زیادہ بھروسہ من موہن سنگھ پر ہی تھا، کیونکہ من موہن سنگھ ہی کارپوریٹ سیکٹر نمائندوں کے مفادات کا بہترین تحفظ کر سکتا تھا۔

2008ء میں جب من موہن سنگھ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو کارپوریٹ سیکٹر کا اربوں روپیہ استعمال کرتے ہوئے کئی سیاست دانوں کو من موہن سنگھ کی حمایت کے لئے تیار کیا گیا اور کئی بھارتی تجزیہ نگار وں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ من موہن سنگھ کو کارپوریٹ سیکٹر نے ہی تحریک عدم اعتماد میں ناکامی سے بچایا۔اس کے بعد 2014ء کے بھارتی انتخابات میںیہ حقیقت کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ اس مرتبہ بھارتی کارپوریٹ سیکٹرنے اپنی امیدوں کا مرکز بھارتی وزیر اعظم مودی کو بنایا اور انتخابات میں مودی اور بی جے پی کے لئے اربوں کی سرما یہ کاری کی، کیونکہ ’’گجرات ماڈل‘‘ کے نام پر مودی نے اپنے آپ کو کارپوریٹ سیکٹر کا بہترین نما ئندہ ثابت کیا تھا۔ ان سب حقائق سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ بھارتی سیاست 1990ء کی دہائی کے بعد مکمل طور پر کارپوریٹ سیکٹر کے نرغے میں آچکی ہے۔ سیاست کے کارپوریٹ سیکٹر کے نرغے میں آنے کا مطلب ہے کہ داخلی پالیسیوں سے لے کر خارجہ پالیسیاں تک اس کارپوریٹ سیکٹر کے مفادات کی اسیر ہیں۔ حکومتی و عوامی خواہش کے باوجود کسی بھی ایسے فعل سے مکمل طور پر اجتناب کیا جاتا ہے، جس سے کارپوریٹ سیکٹر کے مفادات پر ضرب پڑنے کا خطرہ موجود ہو۔ اس تجزیئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت کوئی بھی عمل اپنی مرضی کا نہیں اٹھا سکتی، جب تک کہ اس عمل کو اس سیکٹر کی مکمل تائید حاصل نہ ہو اور اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ اگر بھارت، پاکستان پر کسی بھی طرح کا چھوٹایا بڑا حملہ کرتا ہے تو پاک فوج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں ممبئی، کلکتہ، دہلی، بنگلور اور حیدر آباد دکن میں موجود اربوں ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر بھی شدید طور پر متاثر ہوگا۔

حال ہی میں سرجیکل حملے کے بعد ممبئی سٹاک ایکسچینج میں گراوٹ اس حقیقت کی جانب ایک اشارہ ہے۔پاکستان کے خلاف کسی بھی طرح کی جارحیت سے نہ صرف بھارت میں بیرونی سرمایہ کاری رک جائے گی،بلکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی اپنے سرمائے سمیت بھارت سے چلے جائیں گے،جس کا بھارت میں موجود کارپوریٹ سیکٹر تصور بھی نہیں کر سکتا اور بھارتی حکومت بھی اس امر سے بخوبی واقف ہے۔دوسرا نکتہ یہ ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس ادارے بشمول بھارت کی فوج یہ جانتے ہیں کہ اگر بھارت، پاکستان پر کسی طرح کا بڑا فضائی حملہ کرکے اپنے مطلوبہ مقاصد کو وقتی طور پر حاصل کر بھی کر لیتا ہے یا روایتی جنگ کے محاذوں پر اپنی زیادہ فوجی و عسکری قوت یا ٹیکنالوجی کی وجہ سے جنگ کے دوران پاکستان پر حاوی رہتا ہے تو بھارت ،پاکستان کو مجبور کر دے گا کہ وہ اپنی ایٹمی صلاحیت، خاص طور پر ٹیکٹیکل کہلائے جانے والے چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کو بروئے کار لا کر جنگ کا نقشہ ہی بدل دے۔ یہ ایسا خطرہ ہے جس کے پیش نظر بھارت، پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچے گا۔

تیسرا اور آخری نکتہ خارجی عوامل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔بھارتی حکمران طبقات یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس وقت امریکہ ، افغانستان کی جنگ سے اپنی جان چھڑانا چا ہتا ہے اور اس مقصد کے لئے پا کستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ امریکہ، بھارت کے ساتھ اپنے بھرپور تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی حکمرانوں کو یہ باور کروا چکا ہے کہ بھارت کوئی ایسا اقدام نہ کرے،جس سے اس خطے میں امریکہ کے مسائل میں اضافہ ہو، جبکہ اس تیسرے نکتے کا ایک اور جزوی پہلو یہ ہے کہ بھارت جانتا ہے کہ چین اس وقت پاکستان میں سی پیک کے منصوبوں پر اربوں کی سرمایہ داری کر رہاہے، وہ کسی بھی صورت میں اپنے اس انتہائی اہم منصوبے کو پاک بھارت جنگ کی نذر نہیں ہونے دے گا۔ان سب نکات کے باوجود مودی سرکار پلوامہ حملے کے بعد آئے روز پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہی ہے تو اس کی واحد وجہ یہی ہے مود ی حکومت کی نظریں اس سال اپریل ، مئی کے انتخابات پر لگی ہوئی ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے کے سرویز کے مطابق مودی سرکار کی معاشی ناکامیوں اور متعصب پالیسیوں کے باعث بی جے پی کو اب پہلے جیسی مقبولیت حاصل نہیں رہی۔اپوزیشن جماعتیں ان حالات کا پورا فائدہ اٹھا کر اپنی انتخابی کامیابی کو یقینی بنا رہی ہیں، ایسے میں بی جے پی کی قیادت کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے کر اپنے ملک میں ایک جنگی صورتِ حال کو قائم رکھے اور بھارتی عوام کو اس جنگی ماحول میں رکھ کر انتخابات میں پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دینے کا پورا فائدہ حاصل کیا جائے،اِس لئے بھارتی حکمرانوں کی جنگ کی دھمکیاں صرف گیدڑ بھبھکیاں ہیں اور ان دھمکیوں کا اصل مقصد بھی سرا سر سیاسی ہے۔

مزید : رائے /کالم