سعودی عرب نے اسامہ بن لادن کے بیٹے کے خلاف بڑا قدم اٹھالیا

سعودی عرب نے اسامہ بن لادن کے بیٹے کے خلاف بڑا قدم اٹھالیا
سعودی عرب نے اسامہ بن لادن کے بیٹے کے خلاف بڑا قدم اٹھالیا

  


جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب نے اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اس کی سعودی شہریت ختم کردی۔ میل آن لائن کے مطابق سعودی حکومت کی طرف سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ہی روز قبل امریکہ کی طرف سے حمزہ بن لادن کی موجودگی کی اطلاع دینے پر 10لاکھ ڈالر(تقریباً13کروڑ 86لاکھ روپے) انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔حمزہ بن لادن کی شہریت ساقط کرنے کا شاہی فرمان (15690 ، 21 ربیع الاول 1440ھ ) کو جاری ہوا تھا۔سعودی حکومت کی طرف سے جاری اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ام القریٰ سرکاری گزٹ کے ریکارڈ پر بھی جاری کردیا گیاہے۔

حمزہ بن لادن کی موجودگی کی جگہ کے حوالے سے سالوں سے کئی طرح کی افواہیں گردش میں ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق وہ پاکستان، افغانستان، شام اور ایران جیسے ممالک میں سے کسی ایک میں موجود ہے۔ زیادہ تر رپورٹس میں شک کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ پاک افغان سرحدی علاقے میں موجود ہو سکتا ہے۔حمزہ بن لادن کی جانب سے گزشتہ سالوں کے دوران کئی آڈیو اور ویڈیو پیغامات جاری کیے گئے جن میں تنظیم کے جنگجوو¿ں سے کہا گیا کہ وہ اس کے والد کی موت کا بدلہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے لیں۔امریکہ نے دو سال قبل حمزہ بن لادن کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔

برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نے اگست 2018 میں اسامہ بن لادن کے سوتیلے بھائی احمد العطاس کا ایک انٹرویو شائع کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ حمزہ بن لادن نے القاعدہ میں اہم جگہ بنالی ہے تاکہ اپنے والد کی موت کا بدلہ لے سکے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری اطلاع کے مطابق حمزہ بن لادن نے نائن الیون حملے کے اصل کردار محمد عطا کی بیٹی سے شادی کرلی ہے تاہم وہ پوری طرح آگاہ نہیں تھے کہ وہ اب کہاں ہیں؟حمزہ بن لادن، اسامہ بن لادن کی تیسری شریک حیات خیریہ صابر کے بطن سے پیدا ہوئے۔ خیریہ صابر اس وقت ایبٹ آباد کے اس کمپاو¿نڈ میں موجود تھیں جب امریکی فوجیوں نے آپریشن کیا تھا۔

مزید : عرب دنیا