آئیے آئیے ”نندن جی“ آپ کا سواگت ہے، نمسکار

آئیے آئیے ”نندن جی“ آپ کا سواگت ہے، نمسکار
 آئیے آئیے ”نندن جی“ آپ کا سواگت ہے، نمسکار

  


آئیے آئیے ”نندن جی“ خوش آمدید، آپ کا سواگت ہے، نمسکار۔

ارے مگر آپ یہ کس طرح آئے ہیں اوپر سے اچانک اڑڑڑڑا دھم۔

اور یہ زمین پر کیوں پڑے ہیں بھیا! اوہو، آپ کو پاکستان کی سرزمین سے اتنا پیار ہے کہ آتے ہی اسے چوم رہے ہیں۔

اگر یوں ہی آنا تھا تو آتے ہی کہتے:

کودا ترے گھر میں کوئی یوں دھم سے نہ ہوگا

وہ کام ہُوا ہم سے جو رُستم سے نہ ہوگا

مگر آپ تو یوں گِرے جیسے اپنی سرکار سے کہہ رہے ہوں ”مارے سے نہ ہوگا بھایا۔“

پاکستان آنے کی اتنی ہی اِچھا تھی تو واہگہ سے آتے، کھوکھراپار سے آتے، چلیے جہاں سے آئے وہیں سے آتے مگر عزت سے طریقے سے تو آتے۔ جوں ہی آپ آتے ہم جھوم جھوم کر گاتے:

آئے پیا مورے دوار، سکھی ری، آئے پیا مورے دوار

دیارا گھی کے جلائو سکھی ری، انگنا میں آئی بہار

ہم تو اتنے جذباتی مہمان نواز ہیں کہ آپ کی خوںخوار تلوار جیسی مونچھوں کے باوجود آپ کے درشن ہوتے ہی لہک لہک کر گانے لگتے:

مرے گھر آئی ایک ننھی پَری

چاندنی کے حسین رتھ پہ سوار

ہو ہو ہو

مرے گھر آئی ایک ننھی پَری

یہ الگ بات ہے کہ یہ گیت سُن کر جو لوگ تڑپتے ہوئے آپ کے دیدار کو آتے وہ ہمارے سَر پر چَپت لگا کر کہتے ”چل ہٹ پَرے، فِٹے منہ، اے دیو تینوں پَری لگدا اے۔“

آپ تو کٹی پتنگ بلکہ پھٹی پتنگ اور گھائل پتنگے کی طرح ہمارے آنگن میں آن گِرے ہیں۔ گرے کیا ہیں، بہت ہی گِر گئے ہیں۔ چلیے آپ کے استقبال کے لیے دیے نہیں جلائے تو کیا ہوا، پورے کا پورا طیارہ جلا کر آپ کا سواگت کیا ہے، ہماری شاعری کی سمجھ بوجھ آپ کے نریندر مودی جی کی جنگی مہارت جیسی ہی ہے، مگر موقع بے موقع شعر اور مصرعوں کا استعمال ہمارا شوق ہے، سو آپ کو خوش آمدید کہنے کے لیے جلتے طیارے کو دیکھ کر دماغ میں یہ مصرعہ گونجا”یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔“

نندن جی! آپ بن بُلائے مہمان ہیں، بلائے جان بن کر آئے تھے اور اپنی جان مصیبت میں ڈال بیٹھے، مگر ہیں تو ہمارے مہمان ناں، کہیے کیا سیوا کریں؟ اپنے لیے تو ہم نے آپ کی گﺅماتا کے کباب بنائے تھے، وہ آپ کی پوجا کے کام آجائیں گے، بھوجن کے لیے ہم کوئی بھاجی بنادیتے ہیں، آپ کہیں گے تو چنے کی دال پیش کردیں گے، یہ وہی دال ہے جس کے بارے میں مشہور محاورہ ہے، ”پانڈے جی پچھتائیں گے، پھر وہی چِنے کی دال کھائیں گے۔“

ان دنوں یہ محاورہ آپ کی دہلی سرکار پر صادق آرہا ہے۔ مودی جی یُدھ کی دھمکیاں دے کر پچھتارہے ہیں اور امن کا تڑکا لگی چَِنے کی دال کھارہے ہیں، حالاں کہ چُنائو کے موقع پر یہ چنے کی دال کھانا اُنھیں گوارا نہیں ہوتا، ان دنوں تو لگتا ہے اُن میں ماس کی طلب جاگ اُٹھتی ہے، لیکن ان کا لب ولہجہ بتارہا ہے کہ یا تو انھیں آٹے دال کا بھائو معلوم ہوگیا ہے یا دال میں کچھ کالا ہے۔ ہم نے آپ کی تواضع مسور کی دال سے کرنے کی ٹھانی، مگر یہ سوچ کر ارادہ بدل لیا کہ یہ منہ اور مسور کی دال۔

بہت تھک گئے ہوں گے، یہ لیجیے، چَھٹی کا دودھ پیجیے تاکہ تھکن دور ہو، پھر دیکھتے ہیں آپ کو کیا کھلائیں۔ ویسے آپ اگر کسی ”مُسلے“ کے ملیچھ ہاتھوں کا نہ کھانا چاہیں تو خود پکالیںِ، لیکن دال مت پکائیے گا کیوں کہ آپ کی دال گلتی نہیں۔ بھوک زیادہ ہو تو انگور حاضر کریں؟ کیا کہا، انگور کھٹے ہیں۔ اگر آپ ”شاکاہاری“ نہیں اور گوشت بھی کھالیتے ہیں تو دسترخوان پر بکرے کا گوشت سجادیں؟ ارے نہیں آپ تو خود بَلی کا بکرا ہیں، اپنے بھائی کا گوشت کیسے کھائیں گے۔ ویسے آپ کے مودی جی کو مُرغی کی ایک ٹانگ بہت پسند ہے، تو مُرغی پکالیں؟ ارے آپ تو ہماری پیش کشوں میں سِرے سے دل چسپی ہی نہیں لے رہے۔ لگتا ہے پیٹ بھرا ہوا ہے مہاشے کا، آہاں، خیالی پُلائو کھا کے آئے ہیں ناں اپنے دیش سے، سوچا ہوگا میٹھا پاکستان جاکر کھائوں گا، پاکستان کو حلوہ سمجھا تھا، مگر یہاں کھانے کو ٹیڑھی کھیر ملی۔

چلیے کھانے کو چھوڑیے، اور سُنائیے، جیسے آنا ہوا وہ تو ہم نے دیکھ ہی لیا، یہ فرمائیے کیسے آنا ہُوا۔ لگتا ہے ”تیری وادی وادی گھوموں، تیرا کونا کونا چوموں“ کا ارادہ لے کر پاکستان کی سیر کو آئے تھے، اسی لیے ایک کونے میں آگرے، مگر سیر کرنے کے بہ جائے بدقسمتی سے اسیر ہوگئے۔ اچھا ہوا اپنے لیے آپ نے آزاد کشمیر کا کونا چُنا، سندھ اور بلوچستان میں کھجور کے درخت ہیںِ، وہاں آسمان سے گِرتے تو کھجور میں اَٹک جاتے اور اب تک لٹک ہی رہے ہوتے۔

ہوسکتا ہے کوئی آپ کو کن کھجورا سمجھ کر نیچے سے نشانہ بنالیتا اور آپ جتنی رفتار سے نیچے آئے تھے اس سے کہیں زیادہ تیزرفتاری سے ”اوپر“ چلے جاتے۔ خیر نندن بھیا! آپ جس بھی مقصد سے آئے ہوں، ایک بات یاد رکھیے، کسی دوسرے ملک جانے کے لیے ویزا لگوانا پڑتا ہے، ورنہ گولی لگتی ہے، جوتے لگتے ہیں، تھپڑ لگتے ہیں، کیوں کہ ایسے مہمان کسی کو اچھے نہیں لگتے۔ایک بات تو بتائیے۔ آپ کا دیش ہمیں اپنی تمام مصنوعات دینے سے انکاری ہے، اب وہ نہ ٹماٹر بھیجے گا نہ فلمیں، پھر آپ کو کیوں بھیج دیا؟ آپ کو آپ کی سرکار نے ٹماٹر سے بھی گیا گزرا سمجھ لیا۔ یہ سُن کر آپ کا منہ لال ٹماٹر ہوگیا مگر کیا کریں سوال تو بنتا ہے ناں۔ ایک بات بتائیں، آپ کی آمد نے بھارتی فلموں اور ٹماٹر دونوں کا ازالہ کردیا، آپ کی وڈیو کی صورت میں ہم پاکستانیوں کو ایک شان دار فلم میسر آئی اور ہمارے چہرے خوشی سے ٹماٹر کی طرح سُرخ ہوگئے۔

سب چھوڑیے، یہ تو بتائیے آپ کی مونچھوں کا راز کیا ہے۔ یہ مونچھیں دیکھ کر ہمیں آپ کے دیش کی فلم ”شرابی“ کا ایک مکالمہ یاد آگیا ”مونچھے ہوں تو نتھو لال جیسی ورنہ نہ ہوں۔“ ان مونچھوں کی وجہ سے آپ پائلٹ سے زیادہ رنگروٹ اور حوالدار لگتے ہیں۔ بڑی محنت سے بڑھائی اور تراشی گئی ان مونچھوں کے بہ جائے آپ پونچھ لگوالیتے تو دُم دباکر بھاگ جاتے پکڑے نہ جاتے۔ خیر اب تو جو ہونا تھا ہوچکا، مگر اس سب میں آپ کی مونچھ نیچی ہوگئی اور آپ کی سرکار اور سینا کی مونچھ کٹ گئی، ساتھ ناک بھی گئی۔

اُمید ہے آپ اور آپ کے پیٹی بند بھائیوں میں سے کوئی بھی آئندہ یوں پاکستان نہ آئے گا۔ سُنا ہے آپ واپس بھیجے جانے والے ہیں، اپنے دیش میں پہنچتے ہی ایک کام کیجیے گا، اپنا نام ”ابھی نندن“ سے بدل کر ”کبھی نندن“ رکھ لیجیے گا، یہ نام کا اختصار ہے، پورا نام ہوگا ”کبھی نندن پاکستان نہ جائے گا بھیا۔“

۔

(محمد عثمان جامعی معروف صحافی، بلاگر، مزاح نگار، شاعر اور کہانی کار ہیں۔ وہ معروف قومی اخبار میں میگزین انچارج کے  فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ان کی فکاہیہ تحریروں پر مبنی کتاب ”کہے بغیر“ اور شعری مجموعہ ”میں بس اک دیوار“ شایع ہوچکے ہیں۔ ان کے فکاہیہ بلاگ، سنجیدہ تحریریں اور شاعری مختلف ویب سائٹس پر شایع ہوتی رہی ہیں،اب ان کی جاندار تحریریں قارئین  ’’ڈیلی پاکستان آن لائن ‘‘ پر بھی شایع ہوں گی ،قارئین ان سے Usman.jamai@express.com.pk پر رابطہ کر سکتے ہیں۔)

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ