بلوچستان میں شدید بارشوں اور برفباری کے بعد صوبائی  حکومت نے صوبہ بھر میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی ،میٹرک کے امتحانات بھی منسوخ

بلوچستان میں شدید بارشوں اور برفباری کے بعد صوبائی  حکومت نے صوبہ بھر میں ...
بلوچستان میں شدید بارشوں اور برفباری کے بعد صوبائی  حکومت نے صوبہ بھر میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی ،میٹرک کے امتحانات بھی منسوخ

  


کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)بلوچستان میں شدید بارشوں اور برفباری کے بعد  حکومت نے صوبہ بھر میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے میٹرک کے امتحانات منسوخ کر دیئے ہیں جبکہ سیلابی ریلوں میں بہہ جانے سے بچوں سمیت 5افراد جاں بحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 15افراد زخمی ہوگئے ہیں،دوسری طرف میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے بھی موجودہ بارشوں اور برفباری سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر شہر میں ایمرجنسی نافذ کر تے ہوئے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے تمام ملازمین کو اپنی جائے تعیناتی پر موجود رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور برفباری کے باعث سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے کئی رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں، کوئٹہ،چمن ،خضدار ،پشین ،دالبندین اور بیلہ میں کمروں کی چھتیں گرنے ،سیلابی ریلوں میں بہہ جانے سے بچوں سمیت 5افراد جاں بحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 15افراد زخمی ہوگئے ہیں،کوئٹہ اور زیارت سمیت اطراف کے دیگر علاقوں میں بھی بارش اور برفباری جاری ہے،شدید بارشوں اور برفباری کی وجہ سے کئی علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی ہے، قلعہ عبداللہ میں سیلابی ریلے نے تباہی مچائی ہے، کوئٹہ چمن شاہراہ پر واقع مشہور باغک پل سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے،سیلابی پانی شہر میں داخل ہوگیا ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کے کاموں میں مصروف ہیں۔

 حکومت بلوچستان نے صوبے میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے  تمام ایم ایس ، ڈاکٹروں اور پیر امیڈیکل سٹاف کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔سیکرٹری صحت بلوچستان نے کہا ہے کہ ضروری ادویات کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔دوسری طرف بلوچستان میں 2 روز سے ہونے والی مسلسل بارشوں اور برفباری کے بعد صوبےکےتمام اضلاع میں امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں،بارش،برفباری سےمتاثرہ خاندانوں کیلیےپی ڈی ایم اےکی طرف سے ضروری اشیاکی ترسیل کی جارہی ہے جن میں اشیائےخور و نوش،گرم ملبوسات اور ٹینٹ شامل ہیں جبکہ نیوکاہان اورکچلاک میں متاثرین کیلیے پکی پکائی دیگیں بھی روانہ کی گئی ہیں ۔کمشنر ژوب بشیر بازئی نے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہعوام قلعہ سیف اللہ روڈ پر سفر نہ کریں،برف باری سے کوئٹہ قلعہ سیف اللہ روڈ شدید متاثر ہے اور قلعہ سیف اللہ کے علاقے کان مہترزئی میں دو روز سے برف باری جاری ہے ۔

دوسری طرف کوئٹہ سبی شاہراہ بند ہونےسے سینکڑوں گاڑیاں پھنس چکی ہیں اور ان گاڑیوں کے مسافر شدید پریشانی کا شکار ہیں جبکہ کھانے پینے کی اشیا بھی ختم ہو چکی ہیں جبکہ ضلع بولان کے علاقے گوکرت کے برساتی نالے میں طغیانی آنے سے تباہی مچی ہوئی ہے ،صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر متاثرین کی مشکلات کم کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے ۔ نوشکی میں موسلا دھار بارش کے باعث مشرقی قادر آباد کا حفاظتی بند ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا خدشہ ہےجس کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر نوشکی نے مشینری علاقے میں پہنچا دی ہے۔مختلف اضلاع بڑے پیمانے پر گھروں، عمارتوں، پلوں، سڑکوں اور ڈیموں کو بھی نقصان پہنچا ہیں جس کی وجہ سے مختلف علاقوں اور اضلاع کا ایک دوسرے سے زمینی رابطے مکمل طور پر منقطع ہو گئے ہیں۔

ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ میر فاروق لانگو کی ہدایت پر  شہر کے مختلف علاقوں میں مسلسل برفباری اور بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر  تمام ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور انہیں اپنی جائے تعیناتی پر حاضر ہونے کی ہدایت کردی گئی ہے  جس کے بعد شہر میں پانی کو سڑکوں سے اٹھانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے کی اطلاعات پر مذکورہ علاقوں میں فوری طور پر سکر مشینیں اور ڈی واٹرنگ یونٹ کے عملے کو روانہ کر دیا گیا ہے جب کہ مختلف علاقوں میں سڑکوں پر گرے درخت کو بھی اٹھا لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں میٹروپولٹن انتظامیہ پی ڈی ایم اے ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر محکموں کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن میر فاروق لانگو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیرضروری سفر سے اجتناب کیا جائے اور بچوں کو سردی سے بچانے کے لئے مناسب لباس اور حفاظتی تدابیر اختیار کرے ایمرجنسی کی صورت میں میٹروپولٹن کارپوریشن کے کنٹرول روم کو فوری طور پر اس نمبر 081 9201 686  پر رابطہ کریں۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ