ہماری میزائیل ٹیکنالوجی بھارت سے کسی طرح بھی کم نہیں، بھارت کے تمام علاقے پاکستانی میزائلوں کی رینج میں ہیں:جنرل (ر) احسان الحق

 ہماری میزائیل ٹیکنالوجی بھارت سے کسی طرح بھی کم نہیں، بھارت کے تمام علاقے ...
 ہماری میزائیل ٹیکنالوجی بھارت سے کسی طرح بھی کم نہیں، بھارت کے تمام علاقے پاکستانی میزائلوں کی رینج میں ہیں:جنرل (ر) احسان الحق

  


اسلام آباد(صباح نیوز)سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) احسان الحق نے کہا کہ بھارت کے تمام علاقے پاکستانی میزائلوں کی رینج میں ہیں، ہماری میزائیل ٹیکنالوجی بھارت سے کسی طرح بھی کم نہیں ہے پاک بھارت دفاعی صلاحیت میں کوئی نہیں جیت سکے گا ،یہ سوچ  بھی نہیں رکھنی چاہیے باہمی تباہی ہو گی دونوں تباہ ہونگے، بھارتی انتخابات تک پاکستان کوہر لحاظ سے تیار رہنا چاہیے کیونکہ بھارت میں جنگ کرنے نہ کرنے دونوں طرح  کی سوچ پائی جاتی تھی جبکہ  اب بھی بھارت کچھ بھی کرسکتاہے،بھارتی خارجہ اور دفاع  کی پالیسیوں کی شکل میں بھی وہ ہندو واتو کا  پرچار ہورہا ہے  ۔

 ایک انٹرویومیں جنرل (ر) احسان الحق نے کہا کہ بھارت پاکستان کو دھمکیاں دینے کے لیے ایسے حادثے کا انتظار کررہاتھا جو ان کے انتخابی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے، پلوامہ واقعہ سے بحران پیدا ہوا دس دنوں میں کھلی جارحیت کرتے ہوئے بالا کوٹ پر حملہ کیا  گیا ۔انھوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے نیا نمونہ نئی شکل پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے  بھارت بنیادی نوعیت کی تبدیلی لانا چاہتا ہے، بھارت اسرائیلی فوجی سامان کے علاوہ اسرائیلی سوچ بھی یہاں لانا چاہتا ہے،  اصل اسرائیل سرحد عبور کرنے کی سوچ رکھتا ہے ، یہی بھارت کو سکھا رہا ہے،کولڈ ڈاکٹرئن وار اسی کی کڑی ہے، بھارت ایٹمی  ہتھیاروں کی پروانہ کرتے ہوئے محدود روایتی ہتھیاروں کی جنگ  کی سوچ رکھتاہے ،یہ جنگ بھی بھارت کو بھی تباہ کردیگی، بھارت چاہتا  اس سے پہلے کہ  کوئی عالمی قوت مداخلت کرے  وہ محدود وار کر سکتا ہے سرحد پر فوج کو رکھے گا ،اگرچہ بھارت کے پاس روایتی ہتھیار اور قابلیت ہم سے  زیادہ ہے تاہم  اتنی زیادہ  بھی نہ ہے کہ وہ پاکستان کو شکست دے سکے ۔

انہوں نے کہا کہ  ہم مقابلہ  کر سکتے ہیں ،روایتی جنگ نتیجہ بھی بھارت کے حق میں نہیں آئے گا ،پاکستان کی واضح سوچ ہے  ہم حملہ آور قوت نہ ہے،ہماری سوچ دفاعی  ہے  ،بھارت  پر حملہ نہیں کرنا چاہتے ، بھارت کو چار گنا  سے زیادہ دفاعی قوت چاہیے شکست دینے کو، ایسی قوت بھارت کے پاس نہ ہے ،اگر یہ لڑائی صرف کشمیر میں ہو  تو ہم زیادہ  بہترین انداز میں  لڑ سکتے ہیں بلکہ آگے تک جا سکتے ہیں، اگر سرحدوں تک  جنگ پھیلائی گئی تو ایٹمی جنگ  خطرات بڑھ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارت  خود اس خطرے کا متحمل نہیں ہو سکے گا ،ایٹمی ہتھیار جنگ سے بچنے کے لیے ہوتے ہیں لڑنے کے  لیے نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہم پر کوئی حملہ نہ کرے ،دفاعی صلاحیت اس لیے ہے کوئی  اور بھی جارحانہ سوچ نہ رکھے،ہمارے میزائل کی گنجائش بھارت کو معلوم ہے ، بھارت کا کوئی ایسا علاقہ نہیں ہے جو ہمارے رینج سے باہر ہو۔

جنرل(ر) احسان الحق کا کہنا تھا کہ  ہماری ٹیکنالوجی بھارت سے کسی طرح بھی کم نہ ہے پاک بھارت دفاعی صلاحیت میں کوئی نہیں جیت سکے گا یہ سوچ نہ رکھنی چاہیے باہمی تباہی ہو گی دونوں تباہ ہونگے،ایٹمی جنگ پاگل پن قرار دیا جاتا ہے،ایٹمی جنگ پر بات ہی نہیں ہونی،ہمارے ایٹم بم جنگ لڑنے کے لیے نیہں دفاع کے لیے ہیں، ہندو واتو کی سوچ کی وجہ  سے برصغیر تقسیم ہوا اور  پاکستان بنا ،بھارت کی خارجہ اور دفاع  کی پالیسیوں کی شکل میں بھی وہ ہندو واتو کا  پرچار ہورہا ہے ، عالمی برادری  سمجھے۔  ہمیشہ پاکستان پر اعتراض کیا جاتا ہے   خدا نخواستہ  ایٹمی ہتھیاروں تک انتہا پسندوں کی رسائی نہ ہو جائے جبکہ یہ ناممکنات میں شامل ہے جبکہ بھارت میں ایسا عملی طور پر ہوچکا ہے،ایک انتہاء پسند وزیر اعظم بن گیا ہے اور کئی وزراء بھی انتہا پسند ہیں۔انہوں نے کہا کہ  پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو عالمی سطح پر محفوظ ترین قرار دیا جارہا ہے،دس دن میں بھارتی کاروائیاں  پر وہاں داخلی طور پر بھی  ہر جگہ تنقید ہو رہی ہے ،بھارت میں اس کی مخالفت ہے،بی جے پی ہندو واتو کا سیاسی  چہرہ ہے،فوج میں بھی اسی سوچ کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق بھارتی آرمی چیف  بی جے پی میں شامل ہے اور ڈپٹی وزیر دفاع ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت  بنیادی دیرینہ تنازعہ کشمیر ہے ،انڈیا  کو سی پیک کھٹک رہا ہے، بھارت کو سمجھ آ گئی ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں تبدیلی آ جائے گی، اس لیے بھارت  کا غصہ بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ  2014ء میں مودی کے آنے سے بھارتی تشدد میں بڑھ گیا ،برہان وانی  کو شہید کر دیا گیا، تحریک آزادی  کو بھارت اپنے لئے  براہ راست خطرہ سمجھتا ہے،پاکستان  کشمیر کو  نظر انداز  نہیں کر سکتا ،دس سال تک بچے جدوجہد میں شریک ہیں، یہ مدرسے سے نہیں،سولہ،اٹھارہ بیس سالہ نوجوان کا یونیورسٹی سے آئے ہیں، تحریک آزادی کشمیر  سے سب سے زیادہ بھارتی جامعات میں پڑھنے والے متاثر ہوئے ہیں،کشمیری بھارت کی طرف سے مایوس ہو گئے ہیں،ان کی  واپسی ناقابل  ہے، بھارت مسئلہ کشمیر کو طاقت سے  حل کرنے کی کوشش کر چکا ہے لیکن  نوجوان اسے ماننے کو تیار  نہیں ہیں کیونکہ یہ ان کی اپنی تحریک ہے۔

مزید : قومی