جماعت اسلامی کی خواتین کا فلاحی سرگرمیوں میں اہم کردار ہے:دردانہ صدیقی

  جماعت اسلامی کی خواتین کا فلاحی سرگرمیوں میں اہم کردار ہے:دردانہ صدیقی

  



لاہور(نیوز رپورٹر)عورت ہمارے معاشرے کا اہم جزو ہے جس کے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کی جاسکتیں، پاکستان میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کررہی ہیں ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے زیر اہتمام”عور ت، خاندان اور معاشرے کادھڑکتا دل“کے عنوان پر سیمینارمیں مقررین نے کیا۔ مہمان خصوصی کے فرائض آشفہ ریاض فتیانہ نے سر انجام دیے جبکہ صدارت سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین دردانہ صدیقی نے کی۔ مہمانان گرامی میں سسٹر گلوریہ، ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر، سسٹر شمیم ایف سی کالج،میرین شرف جوزف، جرنلسٹ ہدیٰ کیانی ترکی سے جبکہ عاصمہ ال اوماری فلسطین سے ڈاکٹر ثمینہ کھوکھر، بشری ندیم وومن یونیورسٹی،ڈاکٹرامتہ زریں، مریم طالبہ(کینیڈا)، ڈاکٹر ممتاز،ڈاکٹروربا علی،پروفیسر روبینہ شبیر،عابدہ بخاری لیکچرار اسلامیہ کالج،بیگم سراج الحق،عائشہ تسلیم،ایسڈ برن فاؤنڈیشن سے فائقہ شاہد سمیت دیگر نے شرکت کی۔مقررین نے کہاپاکستان میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین کا ملک گیر ہمہ جہت کام 70 برس کی سنہری تاریخ رکھتا ہے۔ ان رضاکار خواتین نے نہ صرف دعوتِ دین کا دائرہ ملک بھر میں پھیلایا بلکہ ملک و قوم پر آنے والے ہر مشکل وقت میں پاک فوج اور حکومتی اداروں کے شانہ بشانہ اپنا بے لوث کردار ادا کیا۔جماعت اسلامی سے منسلک خواتین نے ہمیشہ قدرتی آفات، جنگوں اور سانحات کی صورت میں بروقت پہنچ کر مصیبت زدہ عورتوں بچوں کی مدد کی۔آج وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ جماعت اسلامی کے تحت عورتوں کی فلاح کا پروگرام ہمہ پہلو اور ہمہ گیر ہو چکا ہے اوراس وقت خواتین میں رفاہی کام کا ملک میں سب سے بڑا نیٹ ورک جماعت اسلامی کے تحت کام کررہا ہے۔ پسماندہ علاقوں میں عورتوں کو صحت کی سہولیات دینے کے لیے فری میڈیکل کیمپ لگائے جاتے ہیں، ساتھ ان کو حفظانِ صحت، تربیت اولاد اور بہتر خاندان کی آگاہی دی جاتی ہے۔ دعوتِ دین، اصلاح ِمعاشرہ، رفاہِ عامہ اور آگاہی کا یہ جامع پروگرام ملک کے چاروں صوبوں، شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر میں تقریبا ہر شہر اور بیشتر دیہاتوں میں جاری ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمانی سطح پر بھی ہماری خواتین جب بھی ایوانوں میں موجود رہی، انہوں نے عورت کی بہبود کے لئے قانون سازی کی، خواہ وہ جہیز کے خلاف بل کی منظوری ہو یا ملازمت کے اوقات کار میں کمی کا بل ہو یا چھوٹی بچیوں کے ساتھ بد اخلاقی کرنے والوں کی سزا میں اضافہ کا بل ہو، لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مسائل کے لئے فورم کی تشکیل، وغیرہ اور اسی نوع کے مختلف اور بلز کی وجہ سے جماعت اسلامی کی خواتین کارکردگی کے لحاظ سے ٹاپ ٹین میں شمارہوتی ہیں۔ مقررین نے مزید کہا کہ عالمی یوم خواتین کے موقع پر ہم اپنے عزم کو دہراتے ہیں کہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی جدوجہد ہر پاکستانی خاتون کے لیے ایک باعزت اور محفوظ زندگی کی جدوجہد ہے۔مقررین نے کہاعورت کا حق ہے کہ اس کی اور اس کے بچوں کی کفالت کی جائے اور اگر ضرورت پڑے تو اس کو باعزت روزگار کمانے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔ ہمارے ہاں ورکنگ ویمن کے لیے مناسب سہولتوں کا فقدان ہے۔بچے کی پیدائش اور پرورش کے لیے عورتوں کو جس طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے، ہمارے گاؤں دیہاتوں اور کئی دوردراز علاقوں میں رہنے والی عورتیں اس سے محروم ہیں۔بحیثیت انسان ہم عورت اور مرد کی برابری میں یقین رکھتے ہیں،اور یہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا پرمصنوعات بیچنے کے لیے عورت کی خوبصورتی کو استعمال کرنا بطور انسان عورت کی توہین ہے۔مقررین نے مزید کہا کہ ہمیں اس امر پر بھی گہری تشویش ہے کہ موجودہ دور میں انٹرنیٹ جس اخلاق باختگی کو فروغ دے رہا ہے اس کا براہ راست نشانہ ہمارے بچے بن رہے ہیں، خصوصاً بچی جس کی پیدائش کو ہمارے دین میں رحمت کہا گیا، اس کی حفاظت والدین کے لیے ایک پریشان کن مسئلہ بنتا جارہا ہے۔زینب اور نور جیسے واقعات ایک مسلم معاشرے کے لیے بدنما داغ ہیں۔ہم اپنے معاشرے کو بچیوں کے لیے محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس صورتحال پر بے حد تشویش ہے کہ پاکستان میں عورت جاہلانہ رسوم ورواج اور فرسودہ ذہنیت کا شکار ہوتی ہے۔ اسلام نے عورت کوبحیثیت انسان اور بحیثیت ماں بہن اور بیٹی جو تکریم بخشی ہے عمومی معاشرے میں وہ نظر نہیں آتی۔اکثر تعلیم یافتہ طبقات میں بھی عورت کواسلام کے دیے ہوئے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے اور اس کو ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔جہاں ہم اس کے لیے قانونی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، وہاں ہم سمجھتے ہیں کہ بطور مسلمان ہمارا دین ہمارے لیے سرچشمہِ ہدایت ہے اور ان غلط معاشرتی رویوں کو بھی دینی شعور کی مدد سے درست کیا جا سکتا ہے۔ہمارے ہاں منبرو محراب تبدیلی کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں اور ان کادائرہ عمل ہر جگہ پر ہے۔ یوم خواتین کے موقع پر ہم اپنے پروگرام کے ایک انقلابی نکتے کا اعلان کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ہم ملک بھر کے شہروں، قصبوں اور گاؤں میں مساجد کے آئمہ اور خطیب حضرات سے اپیل کریں گے کہ وہ اپنے خطبوں میں خواتین کے احترام اور ان کے اسلامی حقوق کا شعور معاشرے میں اجاگر کریں، خواتین کے استحصال پر مبنی رویوں اور رسوم و رواج کی حوصلہ شکنی کریں اور گھریلو تشدد کی مذمت کریں۔اس سلسلے میں ہم جلد اپنا تفصیلی پروگرام جاری کریں گے۔ مقررین نے کہا کہ عالمی یوم خواتین کے موقع پرجماعت اسلامی اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ ایک ماڈل نظام کے زریعے اس دن کو مسلمان عورت کی شان و شوکت کا دن بنائیں گے اور ان شااللہ اس حوالے سے ملک گیر سطح پر بھر پور آگہی مہم ”قوموں کی عزت ہم سے ہے “ کے عنوان سے یکم تا ۲۰ مارچ منائی جائیگی اور پورے پاکستان میں اس حوالے سے سیمینارز کاانعقادکی جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1